افسانہ    ( صفحہ نمبر 2 )

عمامے سے عمامے تک/ پروفیسر فضل تنہا غرشین

عمامے سے عمامے تک/عماد جب دن بھر کی پرمشقت محنت و مزدوری کے بعد تھکا ماندہ گھر لوٹتا، تو سوچتا: “کاش میں بھی تعلیم یافتہ ہوتا یا کسی ہنر کا مالک ہوتا تو آج آرام کی زندگی بسر کرتا۔” عماد←  مزید پڑھیے

زومبیوں کا جتھا/محمدزاہد

برچھی ڈھال سے ٹکرائی اور تلوار تلوار سے۔ لوہے سے لوہا ٹکرانے کی یہ جھنکار وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تیزی لارہی تھی۔ بے روح جسموں میں تھکن کے آثار دور دورتک نہیں تھے۔ بے خوف و خطر لڑنے←  مزید پڑھیے

رگ جاں میں آگ/ فاروق نتکانی

پیش لفظ افسانہ “رگ جاں میں آگ” دنیا کہتی ہے کہ زمانہ بدلنے کے لیے طاقت چاہیے — میں کہتا ہوں، نہیں! زمانہ بدلنے کے لیے احساس چاہیے۔ ایک لمحہِ احساس پوری صدیوں کے سکوت سے بھاری ہوتا ہے۔ یہی←  مزید پڑھیے

اینوما /فاروق نتکانی

کہا جاتا ہے کہ تخلیق ہمیشہ خاموشی کے بعد ہوتی ہے۔ جب صدیوں کی سکوت کسی نکتے پر ٹھہرتا ہے، تو وہ نکتہ ایک نئی صدا کو جنم دیتا ہے۔ اور جب صدا کائنات کی ہندسی ترتیب سے ٹکرا کر←  مزید پڑھیے

وزیرہ بیگم/عارف خٹک

میرے ذہن میں آج بھی گاؤں کے واحد مولوی جبار گل کی باتیں نقش ہیں۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ہمارے ہاں جہیز کو اس لیے بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے کہ لڑکے والے شادی کے وقت لڑکی کو نقد←  مزید پڑھیے

سادھو (افسانہ)- زبیراسلم بلوچ

چندرپور کے پرانے کنارے پر ایک برگد کا درخت کھڑا تھا۔ اس کی جڑیں زمین کے سینے کو چیر کر ہوا میں سانس لیتی تھیں، اور اس کی چھاؤں میں ایک بوڑھا سادھو رہتا تھا۔ سادھو پرما نند۔ وہ کم←  مزید پڑھیے

کوٹھے کا پجاری (افسانہ) -زبیراسلم بلوچ

رات کی بانہوں میں لپٹی طوائف کے کوٹھے پر جلتی مدھم بتی ایسے لگ رہی تھی جیسے اندھیرے کے سینے پر آخری شعلہ تھرک رہا ہو۔ باہر گلی میں کتوں کی بھونک سنائی دے رہی تھی اور اندر وہ طوائف←  مزید پڑھیے

شبانہ ہیجڑے کی ادھوری کہانی/شمع اختر انصاری

1. 2007:کی ایک جمعرات تھی ۔ ابھی ہم نے بابا سرفرازکے دربار کے کھلے صحن میں قدم رکھا ہی تھا کہ کسی نے راستہ روک لیا ۔ مکمل سفید براق کپڑوں میں ملبوس اونچے لمبے وجود کو دربار کے دروازے←  مزید پڑھیے

ایک کوڑا اور/شہناز احد

کھلے گیٹ سے موٹر سائیکل اندر کرتے ہی گھر کے اندرونی حصے سے آنے والی اماں اور بھابھی کی ملی جلی آوازیں اسے کوڑے کی طرح لگیں، دونوں انتہائ خضوع و خشوع کے ساتھ محکمہ بجلی والوں کو ان کی←  مزید پڑھیے

ایک اجڑی بستی کا افسانہ/ اعظم معراج

کہتے ہیں، ہزاروں برس پہلے بحیرۂ عرب کے کنارے ایک ننھی سی ساحلی بستی آباد تھی۔ وہ بستی دراصل قدرت کی عطا کردہ بندرگاہ تھی، اور یہی اس کے باسیوں کا رزق و روزگار تھی۔ ان کی زندگی کا دارومدار←  مزید پڑھیے

