ہر آدمی کےاندر ایک” جگہ ” ہوا کرتی ہے، جو کسی نقشے کے تحت تعمیر ہوتی ہے۔ کبھی یہ نقشہ دوسرے ترتیب دیتے ہیں، کبھی آدمی خود، کئی بار دونوں مل کر۔ یہیں وہ زندگی بسر کرتا ہے، اور یہیں← مزید پڑھیے
اوائل سردیوں کی شام کی ایک چھینک ، رات تک بدترین زکام میں بدل سکتی ہے،اور زکام آدمی کو کئی دنوں کے لیے نکما اور قابل رحم بناسکتا ہے۔ یہ زندگی کی عام سچائی ہے اور اسی لیے مسلسل نظر← مزید پڑھیے
ضیہ بیکراں فضائیں جہاں اپنے چہرے سے پردہ الٹ دیا ہے نمودِ حیات نے شاداب مرغزار کہ دیکھی ہے جس جگہ اپنے نمو کی آخری حد ڈال پات نے گنجان جھنڈ جن کے تلے کہنی سال دھوپ آئی کبھی نہ← مزید پڑھیے
انسان کی خود پسندی اسے یہ حقیقت آسانی سے قبول نہیں کرنے دیتی کہ ” باہر کا جغرافیہ ، انسان کے اندر کا جغرافیہ تشکیل دیتا ہے”۔ باہر کی وسعت وبلندی و تنگی کے تجربے کے بغیر، قلب وذہن ونظر← مزید پڑھیے
نوٹ : کل ادارہ تالیف وترجمہ، پنجاب یونیورسٹی ،لاہور میں پروفیسر زاہد منیر عامر کی طرف سے میرے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا ،جس پر مختصر تحریر کل یہاں پیش کی گئی تھی۔ آج اس تقریب میں پڑھی گئی← مزید پڑھیے
عزیزان گرامی! آ پ نے مجھے جس طور الوداع کیا ہے،میرے لیے جن جذبات کا اظہار کیا ہے،وہ میرے لیے ایک واقعہ ہے۔ سدا یاد رہنے والا اور میری روح کو سرشار رکھنے والا واقعہ۔ آپ سب کا شکریہ۔ یہ← مزید پڑھیے
گزشتہ ایک ماہ سے وہ بھیانک قسم کے خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ دیکھتےکہ وہ آگ کے شعلوں میں گھرے ہیں۔ان شعلوں سے عجب ہیولے بنتے ہیں اور اس کی جانب بڑھتے ہیں۔ کسی وقت وہ دیکھتے کہ ان کے← مزید پڑھیے
کچھ کہانیاں کبھی پرانی نہیں ہوتیں۔ زمانے کی کوئی آندھی ،ان کی دانش کا چراغ نہیں بجھاتی۔ ایسی ہی ایک چینی حکایت ہے۔ یہ حکایت چوانگ سو سے منسوب ہے جو تاؤ مت کے درویش تھے۔اس حکایت کا موضو ع← مزید پڑھیے
انسانی تجربہ خاص وقت میں، کسی خاص مقام پر کیے گئے تجربے تک محدود نہیں۔ یعنی حیرت، خوف، نشاط، رنج، اداسی، مایوسی، ناستلجیا، کشف کا کوئی وقتی تجربہ، انسانی تجربے کا محض ایک جز ہے۔ انسانی تجربے سے مراد دنیا← مزید پڑھیے
میرے قدم لائبریری کی طرف بڑھ رہے تھے ۔میرے دھیان میں لائبریری کا وہ شیلف تھا، جہاں میری مطلوبہ کتابیں پڑی تھیں۔ مجھے خیال آرہا تھا کہ کہیں کسی نے ان کی ترتیب برہم نہ کردی ہو۔ یہ خیال اندیشے← مزید پڑھیے
اور اب نابغہ (genius) ادیب۔۔ اوسط درجے کا ادیب تخلیق کی چنگاری کو اپنے زمانے کے حاوی ومقبول رجحانات کی پیروی میں خرچ کرڈالتا ہے۔ اس کی نگاہ و تخیل کی حد ،اورا س کے ا سلوب کا جمال، اس← مزید پڑھیے
‘‘فطین ادیب‘‘ فطین ادیب(talented writer) ، اوسط درجےکے ادیب اور نابغے کے بیچ کی کڑی ہے،لیکن اس کا دونوں سے فاصلہ یکساں نہیں ہے۔ فطین ادیب، اوسط درجے کے ادیب سے خاصی دور ی پر، جب کہ نابغے کے قدرے← مزید پڑھیے
ادب کی تاریخ میں تین طرح کے ادیب ملتے ہیں: نابغے، فطین اور اوسط درجے کے ادیب۔ سب سے پہلے اوسط درجے کا ادیب(mediocre writer)۔ ہر نوع کی صلاحیت کے درجے ہیں: بنیادی، اوسط، اعلیٰ ، کمال۔اصولی طور پر ہر← مزید پڑھیے
” انسٹی ٹیوٹ میں گرما کی تعطیلات ہیں۔ شعبے کے سب لوگ سیر و سیاحت کی غرض سے کسی یورپی یا ایشیائی ملک گئے ہوئے ہیں۔ میں پورا دن اپنے اپارٹمنٹ میں لکھنے کا کام کرتا ہوں ۔ دوپہر کو← مزید پڑھیے
مُلا شمس الدّین کچھ مہینوں سے اپنے دل میں غضب اور تخیّل میں فساد محسوس کررہے تھے۔ ان کا دل کسی شئے کی طرف ایک پل کے لیے نہیں کھنچتا تھا،الٹا اس میں طیش اور وحشت کے بگولے اچانک اٹھتے۔← مزید پڑھیے
پہلے رفیع الدین ہاشمی، پھر اسلم رسول پوری نے رخت سفر باندھا۔ ہاشمی صاحب نے اقبال کے مطالعے میں عمر بسر کردی۔اپنی زندگی کی متاع ،ا یک ہی موضوع ، خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو،کی نذر کرنا← مزید پڑھیے
منٹو سماج کے حاشیائی کرداروں کو افسانے کے کبیری کردار بناتے اور ان کے عزائم و طرزِحیات کو افسانے کا نقطہء ارتکاز (Focalisation) بناتے ہیں۔ یہ عمل بجاے خود مرکز سے بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ مرکز کی مسلسل کوشش← مزید پڑھیے
(برادرم سرورالہدیٰ کےنام) میرے بس میں ہوتو میں ایک کمرے میں بند ہوں،جہاں میرے دل چسپی اور ذوق کی کتابیں ہوں، ایک بیڈ ہو، ایک لیپ ٹاپ، اور کچھ میوے ۔ کمرے کے باہر ایک گھنا درخت ہو۔ میرے لیے← مزید پڑھیے
جس طرح آزادگی کی خواہش جس قدر ہوگی ، پابستگی کا امکان بھی اسی قدر ہوگا۔ یا خوشی کی آرز وکرنا ہی،غم کو دعوت دینا ہے۔ شادی سے گزر کہ غم نہ ہووے اردی جو نہ ہو تو دے بھی← مزید پڑھیے
خاموشی اپنی تفسیر چاہتی ہے، خلا بھی اپنے پر کیے جانے کا مطالبہ کرتا ہے ،خاص طور پر اس وقت جب خاموشی ہولناک ہو ،اور خلا وحشت انگیز ہو۔ خاموشی اور خلا کا حقیقی تجربہ، ان سب کے لیے ہولناک← مزید پڑھیے