مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔
عید کا تیسرا دن ہے، آج اب تھکاوٹ اتار رہے ہوں گے۔ قربانی کا جانور کچھ پیٹ، کچھ تقسیم اور بہت سا فریزر میں جا چکا ہو گا۔ گوشت کی اس بسنت میں خوب خوب بوٹیاں لوٹ کر اب لیٹے← مزید پڑھیے
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں انسانوں کی سوچوں کے راہ طاقتور کی طرف سے متعین کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ طاقتور کا طاقت کا بے جا استعمال تو فطری ہے لیکن جب طاقتور کو طاقت کے← مزید پڑھیے
جو انسان حق کو جانتے بوجهتے ماننے سے انکار کر دے وہ خدا کے ہاں ابدی جہنم جیسی سخت ترین سزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔قرآن مجید ایسے سرکشوں کا تعارف” کافرین” سے کرواتا اور ان کے انجام کی خبر ابدی← مزید پڑھیے
قندیل کا باپ مجبور اور بے بس تھا. پورا معاشرہ ذمہ دار ہے اس کھلی بے انصافی کا. صرف قندیل کے باپ کو اس کے قاتلوں کو بچانے کے لیے ذمہ دار ٹھہرانا کسی طرح بھی انصاف نہیں ہے. پورا← مزید پڑھیے
دنیا میں کسی بھی قوم (یا کسی ملک کے شہریوں) کی ذہنی ترقی یا پسماندگی جاننے کے مختلف پیمانے ہیں ۔اگرچہ انہیں ایک اٹل اصول تسلیم نہیں جا سکتا تاہم ان سے اس سماج کی ایک عمومی تصویر ضرور سامنے← مزید پڑھیے
یہ پچھلے سال کی بات ہے بکرا عید کو گزرے مہینہ ہوچکا تھا ، خالد صاحب معمول کے مطابق روزانہ علی الصبح منڈے جاتے اور کچھ سبزی خرید کر سوزوکی پہ دیگر ریڑی والوں کے ساتھ واپس آتے . قریبی← مزید پڑھیے
ہر عہد میں عظیم سمجھے جانے والے روسی ادیب ٹالسٹائی کے ایک ناول کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے کہ تمام سکھی گھرانے ایک جیسے ہوتے ہیں اور ہر دکھی گھرانے کے اپنے غم ہوتے ہیں۔ اس قول کی← مزید پڑھیے
پاکستان کے عوام کی غالب تعداد مسلمان ہے، اس لئے اسلام پاکستانیوں کی ایک اہم شناخت ہے مگر اس کے ساتھ ہمیں اسلام کے اس فہم کو بھی سمجھنا ہوگا جس کو پاکستانیوں کی غالب تعداد اپنی شناخت کا اہم← مزید پڑھیے
سماج ایک زندہ نظم و ضبط کا نام ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیوں کا واقع ہونا ناگزیر ہوتا ہے۔ تبدیلیوں کا یہ عمل سست بھی پڑ سکتا ہے اور سریع بھی ہو سکتا ہے۔ کچھ تبدیلیاں← مزید پڑھیے
صحافت ایک غیر جانبدار اور معاشرے کی مثبت انداز میں تعمیر نو کا شعبہ ہوتا ہے۔ افسوس، گو سب تو نہیں مگر اکثر، پاکستانی میڈیا اس وقت سیاسی میدان میں بکاو مال ہو کر رہ گیا ہے۔ غریب کی آواز← مزید پڑھیے
انجم رضا بھائی کی دیوار گریہ پہ لکھا تھا کہ ان کے ماموں اور ریلوے ورکرز یونین کے رہنماء قربان علی شاہ نہیں رہے اور انہوں نے بتایا کہ لاہور ان کا جنازہ پڑھنے کے لئے وہ مطلوبہ مقام پہ← مزید پڑھیے
پاکستان میں غالباً غلام احمد پرویز اور ان کے مکتب فکر کے جواب میں حجیت حدیث اور انکار حدیث کی اصطلاحات متعارف ہوئیں اور کئی ایک ثقہ علماء نے بھی استعمال کیں. حیرت کی بات یہ ہے کہ مولانا تقی← مزید پڑھیے
سنہ 1501 میں فلپ کو رپورٹ ملی کہ جب تک اسلامی زبان (عربی) کے مدرسے اور کتابیں باقی رہیں گی اسلامی معاشرت بھی باقی رہے گی۔ اس رپورٹ کے مطابق عربی کو سپین سے مٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ کرونیا← مزید پڑھیے
(چوتھا حصہ ) جس طرح لاہور پر حملہ آور بھارتی افواج بین الاقوامی سرحد کے آٹھ کلومیٹر اندر بی آر بی پر روکی گئیں، اسی طرح سیالکوٹ کے محاذ پر جارح بھارتی فوج کو چونڈہ، ظفروال اور بدیانہ وغیرہ علاقے← مزید پڑھیے
اسلام ایک دین ہونے کے ساتھ اپنے متبعین کے لئے ایک ضابطہ حیات بھی ہے۔ اللہ نے جہاں ہمارے لئے حدود مقرر فرمائیں، ہم پر بحیثیت مسلمان کچھ احکامات کو لازم کیا گیا، وہیں ہمارے لئے کچھ ایسے مواقع بھی← مزید پڑھیے
(مولانا رعایت اللہ صدیقی مکالمہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر جے یو آئی کے کوئی دوست مکالمہ کرنا چاہیں، تو “مکالمہ” حاضر ہے) راقم کی تحریرکے جواب میں ہمارے ایک جماعتی ساتھی محمدیوسف خان کے فرمودات نظر نواز ہوئے۔ شاید اس← مزید پڑھیے
میں اکثر کہا کرتاہوں کہ ارتقأ کا اگلہ مرحلہ انسان کا اخلاقی طور پر بہتر ہوجاناہوگا۔ نیچرل سیلیکشن کا عظیم قانون دیکھا جائے تو ثابت ہوتاہے کہ انسان جس چھلنی سے چھانے جارہے ہیں، اب صرف وہی ڈی این اے← مزید پڑھیے
اس بات کا اندازہ مجھے تب ہوا جب امریکہ نے ایران کے ساتھ خفیہ جوہری معاہدے کئے۔ اور تو اور امریکہ نے بھارت کو بھی راضی کیا کے وہ ایران کے علاقے چاہبہار میں گوادر کی طرز پر ایک پورٹ← مزید پڑھیے
ﷲ حافظ اور خُدا حافظ کا تعلق مذہب سے ہے یا تہذیب سے ؟ عربوں کے لیے اللہ لفظ نیا نہیں تھا۔ یہ یہودیوں سے آیا تھا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ عربی نام تھا اس پروردگار کا← مزید پڑھیے
اگلے دن فیسبک پر ایک سٹیٹس لگایا کہ فیسبک ایک دار الافتاء ہے تو اس کے پیچھے گزشتہ ایک سال کا مشاہدہ تھا. چونکہ ہم من حیث القوم بھیڑ چال چلتے ہیں تو اسی کارن ابھی کچھ سال قبل دو← مزید پڑھیے