نوٹ: حارث بٹ نے ایک سچا واقعہ بیان کیا جسے میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ افسانے کی شکل دی ہے – محمد بوٹا کی زندگی میں وقت کا پہیہ رک سا گیا تھا۔ مریال کے کھیت، پرانے درخت، اور کچے← مزید پڑھیے
یہ 1947 کی بات ہے۔مغربی پنجاب کی ہوا مسلمانوں کے دبدبے سے بھاری ہو گئی تھی۔اتنی بھاری کہ بچارے اللہ رکھے کے لئے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا تھا۔اللہ رکھا مسلمان نہیں تھا اس نے طرف اپنی جان بچانے← مزید پڑھیے
ملتان کی مٹی ہمیشہ سے کہانیوں اور رازوں کا بوجھ اٹھاتی آئی تھی۔ یہ وہ شہر تھا جہاں لفظوں کا دیوتا صدیوں سے اپنی کہانیاں لکھتا آیا تھا، جہاں عشق اور غم کی داستانیں گلیوں میں سرگوشیوں کی صورت بکھرتی← مزید پڑھیے
سفر طویل ہو اور راستے میں گاڑی جُل دے جائے تو بھلا اس سے بڑی کلفت اور کیا ہو گی؟ ڈرائیور نے تپتے بونٹ کو دقتوں سے کھولا تو پتہ چلا کہ ریڈی ایٹر میں پانی ندارد اور گاڑی کی← مزید پڑھیے
ہاسٹل کے کمرے سے خوش گپیوں اور قہقہوں کی گونج ساتھ والے کمروں سے دو تین لڑکیوں کو اس کے کمرے میں آنے پر مجبور کر چکی تھی۔ یہ اس کا پہلا دن تھا جب وہ اپنے گاؤں سے باہر← مزید پڑھیے
اپنے کپڑے بدلتے ہوئے راجن نے ریتا سے کہا،جو کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی: ”لفٹ میں آتے سمے میں نے ڈاکٹر پامانی کو لفٹ سے باہر نکلتے دیکھا ہے۔بلڈنگ میں شاید کوئی بیمار ہے۔“ ریتا← مزید پڑھیے
”ستر سال میں میری گردن کبھی نہیں جھکی اور نہ میں نے کبھی ہاتھ پھیلایا ہے، گورا سرکار بھی میرے گھٹنوں پر ہاتھ لگاتی تھی(فضل بخش نے حقے کی نے منہ سے نکالتے ہوئے کہا) اب گردن میں اکڑ اتنی← مزید پڑھیے
یہ ان دنوں کی بات تھی جب مجھے نوکری کرتے ہوئے چند ہی سال ہوئے تھے تب میری شاعری کی پہلی کتاب چھپی۔ میں کالج کے زمانے سے محبت کی نظمیں کہا کرتا تھا۔ ان دنوں محبت مجھ پر ایتھر← مزید پڑھیے
سردیوں کی لمبی اور اداس رت میں دھڑکنیں بھی برف ہو جاتی ہیں۔ اپریل کے مہینے میں سورج نے منہ دکھایا تو برف پگھلنا شروع ہوئی۔ درختوں سے جھانکتا سورج بمشکل اتنا گرم تھا کہ دیودار اور صنوبر کے درختوں← مزید پڑھیے
شادی کے بعد سے ہمارا یہ معمول رہا تھا کہ مہینے میں ایک اتوار رات کھانا باہر کھایا جاتا. اس تسلسل میں بچوں کی آمد کے بعد کبھی ان کی نا سازی طبع تو کبھی کسی اور سبب متعدد بار← مزید پڑھیے
وہ دِلی کی حویلی سے نکلنے والا اپنے خاندان کا آخری شخص تھا۔ یہیں اس نے آنکھ کھولی تھی۔ اسی حویلی کے صحن سے اس نے اپنے باپ کا جنازہ بھی اٹھایا تھا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا← مزید پڑھیے
تنہائی اپنے وجود کی گُھٹن سے مرتی ہے ۔نہ اسے خوشی مار سکتی ہے اور نہ ہی رونق کی انتہا۔ آپ میلوں ٹھیلوں کی رونق میںَ اکثر تنہا ہو جاتے ہیں اور عین تنہا کمرے میں ناچ اور جھوم رہے← مزید پڑھیے
راشد اور ارشد دوست تھے۔ راشد نے پانچویں کے بعد بھی سکول کی تعلیم جاری رکھی اور ارشد کے ابّا نے اسے پانچویں کے بعد سکول سے ہٹا کر مدرسہ میں داخلہ دلوا دیا۔ راشد کے تعلیم مکمل کرنے تک← مزید پڑھیے
ممبئی، وہ شہر جو کبھی نہ سوتا تھا، اپنی صبحوں میں ایک عجیب بے چینی اور مستعدی رکھتا تھا۔ یہاں وقت جیسے خوابوں اور حقیقت کے درمیان ایک مبہم سرحد پر رقص کرتا تھا، جہاں ہر شخص ایک جاگتے خواب← مزید پڑھیے
ایک خوبصورت زندگی کا خاتمہ یقیناً ایک شاندار موت ہے۔ شاندار موت وہ ہے جس کی آہٹ پا کر غم سے سلے لبوں پر مسکان کھلنے لگے۔ ایک اطمینان بھری سانس کہ نہیں، اب نہیں؛ زندگی کی تلخیوں بھرے صبر← مزید پڑھیے
عمر بیت چکی ہے اب مجھے شہنائیوں کے شور میں چوڑیاں ٹوٹنے کی آواز سنائی پڑتی ہے کبھی کبھار گلی میں کچھ بچوں کا شور اٹھتا ہے تو نبض تیز چلنے لگتی ہے، میں سوچتی ہوں کہ شاید کسی بچے← مزید پڑھیے
چھت کی جانب جاتی ہوئی چیونٹیوں نے دیکھا کہ اس کمرے میں مدت بعد آدمیوں کی آواز سنائی دی ہے۔ان کے ننھے قدم رک گئے۔کچھ دیر تو انھیں سمجھ ہی نہ آئی کہ وہ کیا کریں۔ان میں سے چند ایک← مزید پڑھیے
اب تو یادوں کی پٹاری سے کوئی یاد نکالنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا الجھے ہوئے ریشم کے ڈھیر سے کسی مخصوص رنگ کا ریشم تلاشنا۔ سب کچھ گڈ مڈ ہو گیا ہے، سوچنے کچھ بیٹھو، یاد کچھ اور آ← مزید پڑھیے
رحمان کو بچپن سے ہی جنگلی حیات سے محبت تھی۔ اس نے ہمیشہ افریقہ کے سفاریوں کی تصویریں دیکھی تھیں اور خواب دیکھا تھا کہ کبھی وہ بھی وہاں جائے گا۔ لیکن غربت اور معاشی مشکلات نے اس کے خوابوں← مزید پڑھیے
نوٹ: ہمیں گھر، اسکول ، کالج ، یونیورسٹی ، بازار ، مسجد ، کلیسا ، مندر میں ہی نہیں بلکہ ہر ایک آموزش میں یہی تبلیغ کی جاتی ہے کہ ترقی کے ٹاپ پر پہنچنے کا ایک ہی راستہ ہے← مزید پڑھیے