بس مالک! اب تجھ سے بھی ہم کیا مانگیں؟ رت جیون کی، تنہا روتے بیت گئی سندر خواب، سہانے کل کے راکھ ہوئے قندیلیں بھی ،آس کی اپنی، خاک ہوئیں تار،تار ہے دامن بھی امیدوں کا اور چہرے پر سایہ← مزید پڑھیے
میں نے پہلی بار یہ منظر تبھی دیکھا تھا جب رتھ بان نے مجھ کو بتایا تھا کہ مُردہ جسم کے انتم چرَن کی یاترا میں ۰ اس کو اگنی کے حوالے کر دیا جاتا ہے ۔۔۔ تب اک بار← مزید پڑھیے
اور پھر ایسے ہُوا’ اک نرتکی نے (نرتکی۔ رقـاصہ) خوب رُو آنند کو بانہوں میں بھر کر یہ کہا: ’’تم سَنگھ سے باہر چلے آؤ، یہ میری دولت و ثروت’ یہ جاہ و حشم، یہ اونچا محل اور سب سے← مزید پڑھیے
سرائیکی شاعری جہاں مسدس اور ڈوہڑا بنیادی اصناف ہیں لیکن اِس زبان میں غزل کے تجربے کی تابناکی اور بے باکی بھی کئیوں کو متاثر کر چکی ہے۔ اسی طرح جہاں تحصیل تونسہ نے جدید شعراء کی کھیپ مہیا کی← مزید پڑھیے
ذرا سا پلٹ کر سمندر نے اک آنکھ کھولی کہا خود سے، اب کیا کروں میں، بتاؤ مرے پیٹ میں آگ کا زلزلہ جس کی بنیاد صدیاں ہوئیں ۔۔۔ کچھ دراڑوں میں رکھی گئی تھی نکلنے کو اب کسمسانے لگا← مزید پڑھیے
شبدوں میں رس گھولنے والا محبت ،دھنک ،رنگ اور خوشبو اوڑھ کر مسرتوں کی گلبانگ راہ پہ چلتا ہوا شبدوں میں رس گھولنے والا وہ اک شخص جو مقدر کا ستارہ ہے سنہرا جھلمل سایہ شبنمی پھولوں میں بھیگا سفر← مزید پڑھیے
یہ گنگناتی ہوا کے نغمے وہ شاخ-جامن کی نرم شاخوں پہ دف بجاتے ہوئے پتاور وہ سامنے ادھ کھلے گلابوں کی سرخیوں پر، یوں چمچماتے ، سفید موتی حسین سبزے کے نرم سینے میں جھولتے چھوٹے، چھوٹے پھولوں کی مستیاں← مزید پڑھیے
از سر نو محبت کا سوچیں کہ بات زندگی جینے کی ہے بات محبت کی ہے اور محبت میں شرک کیسا جاؤ کسی مزارکی جالی سے دھاگہ باندھو کبوتروں کو دانہ ڈالو پرندوں کو آزاد کرو رشتوں کی گرہیں کھولو← مزید پڑھیے
شور ش ِ باطن کے ہیں احباب منکر، ورنہ یاں دل ِ محیط ِ گریہ و لب آشنائے خندہ ہے ۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند اہل ِ فارس کی طرح، اے بندہ پرور، آپ بھی کچھ عجب اغلاط کے وہم و← مزید پڑھیے
بندگی میں بھی وہ آزادہ و خود بیں ہیں، کہ ہم اُلٹے پھر آئے، در کعبہ اگر وا نہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند آپ اگر کہتے , بصد نخوت و طرہ بازی الٹے پھر آئے، در میکدہ گر وا← مزید پڑھیے
لاہور تری ان سڑکوں پر اک خوشبو عشق ۔۔۔کی آتی ہے۔۔۔ پھر شام کے کہرے میں لپٹی اک یاد مسلسل روتی ہے تب۔۔۔۔کاسنی دھند آترتی ہے چپ چاپ سی۔۔۔کالی آنکھوں میں۔۔۔۔ اسلام پورے کی سڑک پہ جا۔۔۔۔ ارمان مچلنے لگتے← مزید پڑھیے
راستہ کہتا ہے ، مجھ سے بچ نہیں سکتے تمہارے پاؤں اور میں لازم و ملزوم ہیں زنجیر میں بندھے ہوئے ہیں۔ اور میں کہتا ہوں میرے پاؤں چلتے ہیں کہ آگے منزل ِ مقصود میری منتظر ہے! راستہ ہنس← مزید پڑھیے
بحر خفیف میں ’’رن آن لائنز‘‘ میں اردو میں پہلا تجربہ مالا دی دامور (Paris 1984) آپ کے شہر میں سُنا تھا، بہت پھول ہوتے ہیں، پھولوں کی مانند تازہ مسکان، ادھ کھِلے غنچوں کا تبسم ہے ۔۔۔ چاند راتوں← مزید پڑھیے
بُھولا بِسرا دیس انگلستان جیسے اک کباڑی کی دکاں ہو
بوڑھے، دیرینہ، دریدہ
چیتھڑوں سے مرد و زن بکھرے ہوئے
کٹھ پتلیوں سے
بانس کی ٹانگوں پہ چلتے
مسخرے سرکس کے جیسے منہ بسورے
ہنس رہے ہوں← مزید پڑھیے
آج کا دن اور کل جو گزر گیا۔۔یہ دونوں میرے شانوں پر بیٹھے ہیں کل کا دن بائیں کندھے پر جم کر بیٹھا میرے بائیں کان کی نازک لو کو پکڑے چیخ چیخ کر یہ اعلان کیے جاتا ہے ’’میں← مزید پڑھیے
ستیہ پال آنند:
تو کیا ہے؟ مسلماں ہے یا کافر ِ زنـاری؟
کچھ بھی ہے، سمجھ خود کو اک معتقد و مومن
مخدوم و مکرم ہو، ماجد ہو، مقدس ہو
ممت اذ و منور ہو، برتر ہو زمانے سے
ہاں، دولت ِ لافنی ہے، رتبہ ء شہ بالا← مزید پڑھیے
1-حیوان ِ ناطق اچھا، طوطے ، یہ کہو یہ لوگ اکثر جھوٹ ہی کیوں بولتے ہیں؟ جھوٹ تو بولیں گے ۔۔۔ مولا نے زباں جو دی ہے ان کو دیکھ، مَینا جانور سچےہیں کیونکہ بے زباں ہیں! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2-نسل کش← مزید پڑھیے
آئینہ در آئینہ سے یہ اقتباس، صرف ان دوستوں کے لیے ہے، جو فن ِ شعر کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے خواہاں ہیں ۔ سوال :(علامہ ضیائی) شاعری زندگی اور موت کی بند عمارت میں دروازے کی درزوں میں← مزید پڑھیے
کسی کارِ زیاں میں وہ بہت مصروف رہتا ہے کبھی گر دل میں یہ آئے کہ اُس کے پاس جا بیٹھیں کہیں اُس سے نہاں خانوں میں جو گُم ہیں سبھی باتیں کسی ویراں جزیرے کی (مِرے اپنے جزیرے کی← مزید پڑھیے