مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔
نیا سال آتے ہی کیلنڈر بدل جاتا ہے مگر ریاستی مزاج نہیں بدلتا۔ تاریخ کی تختی پر ہندسہ نیا لکھ دیا جاتا ہے مگر اقتدار کے طریقے فیصلوں کی سمت اور عوام کے حصے میں آنے والی مشکلات وہی رہتی← مزید پڑھیے
انسان اپنی زندگی کسی طے شدہ منصوبے کے تحت نہیں جیتا۔ زیادہ تر حالات اور واقعات کے دباؤ میں وہ اپنی سمت بدلتا رہتا ہے، اسی لیے اس کی زندگی میں مستقل مزاجی کم اور حالات کے جبر سے مطابقت← مزید پڑھیے
ابو کے آپریشن کی جونہی اطلاع ملی ، دل پریشان سا ہو گیا۔ کسی صورت قرار ہی نہیں آرہا تھا۔ آنکھوں میں نمی اور دل میں اداسی سی تھی۔ لبوں پہ تسبیح اور بس صحت و عافیت کی دعا تھی۔← مزید پڑھیے
سال کے آخری دن ہمیشہ ایک خاص کیفیت لے کر آتے ہیں۔ یہ دن صرف کیلنڈر کے چند خانے نہیں ہوتے بلکہ یہ پورے سال کی تھکن، خوشیوں، دکھوں، کامیابیوں اور ناکامیوں کا خلاصہ ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے سال ختم← مزید پڑھیے
فکر کی حرکیات : اصول ، سوال اور تشکیل نوء بعض مقامی اہل فکر کا موقف ہے کہ “ہر علمی گفتگو، ہر فکری سراغ کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اصول کی پیروی میں رواں ہوتا ہے، اور اصول← مزید پڑھیے
اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کے سائے میں ہر شخصیت کا اثر اور مقام اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں چند شخصیات ایسی ہیں جو اپنے وقت اور اثر کی وجہ سے سب کی نگاہوں میں آ جاتی ہیں، اور← مزید پڑھیے
حکومتِ پاکستان نے حال ہی میں بجلی کے شعبے میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ریاست کی جانب سے بجلی کی براہ راست خریداری (State-led power purchases) کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ← مزید پڑھیے
سال کے آخری دن ہمیشہ ایک خاص کیفیت لے کر آتے ہیں۔ کیلنڈر کا آخری ورق پھاڑتے ہوئے ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ شاید مسائل بھی اسی کاغذ کے ساتھ ردی کی ٹوکری میں چلے جائیں گے۔ ٹی وی← مزید پڑھیے
منظر سیدھا سادہ تھا۔ یہ ایک پرانی عمارت تھی۔ جسے شہر کی آرٹس کونسل قرار دیا گیا تھا۔ اس کی سفید سیمنٹ کی دیوار پر جابجا کائی جمی ہوئی تھی۔ اس کائی کے اوپر ایک بورڈ لگا تھا جس پر← مزید پڑھیے
جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کی موجودگی کو عوامی رائے کی ترجمان سمجھا جاتا ہے۔ یہ تصور عمومی طور پر درست بھی ہے کہ جتنی زیادہ جماعتیں ہوں گی، اتنی ہی زیادہ آوازیں پارلیمان میں سنائی دیں گی۔ تاہم پاکستان← مزید پڑھیے
پاکستان میں 5 200کے بعد کئی شہروں میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کی گئی تھی، سب سے زیادہ پابندیاں کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں دیکھنے کو ملی ہیں، جہاں پتنگ بازی سے جڑنے والی مختلف مشکلات جیسے← مزید پڑھیے
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ شخصیات محض نام نہیں ہوتیں، وہ عہد بن جاتی ہیں۔ وقت آگے بڑھتا رہتا ہے، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر ان شخصیات کی یاد ہر دور میں زندہ رہتی ہے۔ شہید جمہوریت محترمہ بے← مزید پڑھیے
انسان چاہے کسی فوٹ پاتھ پہ بیٹھے نجومی کو ہاتھ دکھائے یا فال نکلواۓ، قیاس، اندازے اور کاغذوں میں لکھے لفظوں سے جو قسمت کا حال معلوم ہوتا ہے وہ غالب کے بقول، ‘ دل کے بہلانے کو یہ خیال← مزید پڑھیے
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA)، جو کہ ملک کی قومی ایئرلائن ہے، سالہا سال کے مسلسل نقصانات کے بعد بالآخر نجی ملکیت میں دے دی گئی ہے۔ کیا یہ حکومت اور عوام کے لیے ایک اچھا سودا ہے؟ بھانت بھانت کی← مزید پڑھیے
شری بدت گلگت بلتستان کی قدیم ریاست بلور کا آخری مقامی بدھ مت بادشاہ تھا۔ عام طور پر اس کو آدم خور بادشاہ بھی کہا جاتا ہے ان کا اصلی نام چندر شری دیوا وکرمادتیہ تھا- جس کا دور حکومت← مزید پڑھیے
پاکستانی قوم کے المیے تو بہت ہیں، کس کس موضوع پر قلم چلائیں ۔ لیکن اکثر کچھ ایسے معاملات ہو جاتے ہیں جن پر لکھے بغیر رہا نہیں جاتا۔ ابھی کچھ دن پہلے کی تو بات ہے کہ کراچی میں← مزید پڑھیے
جھٹ پٹے کا وقت تھا۔ میں اپنی گیارہ ماہ کی نواسی زھا کو، بچوں کو ثہلانے والی ہتھ ریڑھی(پرام) میں بٹھا کر گھر سے باہر سیر کرا رہا تھا۔ جھٹ سے ایک گاڑی میرے اس قدر قریب آ کر رکی← مزید پڑھیے
وہ واقعی ہی اپنے نام کی طرح بے نظیر تھی۔۔بی بی امر نہ ہوتیں تو آج بھی امر ہونے کی جنگ لڑ رہی ہوتیں-جس عمر میں لڑکیاں باپ کی شہزادی ہوتی ہے باپ ان کے ناز نخرے اٹھاتے ہیں اور← مزید پڑھیے
رات نے اپنی تاریکی کے سیاہ پر پھیلا رکھے تھے، جب نسیم کے ابو کی بےبسی، بند آنکھوں کی بھیگی پلکوں سے ٹپک رہی تھی۔ اکھڑتی ہوئی بے ربط سانسیں پچکے ہوئے زرد گالوں کی ڈھلان پہ اتر کر کسی← مزید پڑھیے
کسی بھی ملک کی ترقی میں شفافیت؍ موثر نمائندگی؍ ریگولیشن؍ اسٹریٹجک سیکٹر میں ریاستی کردار اور قومی مفاد کی ترقی اہم ہے لیکن نجکاری نامکمل حل ہونے کے ساتھ ساتھ نامکمل مسئلہ بھی ہے اس سے معیشت تو بہتر ہوتی← مزید پڑھیے