مکالمہ کی تحاریر
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بندوق، مکالمہ، جدوجہد اور جمہوریت/حیدر جاوید سیّد

دوسرے 25کروڑ شہریوں کی طرح میں بھی اسی سماج میں جیتا بستا آرہا ہوں۔ دوست ہیں اور عزیز بھی، خونی و نسبتی رشتوں سے بندھے رشتے اور کچھ ہم خیال بھی۔ ہمارے چار اور جو ہورہا ہوتا سب آنکھوں سے←  مزید پڑھیے

پیمپر ہی پیمپر/یوحنا جان

عجب داستان اور عجب کہانی ہر بدلتے وقت کی ایک بہترین لڑی جو کڑی سے کڑی ملاتے ہوئے اس دور کو کڑی لگاتے اپنی گرفت میں کیے جاتی ہے۔ ان کڑیوں میں گرفتار ہونے والوں کو ابھی تک اس مسئلے←  مزید پڑھیے

وکٹم سنڈروم /رشید ودود

علی اکبر ناطؔق کا نام پہلے پہل ہم نے قاضی زکریا کی دیوار گریہ پر ٹنگا ہوا دیکھا، قاضی صاحب لکھنؤ میں ایک کتب خانہ چلاتے ہیں، خامنہ ای کو اپنا رہبر مانتے ہیں اور ان پر اپنی جان بھی←  مزید پڑھیے

خواب بینائی کھا گئے/حیدر جاوید سیّد

“خواب بینائی کھا گئے” حیدر جاوید سید عجیب سے حالات ہیں۔ سفر حیات کے پینسٹھویں برس میں پچھلے ماہ و سال کی یادیں قطار اندر قطار چلی آتی ہیں۔ مسائل کا سورج سوا نیزے پر ہمیشہ کی طرح سے ہے۔←  مزید پڑھیے

آستین کے سانپ/مہر آب خان

“شاشان کی چوٹی سے” بین المذاہب کا عالمی مرکز بیت المقدس سمیت فلسطین میں یہودیوں نے مسلمانوں پر خون کی ہولی کھیلنا شروع کررکھا ہے۔ مسلمان ممالک خاموش تماشائی بنے ہوۓ ہیں ۔ اس آستین کے سانپ کو اپنی  آستینوں←  مزید پڑھیے

بھیرو کا استھان/طلحہ شفیق

بھیرو کا استھان میٹرو شمع اسٹاپ کے قریب واقع ہے۔ یہ لاہور میں موجود ہندو دھرم کے چند بڑے منادر میں سے ایک ہے۔ بھیرو کے استھان کی قدامت کے متعلق ہندو دوست مختلف دعویٰ کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اسے←  مزید پڑھیے

بھولے بادشاہ/ارشد ابرارارشؔ

اچانک اُسے یاد آیا کہ وہ تو اپنے ” بھول جانے “ کی عادت کی انگلی تھام کر جوان ہوا تھا ۔ ایامِ شباب میں اسی سبب وہ ” بھولے بادشاہ “ کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا ۔←  مزید پڑھیے

سانپ سیڑھی کا کھیل نہیں ہے سیاست /حیدر جاوید سیّد

سیاست ناممکن کو ممکن بنانے کا عمل ہی ہے، اختلاف رائے کا اظہار تحمل وتدبر کے ساتھ ہو تو سیاسی عمل کسی رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھتا رہتا ہے، مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اختلاف رائے کی جگہ←  مزید پڑھیے

دُعا کا دھندہ/طاہر چوہدری

میرا دعاؤں وغیرہ پر کوئی یقین نہیں ہے۔ میرا ماننا ہے کہ کسی بھی کام کے نتائج آپ کی محنت اور کوشش پر منحصر ہوتے ہیں۔ میں بطور وکیل جس کیس پر زیادہ توجہ اور محنت سے کام کروں گا←  مزید پڑھیے

یکم نومبر 1947: جنگ آزادی گلگت بلتستان یا بغاوت گلگت؟- ایڈوکیٹ اشفاق احمد

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ 1842 سے قبل گلگت بلتستان میں آزاد و خودمختار شاہی ریاستیں موجود تھیں۔ 1840 کے بعد بیرونی جارحیت شروع ہوئی۔ پہلے پنجاب کی سکھ فوج نے حملہ کیا۔ بعدازاں جموں وکشمیر کے ڈوگروں اور←  مزید پڑھیے

