مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔
آج کل شادیوں کا “پیک سیزن” چل رہا ہے۔ نومبر دسمبر اور جنوری میں یہ حال ہوتا ہے کہ جمعہ، ہفتہ، اتوار اور پیر کے دن کم از کم تین سے چار جگہ سے دعوت ہوتی ہے ۔بھاگم بھاگ سلامی← مزید پڑھیے
کل صبح سے بانگ درا کو پڑھنا شروع کیا اور دیکھتے دیکھتے شام ہو گئی. دسمبر کے آخری ہفتے نرم اور شرمائی ہوئی دھوپ “بانگ درا’ کی پہلی اشاعت کو وقت کا مفہوم سمجھا رہی تھی،یا خود وقت کا مفہوم← مزید پڑھیے
سنتے ہیں محبوب کی ہر خامی بھی ادا لگتی ہے اور محبت سات خون بھی معاف کروا سکتی ہے۔ یہ بھی سنتے آئے ہیں کہ محبت کے لیے ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے۔ تبھی شاعر باقی عمر کو اضافی← مزید پڑھیے
ہمیں مختلف لوگ طرح طرح کے لوگوں کے ساتھ بریکٹ کرتے ہی رہتے ہیں، لیکن ہمیں حکیم محمد سعید اور امام الہند ابوالکلام آزاد کے ساتھ بریکٹ ہونا سب سے زیادہ پسند آتا ہے، آج حکیم محمد سعید کا جنم← مزید پڑھیے
انور پیر زادو کو آپ سب صحافی، کالم نگاراور سندھ کی تاریخ ، زبان اور شاہ لطیف کی شاعری پر عبور رکھنے والے عالم اور ماہر کی حیثیت سے جانتے ہیں لیکن میں انہیں ضیا الحق کی آمریت کے مشکل← مزید پڑھیے
ہندوستان میں ہم مسلمانوں کا ایک مترادف نام “عبدل پنکچر والا” بھی ہے۔ اس کا دو ٹوک مطلب یہ ہے کہ ہم ہندوستانی مسلمان معاشی طور پر قدرے کمزور ہیں۔ آپ اگر تاریخ دیکھیں گے تو مذاہب کے حوالے سے← مزید پڑھیے
”مظفر فہمی“ان قلمکاروں کے مضامین کا مجموعہ ہے جسے مختلف ادیبوں نے اپنے منفرد اندا ز میں تحریر کیا ہے۔ ان کے صاحبزادے انجینئر فیروز مظفر نے اس کتاب کو ترتیب دے کر شائع کروایا ہے۔ مظفر حنفی کا ادبی← مزید پڑھیے
جملہ انقلابیان و ہمدردانِ فاتحین شام کو سوا سوا لکھ مبارکاں ہوں کہ امریکہ بہادر نے ان کے “غازی سلطان صلاح الدین ایوبی” چہارم ، احمد الشرح ابو محمد الجولانی کے سر پر رکھی 10 ملین ڈالر کی قیمت منسوخ← مزید پڑھیے
انسانوں کو انسانوں کے زہر سے آلودہ ہونے پر جسم نیلے نہیں ہوتے میلے نہیں ہوتے موت نہیں ہوتی ایک دن میں کچھ نہیں ہوتا یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کس نے کاٹا ہے کب دانت گاڑے ہیں اور کیوں← مزید پڑھیے
یہ شاید 1998-99 کا سال رہا ہوگا۔ نئی دہلی کے 24، اکبر روڈ پر واقع کانگریس ہیڈ کوارٹر میں دیر رات گئے کانگریس کی اعلیٰ فیصلہ ساز مجلس کانگریس ورکنگ کمیٹی کی ایک میٹنگ کور کرنے کے بعد میں بس← مزید پڑھیے
حالانکہ مایوسی اور نامیدی کی اسلام میں گنجائش نہیں مگر حالات بے قابو ہوجائیں اور جب کوئی حل نظر نہ آئے تو بعض اوقات ان کیفیات کا اثرہونا انسانی کمزوری ہے۔ کچھ ایسا ہی حال خاص طور پر گزشتہ دہائی← مزید پڑھیے
پچھلے دو تین دنوں کے دوران شام کے مختلف علاقوں میں امریکی فضائیہ کی کارروائی کے دوران دولت اسلامیہ عراق والشام کے اہم کمانڈر ابو یوسف سمیت متعدد جنگجو ہلاک ہوگئے اسی عرصے میں ترکیہ کی انٹیلی جنس نے بھی← مزید پڑھیے
۱۹۸۸ میں راجیو گاندھی نے رُ شد ی کے مشہور ناول “دِی سیٹ نک ور سیز” کو ہندوستان میں بین کردیا تھا۔ وجہ کو ئی مسلم دوستی نہیں تھی بلکہ اس وقت گرمایا ہوا ایودھیا معاملہ اور مسلم ووٹ بینک← مزید پڑھیے
ہمارے لائق احترام دوست اور لاہور پریس کلب کے سابق صدر سید ثقلین امام نے شام کے حالیہ منظر نامے پر ” ترقی پسند عرب قوم پرستی ” کا خاتمہ کے عنوان سے قابل توجہ تحریر لکھی گزشتہ روز کے← مزید پڑھیے
احفاظ کا حلقہ ء احباب بے حد وسیع تھا، اس میں صحافی، شاعر، ادیب ،کرکٹر، ٹریڈ یونینسٹ اور سیاست دان سبھی شامل تھے۔احفاظ سے شادی کے بعد میں ان سب کی بھابھی بن گئی تھی۔پاکستان کے علاوہ بیرون ملک مقیم← مزید پڑھیے
یہ سال 2011ء کے ابتدائی مہینوں کی بات ہے جب ترکی میں رجب طیب اردگان کی حکومت کی سرپرستی میں شام کی بشارالاسد مخالف اپوزیشن کا اجلاس انقرہ میں منعقد ہوا۔ اس کانفرنس میں کویت، سعودی عرب، قطر اور امریکہ← مزید پڑھیے
شام میں بشارالاسد کے خلاف حالیہ بغاوت جس طرح دس گیارہ دن میں کامیاب ہوئی اس کے مقاصد اور بغاوت کے سرپرست ممالک کے مفادات واضع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ گزشتہ دو شامی بغاوتوں کے ایک اہم کردار محمد البشیر← مزید پڑھیے
شام میں بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے والی تنظیم ’’ہئیت التحریر الشام‘‘ میں جہاں بلاد عرب اور دنیا بھر میں مسلح کارروائیاں کرنے والی دولت اسلامیہ عراق والشام اور القاعدہ کے جنگجو شامل ہیں وہ شام میں گزشتہ ڈیڑھ← مزید پڑھیے
آگے بڑھنے سے قبل دو تین اہم خبروں کی جانب پڑھنے والوں کی توجہ دلانا ضروری ہے۔ اولاً یہ کہ ہئیت التحریر الشام میں پاکستانی جنگجو بھی شامل ہیں جامعہ بنوریہ کراچی کے ایک مبینہ جنگجو طالب علم نے دمشق← مزید پڑھیے
اتوار 8 دسمبر کو 24 سالہ اقتدار سے محروم ہونے والے بشارالاسد 2000ء میں ا پنے والد حافظ الاسد کے انتقال پر ان کے جانشین کے طور پر شام کے صدر بنے اس سے قبل ان کے مرحوم والد جنرل← مزید پڑھیے