شاہین کمال کی تحاریر

اسنو مین (snow man)۔۔ شاہین کمال

وہ اتوار کی ایک مصروف صبح تھی۔ میں ڈسٹنگ کر رہی تھی کہ بیڈ روم کی ڈسٹنگ کے دوران میری نظر آنگن میں بیٹھے ہوئے باصر پر پڑی اور یہ کیا! میں وہیں منجمد ہو گئی ۔ باصر کے ہاتھوں←  مزید پڑھیے

تین م کی کہانی۔(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

میری زندگی کی سب سے پر مسرت گھڑی جب میری گڑیا ، میری گیتی اس دنیا میں آئی تھی۔ یہ پہلی چیخ اولاد کا واحد وہ “رونا” ہے جس پر ہر ماں ہنستی ہے۔ گیتی میری تتلی تھی، میری گوریا←  مزید پڑھیے

تین م کی کہانی(پہلا حصّہ)۔۔شاہین کمال

تمہاری پہلی چیخ مانو  میری زندگی کی تجدید تھی۔ تمہارا سارا پہلا پل مجھے یاد ہے۔ وہ تمہارا پہلا دانت ہو ،پہلا قدم یا اسکول کا پہلا دن، سب ابھی بھی میری یادداشت میں جھلملاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد←  مزید پڑھیے

ح-زادی۔۔شاہین کمال

صبح ہی صبح سَلو سے منہ ماری ہو گئی۔ میں لکڑی کے چولہے پر چائے چڑھا کر، شاہو کو جھگی کے پاس نالی پہ بیٹھا کر فارغ کروا رہی تھی کہ چائے اُبل گئی، بس اسی بات پر جھگڑا بڑھ←  مزید پڑھیے

ڈِنکی۔۔شاہین کمال

میں اب    پچاس کے پیٹے میں ہوں مگر وہ فقط پانچ سال کا ۔ہیپی برتھ ڈے میرے دوست ۔میں نے جھک کر اس کی قبر پر اس کی پسندیدہ ڈِنکی رکھتے ہوئے کہا ۔←  مزید پڑھیے

متحرک سائے ۔۔شاہین کمال

متحرک سائے(1)۔۔شاہین کمال/بیشتر لوگ بڑھاپے کی تنہائی سے خوفزدہ رہتے ہیں جبکہ بڑھاپے کی انجمن  آرائی الگ ہی ہے۔ فارغ وقت زندگی کے ہر گوشے میں فراخدلی سے جھانکنے کی سہولت فراہم کرتا ہے کہ کسی نے آنا نہیں اور ہم نے کہیں جانا نہیں گویا←  مزید پڑھیے

جونک۔۔شاہین کمال

اس وقت میں دنیا سے بیزار اور بور ترین شخص ہوں۔ گو میرے چاروں طرف کھلکھلاتے، چہکتے لوگوں کا مجمع ہے ۔ بھئ اب دلوں کے بھید تو اللہ ہی جانے ، پر بظاہر سب ہی کی باچھیں چری کھلیں←  مزید پڑھیے

تکمیل(افسانچہ)۔۔شاہین کمال

میرے میاں بڑے جانے مانے انٹلکچول ہیں۔ ایک دنیا ان کی گرویدہ و شیدا، خاص کر خواتین میں تو وہ بے حد مقبول و پسندیدہ ۔ ہمارے تین بچے ہیں اور میں سر تا پا گھریلو ذمہ داریوں میں غرق۔←  مزید پڑھیے

لہو پکارے گا آستیں کا۔۔شاہین کمال

افوہ !  آج بہت دیر ہوگئی ہے۔ کبیر نے جلدی جلدی اپنی بد رنگی شرٹ کا بٹن بند کرتے ہوئے کہا۔ کوئی بات نہیں پہلے ناشتہ تو کر لو۔ میں نے رات کی باسی روٹی کو پانی سے نم کر←  مزید پڑھیے

دیوار گریہ۔۔شاہین کمال

میں کیا سناؤں؟ میرا سینہ، سینہ بریاں ہے۔ شاید میں یاست پسند ہوں۔ مجھے غمگین کہانیاں ہی یاد رہتی ہیں کیوں کہ خوشیاں لمحاتی اور غم دائمی ہوتے ہیں۔ اب تو کل یگ ہی ہے ۔ چلو میں تمہیں اس←  مزید پڑھیے

