ناصر عباس نیّر کی تحاریر

رسول حمزہ توف کی خیالی یادداشتیں/ناصر عباس نیّر

’’شکستہ دل کی دو صدائیں ہوتی ہیں’’ وہ آخری بارچھ ماہ پہلے مجھے ملا۔ ان دنوں وہ لوگوں کو ہنسانے کے لیے مسخرے کا کردار اپنائے ہوئے تھا۔ اس بار میں نے ا س کے رویے میں بے اعتنائی محسوس←  مزید پڑھیے

وطن اور جلاوطنی ، مشمولہ ’’عالمگیریت اور ارددو‘‘/ناصر عباس نیّر

’’جنگل کےشرفااورکہانی کاجواب کہانی ہے:جب تک شیر اپنے مئورخ نہیں پیدا کرتے “ جس زمانے میں ایلزپتھ ہکسلے اپنی کتاب White Man’s Country شایع کر رہی تھیں،انھی دنوں،لندن سکول آف اکنامکس و پولیٹیکل سائنس کے ممتاز پروفیسر برونسلا میلنوسکی کے←  مزید پڑھیے

ستیہ پا ل آنند کی یاد میں/ناصر عباس نیّر

آج صبح ستیہ پال آنند کے انتقال کی خبر ملی۔ موت کی ہر خبر پہلے ہمیں خاموش کرتی ہے،پھر ایک دم ہمارے اندر ، دنیا سے گزر جانے والی کی موجودگی بھر دیتی ہے۔ کئی بار ہم مرنے والے کو←  مزید پڑھیے

مصنوعی ذہانت، شعور، طاقت،معذرت، شرمندگی /ناصر عباس نیّر

مصنوعی ذہانت ، مکمل انسانی دماغ کی نہیں ، محض اس کی ایک خصوصیت : ذہانت کی نقل ہے۔ اس کے پاس بے مثل و بے انتہا ذہانت ہے،لیکن شعور کی کوئی رمق نہیں ہے۔سادہ وجہ یہ ہے کہ ذہانت←  مزید پڑھیے

دل کی کتاب، اور اپنی ہی کہانی سے جلاوطن کردار/ناصر عباس نیّر

سچ یہ ہے کہ میرا دل ،ایک کتاب ہے۔ اس سے کڑا سچ یہ ہے کہ اس کے سب ابواب میرے نہیں لکھے ہوئے۔ کیسا ستم ہے کہ میں اپنے ہی دل کی کتاب کا اکلوتا مصنف نہیں ہوں۔ یہ←  مزید پڑھیے

کاغذ نے ہمیں مکمل دیوانگی سے بچایا ہے/ناصر عباس نیّر

میں ان دنوں ماسکو میں ،اپنے من پسند ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔جس روز مجھے کوئی مصروفیت نہ ہوتی؛ کہیں جانا ہوتا نہ کسی سے ملاقات طے ہوتی ، اس روز میں سہ پہر کو ہوٹل کے اس ریسٹورنٹ میں←  مزید پڑھیے

عبداللہ حسین کی ناول نویسی پر گفتگو/ناصر عباس نیّر

عبداللہ حسین کی ماں کا انتقال، جب وہ چھ ماہ کے تھے۔ ان کے پاس ماں کے ساتھ گزارے وقت کی کوئی ایسی یاد نہیں، جسے وہ بیان کرسکتے ہوں۔ انھوں نے ماں کے چہرے کو بھی تصویروں سے پہچانا←  مزید پڑھیے

“عوام کا عقوبت خانہ اور اشرافیہ کا” ببل “: طاہر بن جلون کا ناول اور ایک ہسپانوی فلم/ناصر عباس نیّر

اشرافیہ اپنے ہی بنائے گئے بلبلے (bubble) میں گھری ہوتی ہے ۔ اور عوام اشرافیہ کے قائم کیے گئے عقوبت خانے میں قید ہوتی ہے۔ دونوں کی دنیائیں الگ الگ ہیں؛کافی حد تک۔ دونوں کےلیے جینے کاڈھنگ ہی نہیں، زندگی←  مزید پڑھیے

فن کا نیرنگ، ٹالسٹائی، فن کے مضمر ہونے کی حالت اور ظہور کا مقام/ناصر عباس نیّر

میں ایسے بہت سے لوگوں سے ملا ہوں جو عظیم دستوفسکی ، ٹالسٹائی ، گوگول کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم انھیں کوشش کے باوجود پڑھ سکے ہیں نہ سمجھ سکے۔ اگرو ہ واقعی بڑے ہوتے تو خود کو←  مزید پڑھیے

کیا جنگ واقعی ختم ہوگئی ہے؟-ناصر عباس نیّر

کیا ایک بار شروع ہونے والی جنگ ختم ہوجایا کرتی ہے؟ کسی جنگ کے خاتمے کا ٹھیک ٹھیک مطلب کیا ہوتا ہے؟ کیا محض توپوں کے خاموش ہونے کا مطلب، جنگ کا خاتمہ ہے؟ کیا جنگ کا میدان صرف سرحد←  مزید پڑھیے

