مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔
بابا جی اپنے کنبے سمیت تمام شعبوں میں اتھارٹی سمجھے جاتے تھے۔ ملک کے طول و عرض میں ان کے متاثرین و مریدین موجود تھے۔مذہبی ٹچ سے لے کر صحت کے مسائل اور کھانا پکانے سے خیراتی اداروں کی معیشت← مزید پڑھیے
گزشتہ دو اڑھائی ہفتوں کے دوران بہت سارے احباب اور قارئین نے تسلسل کے ساتھ کالم نہ لکھنے کی بابت دریافت کیا۔ عرض کیا کہ کوشش کررہا ہوں کہ خود کو سمیٹ کر پھر سے زندگی کے لگے بندھے معمولات← مزید پڑھیے
کچھ عرصہ قبل ایک ڈاکٹر صاحب کی وڈیو سامنے آئی جس نے مجھے چونکا دیا، کئی بار سوچا یہ بات آپ احباب سے شیئر کروں مگر جانے کیوں کر نہ سکی۔ آج پھر سے ذہن کے پردے پہ ابھری تو← مزید پڑھیے
نوٹ یہ ایک بالغانہ اور لبرل تحریر ہے! نیک لوگ اس سے اجتناب کریں اور یوم حیا منائیں۔ ایک بار پھر محبت بھرے دلوں کے ملنے کا موسم آگیا۔ آجکل پاکستان میں بھی انگریزوں کی طرح “ڈیٹنگ” یا “ آر← مزید پڑھیے
کچھ لوگوں کی خواہشات کے برعکس بالآخر الیکشن 2024 کا انعقاد ہو ہی گیا لیکن اس الیکشن کے نتائج ملک کی تاریخ کے سب سے متنازع نتائج کہے جاسکتے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ آزاد امیدوار سیاسی جماعتوں← مزید پڑھیے
میں نہ مفکر ہوں، نہ راہنما، نہ دانشور، نہ اہل علم۔ میں بس طالب علم ہوں۔ لاک ڈاؤن میں جب دنیا تھم گئی تو فرصت کے لمحات میں ایک بزرگ دوست کے ساتھ بیٹھا اور بیٹھے بٹھائے ایک عدد کتاب← مزید پڑھیے
اس الیکشن سے چند روز پہلے مجھے میسجز ملے کہ سعد رفیق ملنا چاہتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے سے میں یہ میل ملاقات ترک کر چکا تھا جس کی جو وجوہات ہیں وہ میں یہاں بیان نہیں کرنا چاہتا۔ میں← مزید پڑھیے
جب روایتی اور سوشل میڈیا پر کوئی بھی بیانیہ چل رہا ہوتا ہے، تو میں اس کا موازنہ اپنی تحصیل نوشہرہ ورکاں، اس کے دیہات کی سیاست اور گلی محلے کے عام لوگوں کی سوچ سے کرتا ہوں۔ اس سے← مزید پڑھیے
(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں) قسط نمبر 15 پاکستان میں انتخابات کا موسم اُترا ہوا ہے۔ گھروں، دکانوں، گلیوں، بازاروں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رنگا رنگ جھنڈے لہلہا رہے ہیں۔ شام ڈھلے چھوٹے چھوٹے← مزید پڑھیے
میں اس اُصول پر کھڑا ہوں کہ عوام کے ووٹ کو عزت دی جانی چاہیے کہ یہی جمہوری رویہ ہے۔ جمہوریت یہی ہے کہ آپکا مخالف اگر جیت جائے تو اسے قبول کیا جائے کہ عوام یہی چاہتی ہے۔ چاہے← مزید پڑھیے
الیکشن ایک ایسا موڑ ہوتا ہے، جہاں یہ کہنا آسان ہو جاتا ہے کہ پاکستان میں اب کم از کم دو سال آرام سکون سے گزر جائیں گے۔ سیاست اور ملک میں استحکام پیدا ہوگا، اسٹاک مارکیٹ میں بہتری آئے← مزید پڑھیے
عربی زبان میں ایک لفظ رائج ہے جسے “مکتوب” کہتے ہیں، دیگر معنوں کے علاوہ مکتوب کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ ہر چیز لکھی ہوئی اور وقت متعین میں طے شدہ امر ہے۔ نہ وقت سے پہلے نہ← مزید پڑھیے
سردی کا سہانا موسم نوجوانوں اور صحت مند انسانوں کے لئے ہی رومانی ہوتا ہے ورنہ سردی کسی کہاوت میں موت ہی کا دوسرا نام ہے۔ کوئی وفات پا جائے تو ہم سنتے ہیں اس کا جسم ٹھنڈا پڑ گیا← مزید پڑھیے
فرانس کا شہر پیرس، جس کو فرینچ لوگ “پاری (Par ee) کہتے ہیں۔ میرا پسندیدہ ترین شہر ہے جہاں میں بار بار جانا چاہتا ہوں۔ یہ تاریخ، جدت، عوامی بہبود اور برابری کا ایک بڑا نمونہ ہے۔ یہاں دو دفعہ← مزید پڑھیے
حکیم درویش باوا ہر قسم کے مسائل کا تسلی بخش حل نکالتا ہے۔ شادی کرانی ہو یا طلاق، محبوب کو قدموں میں لانا ہو یا محبوب کے پہلو میں جانا، باہر سے محبوب امپورٹ کرنا ہو یا یہاں سے حبیب← مزید پڑھیے
2022ء میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی حکومت ختم کرنا اپوزیشن کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ یہ بات سچ ہے کہ اپنے دور حکومت میں عمران خان صاحب کا زیادہ تر زور اپوزیشن کو رگڑا لگانے← مزید پڑھیے
شاخ در شاخ پھیلتے علم نے بالآخر ہماری توجہ فرد کی گھمبیر داخلیت کی جانب پھیر دی ہے۔ انسانی D.N.A. ڈی کوڈ کیا جاچکا اور اب جنیٹنک انجینئرنگ اور کلوننگ جیسے ناقابلِ یقین معاملات انسان کی دسترس میں ہیں۔نفسیات کی← مزید پڑھیے
گزشتہ دہائی میں عمران خان نام کا مسیحا ہماری قوم کو ملا اور ہم سب اس کو وزیراعظم بنانے میں لگ گئے، جس میں یہ ناچیز بھی پیش پیش تھ، عمران کی تعریفوں میں تحریریں لکھنے کے ساتھ ساتھ زرداری,← مزید پڑھیے
تُرکی کے مشرقی صوبے وان(Van) کے دلکش اور پُرسکون پہاڑوں میں واقع جیواس(Gevas) قصبے میں جولائی 2005ء کو ایک عجیب واقع پیش آیا، جب ایک بھیڑ (Sheep) نے پہاڑ پر گھاس چَرتے ہوئے پہاڑ سے نیچے چھلانگ لگادی اور اس← مزید پڑھیے
مچھلیاں ہمیشہ سے ہی انسان کی محبوب غذا رہی ہے۔ انسان تب بھی مچھلیوں کا شکار کرتا تھا جب وہ غاروں میں رہتا تھااور سارا دن جنگلوں میں شکار کرتا تھا اور مچھلیاں اب بھی انسانوں کی پسندیدہ غذا ہے← مزید پڑھیے