مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔
انسانی تاریخ کا مطالعہ انسان کو احساس دلاتا ہے کہ ہم مسلسل ایک ارتقائی عمل سے گذر کر اس معراج کو پہنچے ہیں۔ نظریات پیش کئے گئے پرکھے گئے اور پھر وقت نے ان نظریات کو یا تو ہمیش کے← مزید پڑھیے
گود میں بچے کو اٹھائے، اسکی زندگی بچانے کیلیے رستے کی بھیک مانگتے ہوئے ماں باپ شاید بھول گئے تھے کہ قادری کا انتقام، عمران کی للکار، اور نواز حکومت کاتحفظ، ایک غریب بچے کی زندگی سے اہم ہے۔ “قومی← مزید پڑھیے
مرزا غالب کے بردارِ نسبتی اور ریاست فیروزپورجھرکہ کے حکمران نواب شمس الدین احمد خان کی آف شور کمپنیاں تو نہیں تھیں. مگر دولت کی حرص اس قدر تھی کہ غالب کی ڈیڑھ لاکھ روپے سالانہ آمدنی والی جاگیر کی← مزید پڑھیے
ہم پشتون ہمیشہ وزن، خواہ وہ جسمانی ھو یا روحانی، کیلئے مورد الزام ٹھہرائے جاتے ہیں کہ ہمیشہ بھاری چیزوں کو یا کاموں کو پشتون کے کاندھوں پر ڈالا جاتا ھے. جیسے دھشت گردی کا بھاری پھتر ھمارے منہ پر← مزید پڑھیے
علیحدگی پسند تحریکیں انسانی سماج کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، جس نے ان گنت انسانی المیوں کو جنم دیا۔ ریاستِ پاکستاں میں بھی علیحدگی پسند تحریکیں ملک کے مختلف حصوں میں چل رہی ہیں۔ پاکستان خود بھی ایک علیحدگی← مزید پڑھیے
یونیورسٹی میں حاضری بہت کم تھی۔ زیادہ تر طالبعلموں نے میک اپ لیکچر کی بجائے اپنے تھیسس مکمل کرنے کا پروگرام بنایا تھا شائد۔ ہم سات افراد پروفیسر کے انتظار میں اپنے اپنے موبائل پر مصروف تھے کہ ہمیں پتہ← مزید پڑھیے
کراچی کے حالات اور اسکی سیاست پر لوگ کچھ اس طرح سے تبصرے کرتے ملتے ہیں کہ جیسے کراچی کے تمام مسائل اور اسکا حل صرف انکی سیاسی بصیرت اور انکے سحر انگیز تجزیاتی ٹوٹکوں کے پیچھے ہی چھپا. مجھے← مزید پڑھیے
اس نے بوسیدہ کواڑ پہ لاغر ہاتھ کا بوجھ ڈالا۔۔۔اور دروازہ چرچراتے ہوئے کھل گیا۔۔۔ وہ اس وقت ایک سرونٹ کوارٹر میں کھڑا تھا۔۔۔ سرونٹ کوارٹر۔۔۔ ایک عظیم الشان حویلی سے ملحقہ اب ایک بھوت بنگلا بنا ہوا تھا۔ اسی← مزید پڑھیے
پوچھنے والے تجھے کیسے بتائیں آخر دکھ عبارت تو نہیں جو تجھے لکھ کر بھیجیں! یہ کہانی بھی نہیں ہے کہ سُنائیں تُجھ کو نہ کوئی با ت ہے ایسی کہ بتائیں تجھ کو زخم گر ہوں تیرے ناخن کے← مزید پڑھیے
پیاری ہم جولی کیسی ہو?تم نے اماں ابا کے بارے میں پوچھا تو ایک سلسلہ چل نکلا…ایک کا ہاتھ پکڑے دوسری اور پھر تیسری یاد کا سلسلہ۔ تو سنو میرے ذہن میں اور میرے البم میں انکی پہلی تصویرمحفوظ ہے,مجھے← مزید پڑھیے
ہمارے عزیز پڑوسی ملک پاکستان کو شاید میں سوشل میڈیا کی وجہ سے ہی زیادہ بہتر انداز میں جان پایا ہوں۔ سوشل میڈیا سے پہلے تو اپنے پڑوسی کے بارے میں معلومات نہ ہونے کہ برابر ہی تھیں۔ پاکستان کے← مزید پڑھیے
کسی بھی معاشرے کی تعمیر وتشکیل میں کردار ادا کرنے والے عناصر میں ایک بنیادی عنصر یہ ہوتا ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین عملی ہم آہنگی اور رواداری کی فضا موجود ہو۔ مختلف معاشرتی عناصر کے مابین← مزید پڑھیے
پیشے کے اعتبار سےہم معلّم ہیں، اور چونکہ انگریزی زبان پڑھانے میں ماہر ہیں، اس لیے اردو زبان کے الفاظ ومعانی پر مکمل عبور رکھتے ہیں! اس نئی ویب سائٹ ‘مکالمہ’ کا آغاز ہوتے ہی جہاں اس کے صفحات پر← مزید پڑھیے
اسلام آباد سے فقط پینتالیس منٹ کا ھوائی سفر آپ کو گلگت بلتستان نامی ایک جنت نظیر وادی میں پہنچا دیتا ہے۔ ایک ایسی وادی جہاں قدرت کی صنّاعی اور خلّاقی کے ایسے ایسے مظاھر آنکھوں کو خیرہ کرنے آپ← مزید پڑھیے
زندگی موقع ضرور دیتی ہے کم نصیب کو بھی خوش نصیب کو بھی مگر اس موقع کو پہچانتا کون ہے اس سے فائدہ کون اٹھاتا ہے یہ چیز آگے چل کر انسانوں کی زندگی کو بدل دیتی ہے مثال کے← مزید پڑھیے
مکالمہ نہ ہو تو جنگ ہو تی ہے۔اختلاف بڑھتا ہے۔ شدت پیدا ہوتی ہے۔ نظریات دفن ہوتے ہیں۔عقائد ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔ ہیجان میں اضافہ ہوتا ہے۔ بات گالی سے گولی تک پہنچتی ہے۔ احساسات کا قتل ہوتا ہے۔← مزید پڑھیے
چین کی حکومت نے چینی زبان سکھانے کے لیے سکالر شپ کا اعلان کیا تو کراچی سے 61 طلبا اور 8 طالبات کو بغیر کسی اشتہار کے میرٹ کی بجائے سیاسی بنیادوں پر منتخب کر کے روانہ کیا جارہا ہے← مزید پڑھیے
آج لکھنے کے لیے قلم اور کاغذ کی حاجت نہیں رہی۔ کتاب پرانی چیز ہوگئی ہے۔ ایک عالمی گاؤں کے رہائشی ہم لوگ سائبر دور میں جی رہے ہیں۔ ہم میں سے جن لوگوں کا تعلق ادب سے ہے وہ← مزید پڑھیے
ایک نکتہ یہاں پر ذہن نشین رہنا بہت ضروری ہے کہ علمیات اور مابعد الطبیعات میں تعقل کے محدود کردار کو صرف اس لیے اجاگر کیا جاسکا کہ تعقل، مظہر اور جوہر اور بعد ازاں حسیات اور فہم کے درمیان← مزید پڑھیے
اکیس اگست 2016 سہ پہر زرداری صاحب کا فون آیا، پہلے تو سوچا کے نا اُٹھاوں پھر سوچا اتنے تو اُٹھا چکا ہوں اب اُٹھا لینے میں کیا حرج ہے،موصوف خاصے غصے میں تھے چھوٹتے ہی بولے میری جان پر← مزید پڑھیے