مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔
ہمسفر اچھا ہو تو وقت بے وقت سفر میں حرج ہی کیا؟ اور پھر منزل خوبصورت ہو تو پھر سفر لازم ہے۔کچھ ہی دن ہوئے ایک شام فون کی گھنٹی بجی، دوسری طرف اپنے روایتی دھنی لہجے میں علی خان← مزید پڑھیے
اگر آپ کرایہ کی گاڑی سے کہیں بھی آنا جانا چاہتے ہیں تو اس کے دو طریقے ہیں۔ (1) یاتو آپ مجموعی طور پر طے کرلیں کہ مجھے فلاں جگہ جانا ہے جس کی مسافت تقریبا اتنے کلو میٹر ہے← مزید پڑھیے
دیکھئے نام تو ہر فرد کا ہوتا ہے، بلکہ پالتو جانوروں تک کا ہوتا ہے۔ ایک نام کے ہزاروں لاکھوں افراد ہوسکتے ہیں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ان ہزاروں لاکھوں میں نام وَر کوئی خال ہی ہوتا ہے۔وہ کوئی← مزید پڑھیے
آسان اور بنا اڑچن بات کرتا ہوں۔ مثلاً اگر میں آپ دوستوں سے کہوں کہ بندہ اپنے آئی-ٹی کے شعبہ بارے کچھ دعوتِ تربیت دینا چاہتا ہے تو یقین مانیے یہ کام میرے لیے آسان نہیں ہو گا۔ ایک وجہ← مزید پڑھیے
ایلیٹ نے کسی زمانے میں شاعری کے سماجی تفاعل کے حوالے سے ایک مضمون “The social function of poetry “ لکھا تھا۔چونکہ اس مضمون کا بنیادی مقصد شاعری کے سماجی سروکار کو واضح کرنا تھا اس لیے ایلیٹ نے بنیادی← مزید پڑھیے
ان باکس کا اصل مطلب صندوق یا بکسے میں ہی ہوتا ہے۔ صندوق کے معانی سینے میں مخفی رکھنا بھی ہے۔ یادوں کا بھی ایک صندوق ہوتا ہے۔ جسے دھوپ یا ہوا لگوانے کی ضرورت نہیں ہوتی اسے سینت سینت← مزید پڑھیے
تہلکہ ڈاٹ کام کے سیاسی بیورو میں غالباً 2011 میں کام کرتے ہوئے ایک بارایڈیٹر ان چیف ترون تیج پال نے اپنے دفتر بلاکر ایک شخص سے متعارف کراتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس انکم ٹیکس محکمہ کے حوالے← مزید پڑھیے
اندازِ سخن اور (کلّیاتِ شاہد رضوی) مرتّب : رعنا رضوی صفحات: 680، قیمت: 600 ناشر: مکتبۂ رضوی، گلشنِ اقبال، کراچی۔ شاہد رضوی کا شمار ممتاز ترقّی پسند شعراءمیں ہوتا تھا، اُنہوں نے تمام زندگی ظالموں کی مذمّت← مزید پڑھیے
“Upanishads” پہلے ہندوستانی مذہب ہندومت کے ماخذوں کی تاریخ وادی سندھ کی تہذیب کے متعلق حالیہ دریافتوں میں کچھ پیچیدگی کی حامل رہی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ وادی سندھ کی تہذیب بھی میسو پوٹیمیا، چین اور مصر کی تہذیبوں← مزید پڑھیے
میں کمپوٹر سائنس بیچلر ڈگری کے دوسرے سمسٹر میں پہنچ چکا تھا جب مبشر حسن بخاری سے ماسٹرز ڈگری پروگرام میں ملاقات ہوئی۔ وہ مجھ سے پروگرام اور بیچ وائز دونوں طرح سے سینئر تھے۔ ہماری دوستی بھی یونیورسٹی کی← مزید پڑھیے
کبھی ایسا ہوا کہ آپ کو کسی چیز کی اتنی زیادہ فکر ہونے لگی کہ دماغ میں خیالات کا طوفان آ گیا؟ دل تیز دھڑکنے لگا، پسینہ آ گیا، اور دماغ نے ہر ممکنہ برا نتیجہ سوچنا شروع کر دیا؟← مزید پڑھیے
کرکٹ میچز کے فری پاسز کیلئے ہر کوئی مارا مارا پھر رہا ہوتا ہے۔ پی سی بی ، انتظامی افسران تو کوئی پولیس والوں سے فری پاسز کی ڈیمانڈ کرتا پھرتا ہے ۔ حتیٰ کہ متعلقہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور← مزید پڑھیے
سنئیر صحافی و کالم نگار محسن گورائیہ کے ہمراہ ایک فلاحی کام کیلئے سامان کی خریداری کرنا تھی تو راستے میں پلان بنا کہ ہمیں زیادہ تعداد میں اشیاء چاہئے سٹور کی بجائے شاہ عالم مارکیٹ سے ہول سیل میں← مزید پڑھیے
منہ بند کر کے ، فرقہ پرستی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی ۔ اور نہ ہی فرقہ پرستی کے خلاف ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اُسے ہرایا جا سکتا ہے ۔ دہلی اسمبلی کے الیکشن میں عام آدمی پارٹی (← مزید پڑھیے
کہانی کی دنیا میں ناصر عباس نیر کا پہلا پڑاؤ “خاک کی مہک” تھا۔ اس مجموعے نے ان کے قارئین کو اس لیے حیران کیا تھا کہ وہ بہ ظاہر پہلی بار کہانی کار کے طور پر سامنے آئے تھے۔← مزید پڑھیے
جمہوریت وہ طرز حکومت ہے۔ جس میں ووٹ کی اہمیت تو ہے لیکن رائے، دلیل، عقل و شعور کو کسی پلڑے میں نہیں تولا جاتا۔ یعنی انسانوں کو بس گنا جاتا ہے ان کی صلاحیتوں کی قدر نہیں کی جاسکتی۔← مزید پڑھیے
یہ جرنل ان حالا ت میں کشمیر کے روز مرہ کے واقعات دہلی کے مختلف حلقوں تک پہنچانے میں خاصا مدد گار ثابت ہوا۔اس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق جگموہن کے آفس سنبھالنے کے پہلے دن ہی سری نگر کے← مزید پڑھیے
90کی دہائی کی ابتدا میں زمانہ طالب علمی میں امتحانات سے فراعت کے بعد دہلی کے اوکھلا علاقے سے متصل سرائے جولینا بستی میں ایک کمرہ کرایہ پر لیکر میں چھٹیاں منانے کشمیر چلا گیا تھا۔ پندرہ بیس دن کے← مزید پڑھیے
سن ۲۰۰۷ میں فورچون میگزین نے جب سلیکون ویلی پر راج کرنے والی شخصیات کا ایک گروپ فوٹو شائع کیا تو اس فوٹو کو اس نے “پے پال مافیا ” paypal mafia کا عنوان دیا تھا ۔ یہ وہ لوگ← مزید پڑھیے
نیتن یاہو امریکا یاترا پر ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے ساتھ ایک پریس ٹاک کی، جس میں ایک بار پھر اہلِ غزہ کو غزہ سے نکالنے کی بات کی۔ وہی میٹھا کھانڈ لہجہ ،وہی بھیڑیے کے چہرے پر شکار← مزید پڑھیے