پرانا پِیا اور پُرانی سہاگن/حیدر جاوید سیّد

فی الوقت اہم بات یہ ہے کہ پیا اپنی سہاگن کا انتخاب کر چکا، لیکن یہ 2013ء اور 2018ء ہے نا ہی 1988 اور 1990ء بلکہ 2023ء ہے زمینی حقائق یکسر مختلف ہیں کیا “بارات اور ولیمے” کے لئے ایمرجنسی←  مزید پڑھیے

سفر وسیلہ “ڈفر” ہے (1)-مرزایاسین بیگ

پاؤں پالنے  سے باہر نکالتے ہی اندازہ ہوا کہ جانور تو ہر خطے میں پائے جاتے ہیں چاہے دو پاؤں والے ہوں یا چوپائے۔ بس رویہ اور ذائقہ تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ چند دعوتیں اور اچھی خاصی نیند اُڑالی۔ میزبان←  مزید پڑھیے

کیکڑے ہی کیکڑے ۔ کالج پارک/ڈاکٹر عبید علی

جب کیشئر نے پیسے لئے، نوٹ چیک کیا، حساب کیا۔ بقیہ پیسے واپس کیے  اور پھر اگلے لمحے ہی کاٹےہوئے پیسے بھی پورے واپس کر دئیے  ۔ 29 یا 23 ڈالر فی آدمی ۔ جتنا چاہیں کیکڑا (کریب) کھائیں۔ آلو←  مزید پڑھیے

جھوٹ بولنا کیوں ضروری ہے؟ /خواجہ مظہر صدیقی

مجھے تو ایسے لوگوں کی آج تک سمجھ نہیں آئی جو بلا وجہ اور بے سبب جھوٹ بول کر دوسروں کو متاثر کرنے اور سماج میں بڑا بننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہ صرف اور صرف پاور میں آنا←  مزید پڑھیے

خواب سراب/حیدر جاوید سید

بظاہر یہی لگتا ہے کہ سیاسی عمل میں رائے دہندگان پر اعتماد سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی کو دوام حاصل ہے۔ مختصر عرصے کے لئے انقلابی لیڈر بننے والے جونہی اقتدار کو قریب دیکھتے ہیں نہ صرف انداز تکلم تبدیل←  مزید پڑھیے

چنگاریاں /محمد فیصل

جرم ضعیفی کی سزا ہمیشہ مرگ مفاجات ہی رہی ہے۔ آج ہم فلسطین کو رو رہے ہیں۔ کبھی ہمارا بین کشمیر پر ہوتا ہے۔ ایک ریلی نکال کر اور ایک یوم سیاہ مناکر ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

انقلاب کا ابتدائیہ کوئی لکھے تو سہی/حیدر جاوید سیّد

کیا محض لکھنے پڑھنے کی استعداد کافی ہے اور اس سے نور علم کے سوتے پھوٹتے ہیں؟ یا پھر ضروری ہے کہ لکھنے پڑھنے کی استعداد کے حاملین کو یہ باور کروایا جائے کہ یہ حصول علم کے مراحل کا←  مزید پڑھیے

مذہب فوبیا یا ذہن پر جمی کائی؟ -ثنا فرزند نقوی

ویسے تو فوبیا ایک نفسیاتی بیماری کی حیثیت رکھتا ہے اور نفسیات کی رو سے اس کی متعدد اقسام ہیں، لیکن فلسفیانہ، فکری اور سائنسی ترقی اور دیگر علوم نے جہاں انسان کو شعور و آگاہی سے ہمکنار کیا ہے←  مزید پڑھیے

ریزگاری -پیش لفظ/ارشد ابرار

عظیم مارکیز فرماتے ہیں'” ایک ادیب ، غرقاب شدہ جہاز کے ملاح کی طرح ، سمندر کے بیچوں بیچ بالکل تنہا ہوتا ہے ، اس پیشے کی تنہائی کسی بھی دوسرے پیشے کی تنہائی سے بڑھ کر ہے کہ جب←  مزید پڑھیے

باؤ جی ذرا عقل کرنا/رمشا تبسم

ویسے تو پی ٹی آئی  نے سیاست کو  کرنے اور ریاست کو رہنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ کسی خاکروب کی طرح سیاست اور ریاست کا صفایا ہی کر دیا ہے۔ اسکے باوجود بھی ریاست کسی نا کسی طرح بیساکھیوں پر←  مزید پڑھیے