مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔
دو ہاتھ۔۔۔ جن کی لکیریں مٹ چکی تھیں، وہ ایک مردہ جانور کی کھال پر زندگی کی بھیک مانگ رہے تھے۔دائیں ہاتھ کی پوروں میں ایک قدیم تھکن جمی ہوئی تھی، اور بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ایک ان کہی← مزید پڑھیے
کسی بھی معاشرے کی فکری سطح اور جمہوری پختگی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں اختلافِ رائے کو کس حد تک برداشت کیا جاتا ہے، کیونکہ اختلاف ہی وہ بنیادی قدر ہے جو انسان← مزید پڑھیے
یونیورسٹیوں میں ہونے والی خودکشیاں اکثر ایک “ذاتی المیہ” یا “ذہنی کمزوری” کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔کہیں طلبہ اساتذہ کو الزام دے رہے ہیں، کہیں اساتذہ طلبہ کو غیر سنجیدہ، ناسمجھ یا نالائق قرار دے رہے ہیں۔ مگر← مزید پڑھیے
بعض مقامی اہل فکر کا دعویٰ ہے کہ “اخلاق، اقدار اور روحانیت سے تشکیل پانے والا انسانی باطن ریاستی پالیسی اور منصوبہ بندی میں قابلِ ادراک اور قابلِ اظہار نہیں ہوتا۔ البتہ نفسیاتی سطح پر جدید ریاست انسان میں ایک← مزید پڑھیے
ایران کی سڑکوں پر سنائی دینے والے نعروں میں حالیہ برسوں کے دوران جو تبدیلی آئی ہے وہ محض الفاظ کی تبدیلی نہیں بلکہ اجتماعی شعور میں آنے والی ایک گہری دراڑ کی نشاندہی کرتی ھے ۔ ماضی میں احتجاجی← مزید پڑھیے
نیاسال ، عزائم اور ادھورے خواب تحریر: احمد شہزادنیا سال آتے ہی خوابوں کی ایسی بارش ہوتی ہے جیسے بجٹ کے موقع پر حکومتی خوش کن اعلانات ، یوں ذہن کے گوشوں سے کچھ پرانی اور دیرینہ خواہشات بھی انگڑائی← مزید پڑھیے
کچھ کماؤ پوت ہوتے ہیں۔ جب کہ کچھ کھاؤو پوت ہوتے ہیں ۔ لیکن کبھی بھی نہ تو کماؤ پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آ تے ہیں اور نہ کھاؤو پوت کے۔ جب دونوں کے پاؤں پالنے سے نکل← مزید پڑھیے
سماجی ٹیبوز (Taboos) اُن موضوعات، رویّوں یا کاموں کو کہتے ہیں جن پر کسی معاشرے میں بات کرنا، انھیں انجام دینا، یا ان کا کھلے عام اظہار کرنا ناپسندیدہ، ممنوع یا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ یہ پابندیاں عموماً روایات، مذہبی← مزید پڑھیے
بعض مقامی اہل فکر کا دعویٰ ہے کہ ” تعلیم عامہ کی پیدا کردہ عقل مکمل طور مفاد اور تکاثر کے تابع ہوتی ہے۔ اس کےنزدیک انسانی داخلیت بھی ایک ایسا طبعی resource ہے جسے quantify کیا جا سکتا ہے← مزید پڑھیے
محترمہ مریم نواز، میں کوئی ووٹ بینک نہیں، نہ میرے ہاتھ میں پلے کارڈ ہے، نہ میرا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہے اور نہ ہی ٹی وی اسکرین تک میری رسائی ہے۔ میں خدا کی وہ مخلوق ہوں جو← مزید پڑھیے
غائب ۔ غائب ایک شخص نہیں تھا۔ وہ ایک کیفیت تھی—نہایت ہلکے خاکستری رنگ کی ایک غیر متحرک شکل جو ہمیشہ دیوار اور زمین کے سنگم پر بیٹھی رہتی۔ وہ کسی شے کو نہیں دیکھتا تھا، وہ صرف محسوس کرتا← مزید پڑھیے
نوآبادیاتی دور کی وحشیانہ یلغاروں کا اصل وارث، عالمی سامراج کا علمبردار ریاست ہائے متحدہ امریکہ آج ایک بار پھر اپنے اصلی چہرے کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ وینزویلا کی عوامی جمہوریہ پر امریکی فوجی حملہ، دارالحکومت کیراکاس پر بمباری،← مزید پڑھیے
یہ نئے سال کی پہلی شام ھے۔آج پورا شہر دھند میں لپٹا رہا ہے، سورج جیسے طلوع ھونا بھول گیا تھا۔جلتی بجھتی روشنیوں نے شہر کی رومانی فضا کو دو آتشہ کر رکھا ہے۔مال روڈ کی پیشانی پر سنگ میل← مزید پڑھیے
یہ پوسٹ میں نے ایک بھارتی دوست کی وال پر دیکھی، جس نے بہت تنقیدی انداز میں پاکستان کی لمز کو بھارت کی ایلیٹ یونیورسٹیوں، جیسے اشوکا اور شِو نادر، کے برابر رکھ کر ایک اہم نکتہ اٹھایا تھا۔ اس← مزید پڑھیے
آج کے دور میں موبائل فون بچوں کی زندگی کا ایسا حصہ بن چکا ہے جس کے بغیر ان کا دن ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات سونے تک، اسکرین کسی نہ کسی صورت میں← مزید پڑھیے
پچھلے چند سالوں کے دوران مڈل ایسٹ پہ امریکی گرفت کمزور اور چین کے اثر و نفوذ میں اضافہ کے باعث خلیج کی اقتصادی ، سیاسی اور دفاعی حرکیات میں غیرمعمولی تبدیلیاں رونما ہوئیں ،خاص طور پہ سعودی عرب اور← مزید پڑھیے
وہ نسل جس نے اینالاگ ورلڈ سے چل کر سمبیئن کی منزل کو چھوا۔۔ ٹیلی گراف،تار خط،لینڈ لائن (کریڈل والے فون) سے سادہ موبائل، انٹر نیٹ پھر اسمارٹ ٹیکنالوجی سے لے کر مصنوعی ذہانت کے عہد میں قدم رکھا۔۔ ہم← مزید پڑھیے
اپریل 2025 کو میں ایران میں اپنے کئی سالوں سے زیر تکمیل سفرنامے “مشاھدات ایران” ، کچھ مذید جہانگردی ، اپنی طبیعت کی بحالی اور کچھ سلسلہ روزگار کے سلسلے میں وارد ایران ھوا ۔ 2019 کے بعد کرونا کی← مزید پڑھیے
یہ 1971 کی بات ہے ہمارے والد مرحوم نے ہمیں میٹرک کے بعد راولپنڈی کے ایک معروف تجارتی مرکزموتی بازار میں کپڑے کی ایک دکان پر بطور سیلزمین بھرتی کروا دیا۔ انکا کہنا تھا کہ تعلیم کے تسلسل کے ساتھ← مزید پڑھیے
حال ہی میں پاکستان کی ایک یونیورسٹی کے طالب علم کی خودسوزی کی خبر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی۔ اس سے پہلے بھی اس نوعیت کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ایسی خبریں سن کر، پڑھ کر شاید← مزید پڑھیے