اک پھیرا اپنے دیس کا (3)۔۔کبیر خان/عزیزہ کی شادی کی تیاریوں کا نازک ترین مرحلہ آیا تو گھر میں ایک ہنگامی صورتِ حال پیدا ہوگئی ۔ بیگم نے نہار منہ اپنی خدمتِ اقدس میں طلب فرما کر پوچھا: ’’راولاکوٹ میں دیمک پروانی ہے کیا؟‘‘۔ اس پُرسشِ احوال پر ہم کافی گہرائی تک سٹپٹا گئے ۔← مزید پڑھیے
رودادِ سفر(10) چائینہ:اورمچی کی گھٹن زدہ فضا میں قیام۔۔شاکر ظہیر/جیسا کہ گزشتہ قسط میں ذکر کیا تھا کہ چائنا کا ویزہ لگوانے کے لیے راولپنڈی میں ایک ٹریول ایجنٹ سے رابطہ کیا اور ویزہ لگوانے کے لیے ڈاکیومنٹس اس کے حوالے کر دیے تھے۔← مزید پڑھیے
’’ مگر میں جاننا چاہتی ہوں کہ تم راولاکوٹ کی گلیوں میں جب کسی شریف عورت کو دیکھتے ہو تو پورا منہ کھول کر کیوں دیکھتے ہو ۔؟‘‘ خواتین خواہ لکھائی پڑھائی میں طاق ہوں ، چاہے سلائی کڑھائی میں← مزید پڑھیے
کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی ان کے در کبھی در بدر غم عاشقی تیرا شکریہ ہم کہاں کہاں سے گزر گئے میں نے چائنہ جانے کا حتمی فیصلہ کر تو لیا اور منہ بھی طرف چائنا شریف کر← مزید پڑھیے
سب مل ملا کر نتیجہ شدید سر درد اور طبیعت میں بے زاری اور چڑچڑاپن۔ گھر پہنچی تو نور بےچین، روئے جائے، روئے جائے۔ پیٹ کی مالش بھی کر دی، اسپنج باتھ بھی دے دیا۔ الٹا لیٹا کر ہلکے ہاتھوں← مزید پڑھیے
’’چھی چھی چھی۔۔۔ میں کہتی ہوں ، بھگیاڑجتنا منہ کھول کر مت دیکھو ، اُوپر والے نے اس کام کے لئے تمہیں یہ بڑی بڑی دوآنکھیں دے رکھی ہیں ۔ بندہِ خدا! گورے کالے، نیلے پیلے براعظموں میں جوتیاں چٹخا← مزید پڑھیے
کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے ہر زمانے میں شہادت کے یہی اسباب تھے تائیوان پانچ چھ سال گزارنے کے بعد وہاں کی حسین یادیں اور کچھ مشاہدات کے ہمراہ میں واپس پاکستان پہنچ گیا۔ ایئرپورٹ پر← مزید پڑھیے
تائیوان میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 60 ہزار کے قریب ہے۔ یہ تعداد اب انڈونیشیا کے ورکرز کی وجہ سے بہت بڑھی ہے اس کے علاوہ جن لوگوں نے وہاں مقامی لوگوں سے شادیاں کی ہیں ان سے بھی مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔← مزید پڑھیے
تائیوان میں لوگ اپنے الگ رسوم ورواج رکھتے ہیں ، عقائد یا صرف نام کی حد تک ہی مسیحیت کے پیروکار ہیں ۔ بہت سے لوگ چرچ جاتے ہیں اور دعا میں بھی شریک ہوتے ہیں ۔← مزید پڑھیے
طوفانوں کے ٹلنے میں، موسم کے بدلنے میں اِک سوزِ دروں رکھنا، آنکھوں میں نمی رکھنا تائیوان کے شہر hualien کے ریلوے سٹیشن پر اُترنے کے بعد میں اور فاروقی صاحب نے ٹیکسی پکڑی اور مختلف سڑکوں سے گزرنے کے← مزید پڑھیے