علمی وادبی اداروں کی بندش، جبری ،نظریاتی اور متبادل ادارے/ناصر عباس نیّر

چند دنوں سے یہ خبر گردش میں ہے کہ وفاقی ادبی و علمی اداروں ،جیسےاکادمی ادبیات،پاکستان اور اقبال اکادمی کو ادارہ فروغ قومی زبان میں ضم کر دیاجائے گا ۔ اردو سائنس بورڈ اور اردو لغت بورڈ پہلے ہی ،←  مزید پڑھیے

سخن سراؤں سے زہرا جبیں چلے گئے ہیں/ناصر عباس نیّر

پروفیسرگوپی چند نارنگ کے انتقال پر حرفے چند “ ہندوستان کی معاصر اردو تنقید میں صف اوّل کے تین نقاد تھے: شمس الرحمٰن فاروقی، شمیم حنفی اور گوپی چند نارنگ۔ صرف ڈھائی برسوں میں اسی ترتیب سے رخصت ہوئے۔ نارنگ←  مزید پڑھیے

’’ میلان کنڈیرا کا ’دیوار کے پیچھے، کافکائیت اور طاقت کی الہیات‘‘/ناصر عباس نیّر

۱۹۷۹ء میں جب پاکستان میں جنرل ضیا کے مارشل لا کا سورج نصف النہار پر تھا، اعجاز راہی کے مرتبہ افسانوی مجموعے ’’گواہی ‘‘ پر پابندی لگ چکی تھی،جس میں ادب کو اپنے زمانے کے سب سے بڑے گواہ کے←  مزید پڑھیے

اوتھیلو، سفید نسل پرستی اور نسائیت/ناصر عباس نیّر

شیکسپیئرکے ڈرامے اوتھیلو میں اوتھیلو اگرچہ وینس کی ریاست میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہے، مگر ایک سیاہ فام ہے۔ اس کا اعلیٰ عہدہ بھی اس کی سیاہ فامی کا داغ نہیں دھو سکتا۔ وہ ایک سفید فام برابان تیو←  مزید پڑھیے

خون ہی خون کا لکھا مسودہ پڑھ سکتا ہے/ناصر عباس نیّر

میں زندگی، اس کی کسی صورت، کسی مظہر اور اس کی کسی سچائی، خواہ وہ کتنی ہی ہیبت ناک ہو، اس سے گریز نہیں چاہتا۔ مجھ پر بزدلی اور افسردگی کے کئی لمحات آتے ہیں، میں زندگی سے شکوہ کناں←  مزید پڑھیے

’’کیا ہم زمانہ امن میں آگئے ہیں؟ ‘‘: جنگ کا روزنامچہ/ناصر عباس نیّر

چار دنوں کے بعد، آج کادن معمول کا دن ہے۔ لیکن کیا واقعی؟ چاردنوں کا ایک ایک لمحہ خوف، تشویش ، اضطراب اور بے یقینی سے بھرا تھا۔ آج ان سب کا دباؤ کم ہوا ہے۔ اگرچہ شہر کھلے تھے،←  مزید پڑھیے

میرے لیے استاد ہونے کا مطلب کیا ہے؟ -ناصر عباس نیّر

میں پہلے دوایک جگہ لکھ چکا ہوں کہ مجھے تقدیرا ور حالات نے استاد بنایا۔ میں جب استاد بناتو میں نے پہلی بار شدت سے محسوس کیا کہ زندگی میں آدمی کو سب کچھ،اس کی مرضی کے مطابق نہیں ملتا۔←  مزید پڑھیے

یوسا کی یاد میں/ناصر عباس نیّر

“ ایک ناول کا مطالعہ، ایک نئی، متبادل زندگی بسر کرنا ہے”: یوسا کی یاد میں ماریو برگس یوسا، لاطینی امریکی ادیبوں کی اس نسل کے سربرآوردہ فکشن نگار تھے، جس کے لیے یورپ، لاطینی امریکی فکشن کا گمراہ کن←  مزید پڑھیے

خوابوں کے عجائب گھر اور فنون/ناصر عباس نیّر

میں نے دنیا کے سب بڑے عجائب گھر دیکھے ہیں۔ میں ایک بار پیرس کے لوغوے عجائب گھرمیں تھا۔ یہاں دنیا بھر سے لائے گئے ، نوادارت رکھے ہیں۔ میں مونا لیزا کے شاہ کا ر کے سامنے کھڑا تھا۔مجھ←  مزید پڑھیے

خالد جاوید کی سبک دوشی پر ایک نوٹ/ناصر عباس نیّر

انگریزی لفظ ’ریٹائرمنٹ‘ کے مقابلے میں ، اردو میں رائج فارسی لفظ ’سبک دوشی‘ کہیں بہتر لفظ ہے۔ لفظ ریٹائر، اوّل اوّل retreat کے معنوں میں رائج ہوا۔ اس کا ابتدائی معنی فوج کے پیچھے ہٹ جانے کا تھا۔ آگے←  مزید پڑھیے