سٹیم روم (ایک افسانچہ)-عاطف ملک

سٹیم روم میں  بھاپ پھیلی تھی۔ چھوٹا سا کمرہ   جس میں داخل ہوں تو زمین پر چوکوار جالی دار چوکٹھا تھا جس میں سے بھاپ نکلتی رہتی تھی۔  ہمیشہ خیال کرنا پڑتا تھا کہ ٹانگ اس بھاپ اگلتی جالی سے←  مزید پڑھیے

تو تم بھی؟-حبیب شیخ

“ہیلو۔” “ہیلو، سلام یار۔” وینا نے دیوار پہ سجی گھڑی کی طرف دیکھ کر کہا، “دو تین بار فون کر چکی ہوں۔ بارہ بجے تک تو تم اٹھ جاتی ہو۔ سب خیریت ہے نا آج—” “تم میرا کیوں اتنا فکر←  مزید پڑھیے

جدید دیوتاؤں کی تخلیق/سیّد محمد زاہد

وہ کئی دن سے اس سنگ مرمر کو دیکھ رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ یہ چٹان اس کے حسین تصورات کا روپ دھارے گی۔ سرمئی دھنک اور سپیدی سے ابھرتی باریک سیاہ لکیروں میں خلط ملط شبیہ ظہور پذیر←  مزید پڑھیے

بابا پیر کی جوئیں / مصباح نوید

توت کی لچکدار شاخیں موڑ کر مہارت سے چھجا سا بنایا ہوا تھا۔مدھو مالتی کی بیل کے نیچے ادھ چھپا برآمدہ سیمنٹ کا فرش،دیواروں کے ساتھ اکھڑا چونا پڑا تھا۔گھر کا داخلی دروازہ برآمدے میں کھلتا تھا۔ روشندانوں اور کھلی←  مزید پڑھیے

چھوٹا گوشت/کلثوم رفیق

پیاز ٹماٹر بھی ختم ہو رہے ہیں۔۔۔ لیتی جاؤں۔۔۔ آصف نے بھی آج جلدی آجانا ہے۔۔۔ آج آصف کی پسند کا کھانا بن جاۓ تو۔۔۔۔ پر آصف کو تو۔۔۔۔۔! کیسے دے رہے ہو پیاز۔۔۔؟ باجی سستے ہیں اب تو ریٹ←  مزید پڑھیے

پُر امن مسکن/سید محمد زاہد

مقبوضہ علاقوں کے باسیوں کی زندگی موت و حیات کے گہوارے میں جزر و مد کی طرح جھولتی رہتی ہے۔ جہلم ندی کی موجیں انہیں جھولے جھلا رہی تھیں۔ لائف جیکٹس سے کبھی ہوا نکال کر گہرے پانی میں غوطہ←  مزید پڑھیے

پاکستانی ہو یا ہندوستانی؟-مسلم انصاری

اب جیسی لکھی ہو ویسی آنے سے روک کون سکتا ہے، ہاں مگر ذی شعور ہوں تو ایک خوف سا جگہ بنا لیتا ہے تقسیم ہند پڑھتے تھے، اپنے پُرکھوں کی ہجرت ان کی آنکھوں میں دیکھ رکھی تھی اور←  مزید پڑھیے

افسانہ۔ لمس/نیلم احمد بشیر

ہاں ہاں پتہ ہے پتہ ہے کہ میری عمر بہت ہو گئی ہے ۔قبر میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھی ہوں ۔بہت سی بہاریں اور بہاروں کے نام پر عجیب و غریب زمانے دیکھ چکی ہوں ۔یہ بھی معلوم ہے کہ عنقریب←  مزید پڑھیے

وجود/سید محمد زاہد

’’گڈ مارننگ! اس نئی کلاس میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ میرے پڑھانے کا طریقہ روایتی ہے اور نہ ہی آپ سکول کے بچے کہ آپ کو قلم پکڑنا سکھایا جائے یا رٹے لگوائے جائیں۔ یونیورسٹی کی تعلیم سکول←  مزید پڑھیے

ادھوری کہانی/سخاوت حسین

شام کا وقت تھا میں اورٹینا ساحل پر ٹہل رہے تھے۔ ہم اکثر ہفتے کے دن وقت گزارنے یہاں آتے تھے۔ ہفتے کی مشقت بھری ملازمت سے نجات ملنے کے بعد یہاں ٹہلنا کسی خواب سے کم نہ ہوتا تھا۔←  مزید پڑھیے