افسانہ/تنہائی یکجائی(2،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

جیڈ کو میرے پاس اب سال سے اوپر ہو چلا تھا۔ جولائی کے مہینے کی بات ہے یونیورسٹی میں گرمیوں کی تعطیلات تھیں ۔میں اپنے کپڑے استری کر رہا تھا اور جیڈ مسلسل باوجود میرے منع کرنے کے استری کی←  مزید پڑھیے

افسانہ/تنہائی یکجائی(1)۔۔شاہین کمال

میرا نام عبدل سمیع ہے۔ میری زندگی نہ پوچھیے، گویا تنہائی کی تصویر و تفسیر تھی ،مجھے لوگوں سے بہت گھبراہٹ ہوتی تھی ۔ نہیں نہیں میں آدم بےزار نہیں! پر جانے کیوں دوسرے لوگوں سے connect نہیں کر پاتا←  مزید پڑھیے

عمر رفتہ کی ایک یاد دل گداز/ماسٹر نذیز۔۔شاہین کمال

محمد پور میں بھلا ماسٹر نذیر کو کون نہیں جانتا تھا۔ وضع دار، خوش اخلاق، دبلے پتلے سرو قد،گندمی رنگت والے ماسٹر نذیر ۔ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے لٹھے کا خالتہ پائجامہ اور کالی دھاری دھار شیروانی،←  مزید پڑھیے

قائدآباد کی قمر سلطانہ۔۔شاہین کمال

گھر میں ہفتے بھر سے مرگ جیسی خاموشی طاری ہے۔ جیسے یہاں کوئی ذی نفس نہیں بستا بلکہ سرگوشیاں کرتے گھٹتے بڑھتے سائے ایک دوسرے پر گِرے جاتے ہیں۔ اب سب اتنے خوش نصیب بھی کب کہ مرگ ہی ہو←  مزید پڑھیے

پنکھ پکھیرو۔۔شاہین کمال

سفر کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور اطراف میں بہت جوش اور گہماگہمی۔ ماں نے مجھے انجانے دیس کی کئی کہانیاں سنائی ہیں ،اور میرا جی چاہتا ہے کہ میں جادوئی قالین پر بیٹھ کر پلک جھپکتے←  مزید پڑھیے

الاؤ(دوم،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ میں بہت سیانا کوا تھا۔ میں اپنے پی۔اے اور ڈرایور کو ہمشہ اپنی مٹھی میں رکھتا تھا۔ ان پر نوازشات کی بارش کر کے ان کی زبان اور ایمان کو اپنے پاس←  مزید پڑھیے

الاؤ(حصّہ اوّل)۔۔شاہین کمال

میری زندگی پر سکون دریا پر ہلکورے لیتی بادبانی کشتی کہ مانند تھی۔ اس کو تند و تیز لہروں کے حوالے میں نے خود کیا تھا اور سچ تو یہ ہے کہ میں خود ہی سراسر قصوروار ہوں۔جب آپ چیزوں←  مزید پڑھیے

مُنّی نہیں مانتی۔۔شاہین کمال

اللہ کسی کو اولادوں کی قطار میں بیچ کی اولاد نہ بنائے، انہیں نہ تو بڑی اولا جیسا مان سمان ملتا ہے اور نہ ہی چھوٹوں جیسا لاڈ دلار ، بس ذمہ داریوں کی جکڑ بندیاں ہی نصیب ہوتی ہیں۔←  مزید پڑھیے

سنائپر۔۔شاہین کمال

میرا دفتر سنڑل پارک کے پُرفضا مقام پر ہے۔ بیسویں منزل سے یہ بھاگتی دوڑتی دنیا اتنی فتنہ خیز نہیں لگتی اور اتفاق سے میری کیوبکل کی کھڑکی بھی پارک کی سمت کھلتی ہے۔ میں عموماً اپنا کافی کا پہلا←  مزید پڑھیے

کلیڈو سکوپ(2،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

راگنی دو دن سے مختارے سلام کو نہیں آیا, کدھر ہے وہ؟ جرنیلی نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے تیکھے لہجے میں پوچھا؟ میں خبر لیتی ہوں میڈیم، کہیں دو دن کی لگاتار بارش میں بھیگ کر بیمار نہ ہو گیا←  مزید پڑھیے