مکالمہ ۔۔ ہماراتہذہبی ورثہ ۔ آصف محمود
انعام رانا جیسے بانکے جوان، جن کی شوخی تحریر اپنی شرارتوں کے ہمراہ ساون موسموں کی طرح گدگداتی چلی جاتی ہے ،اگر مکالمے جیسی سنجیدہ اور علمی روایت کا احیاء کرنا چاہتے ہیں تو اس کا خیر مقدم ہی نہیں← مزید پڑھیے