گیسوؤں کے سائے میں آرام کش سر برہنہ زندگی تھی، میں نہ تھا دیر و کعبہ میں “عدم” حیرت فروش دو جہاں کی بدظنی تھی، میں نہ تھا فلپائن سے تائیوان جانے کے لیے منیلا ایئرپورٹ پہنچے, میں اور فاروقی← مزید پڑھیے
غیر مسلم معاشرے میں جہاں رومن کیتھولک کی اکثریت ہے ، یہ لوگ کیسے زندگی گزارتے ہوں گے اور ان کی آئندہ نسلیں کیسے اپنی مذہبی اور تہذیبی روایات کو برقرار رکھیں گی؟← مزید پڑھیے
ایک جاپانی لڑکی سے ملاقات ہوئی جو شمالی علاقہ جات سے واپس آرہی تھی اور مردوں کے سفر کے دوران پیش آنے والے رویے پر افسوس کر رہی تھیں ۔ میں نے اس سے بات چیت شروع کی اور بات یہ کی کہ آج یہ سب لوگ اچھے اور بُرے اعمال کر رہے ہیں کسی کا اسے صلہ مل جائے گا اور کچھ رہ جائیں گے اور جو صلہ ملے گا وہ بھی کیا اس کے عمل کے مطابق ہو گا ؟← مزید پڑھیے
سفر ہم ٹرین سے ہی کرتے تھے۔ بعض اوقات ان ٹرینوں میں جب میں اکیلا غیر ملکی ہوتا، تو پاس بیٹھے چائنیز میں سے کوئی نہ کوئی اسلام کے متعلق اپنے تبصرے سے ضرور نوازتا ۔ چائنا کے زیادہ تر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ مسلمان بہت جھگڑالو ہیں، مذہب کے نام پر پوری دنیا میں قتل عام اورغارت گری مچا رکھی ہے← مزید پڑھیے
اچھی چائے کا ایک کپ،اچھی کتاب اور سیر سپاٹا کوئی ان کے بدلے ہفت اقلیم بھی دے تو نہ لوں۔ قہوے کی خوشبو کمزوری کِسی گلی محلے سے گزرتے ہوئے یہ مہک باورچی خانے کی کھڑکی سے اُچھلتی کُودتی باہر← مزید پڑھیے
جی تو چاہا تھاپُوچھوں اور پھر پُوچھ بھی لیا۔ ”میاں ہم تو ابھی اِسی راستہ سے گزرے تھے۔کوئی زیادہ دیر کی بات تھوڑی ہے۔ یہی کوئی گھنٹہ بھر ہوا ہوگا۔بے شک چیزوں اور منظروں کا کھلارا بے حدو حساب سا← مزید پڑھیے
ڈاکٹر ندال جمعہ سے ملنا بھی دلچسپ اور خوبصورت یادیں دینے والا تجربہ تھا۔ مگراِس سے بھی پہلے ایک اور مسرورکن تجربے سے دوچار ہونا پڑا۔کرنل بصیر الحانی کے گھر سے چلے توپونے دو بج رہے تھے۔سیدھی شفاف سڑک پر← مزید پڑھیے
تو وہ منحوس گھڑی آگئی۔آنکھوں میں آنسو، لب پر دُعائیں۔اور جب بغداد جل رہا تھا میں خود سے پوچھتی تھی۔”وہ آخر اتنی فوجیں کیا ہوئیں؟ ڈھائی کروڑ آبادی والے مُلک کی باقاعدہ فوج کوئی چار لاکھ کے قریب ری پبلیکن← مزید پڑھیے
بلتستان کا ضلع گانچھے الگ تھلگ سربلند پہاڑوں کے بیچ بسی دلکش وادیوں، دلنواز بستیوں اور کھلی دریائی زمینوں کے ساتھ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے کوئی دوشیزہ اپنے حسن و جمال کے پورے ادراک کے ساتھ سہمی گھبرائی ہوئی← مزید پڑھیے
استنبول میں صبح کے دس بج رہے تھے جب میں اور فاخرہ اتاترک انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے باہر نکلے۔میں اس سے پہلے بھی کئی دفعہ استنبول آچکا ہوں۔ لندن انڈرگراونڈ ٹرین کا اوسٹر(Oyster) اور استنبول کا ٹرانسپورٹ کارڈ عموماً میرے سفری← مزید پڑھیے