شاعری    ( صفحہ نمبر 6 )

درد اِک نقاش۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

درد ، اک نقاش اس کے جسم پر تصویر سازی کے عمل میں پھیلتا رکتا، تڑپتا، سرسراتا جونک سا مکڑی کے جالے کی طرح تن سا گیا ہے! کسمساتا، درد سے بے حال، وہ اک بے زباں نادر نمونہ بن←  مزید پڑھیے

بول کر بھی کیا کروں گا ؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گو مگو کی کیفیت محسوس ، نا محسوس، ہونے یا نہ ہونے کا اعادہ سوچنے اور کر نہ سکنے کا ہراس و وسوسہ ماضی کی دادیں بھول جانے کی سزا میرا مقدر تو نہیں تھا! میں کوئی دُشینت یا ہیملٹ←  مزید پڑھیے

​مالادی دامور( Maladie D Ámour) مرض ِ عشق۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آپ کے شہر میں سنا تھا، بہت پھول ہوتے ہیں، پھولوں کی مانند تازہ مُسکان، ادھ کھلے غُنچوں کا تبسم ہے۔۔۔چاند راتوں کی دھوپ ہے اور چاندنی کی تپش میں تو لمبے سفر پہ نکلا ہوا اک مسافر تھا، ایک←  مزید پڑھیے

نور کیا ہے؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

​یہ نظم کئی برس پہلے لکھی گئی تھی ۔ بوجوہ مکمل نہ ہو سکی کہ مدرسہ ہائے تصوف کے بارے میں جن کتابوں کی مجھے ضرورت تھی وہ امریکا میں دستیاب نہیں تھیں۔چھ  سات علما کو ، پاکستان اور ہندوستان←  مزید پڑھیے

میں دو جنما۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آج کا دن اور کل جو گزر گیا۔یہ دونوں میرے شانوں پر بیٹھے ہیں کل کا دن بائیں کندھے پر جم کر بیٹھا میرے بائیں کان کی نازک لو کو پکڑے چیخ چیخ کر یہ اعلان کیے جاتا ہے ’’میں←  مزید پڑھیے

آؤ، خود کو گالی دیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

خود کو کہہ کر دیکھیں تو یہ قند مکرر جیسی باتیں ۔۔ “سالا عیبی ہے، مذموم” “ان گھڑ، بے ڈھنگا، ادنیٰ ہے” “اوچھا ، بد تہذیب، کمینہ، شیخی خور” “لغو، فضول ” “گویا چہرے پر لکھا ہو اول جلول۔۔” “بد←  مزید پڑھیے

الاؤ۔۔۔بنت الہدیٰ

(دعا زہرا کے بابا مہدی علی کاظمی کے نام) “وجود مٹی مٹی ہوجائے تب جا کر بنیاد بنتی ہے. جان لو خاک میں مل کے ہی تعمیر ہوتی ہے ” بوڑھے باپ نے مٹی بھرے ہاتھوں سے گارا اٹھایا. بھٹے←  مزید پڑھیے

اپنی تصویر دیکھ کر روئیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

سوال مسخ شدہ، بد زیب،اُوپرا چہرہ بد وضعی، بد زیبی کی تزئین میں اجبک کل کا حسن مثالی آ ج کا بد ہیئت، بے ڈھنگا بول آ ئینے، کیا پیری کا یہی ہے چہرہ؟ جواب حجریات سے باہر نکلو، دیکھو←  مزید پڑھیے

​وقت کا بوڑھا جپسی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

وقت کا بوڑھا جِپسی یہ کہتا ہے مجھ سے لوگ جو اتنی چلدی بؤرھے ہو جاتے ہیں تو کیسے لگنے لگتے ہیں! رخساروں پر زردی۔۔۔آنکھوں کے نیچے بد رنگ گڑھے سے اورآنکھوں کے دائیں بائیں کسی پرندے کے پہنجے کے←  مزید پڑھیے

اس دشت الفت میں۔۔سیّد محمد زاہد

اس دشت الفت میں جنوں کے رنگ بھرے شباب دیکھے۔ مدھ بھری آنکھوں میں ڈوبتے ابھرتے خواب دیکھے۔ بے برگ و ثمر چاہتوں کے سراب دیکھے۔ مخملی پیکر رعنائیاں جن کی ریشمی پوشاک کو شرمسار کریں ناگ منی منہ میں←  مزید پڑھیے

تو ۔۔کیا سمجھیں؟/ڈاکٹر صابرہ شاہین

پربت کی مخمور پون محسوس کرے ماٹی کا بدن تو کچے سے کچنار کنول کے ، پات پہ اترے چاند کی ،البیلی سی کرن تب من کا پپیہا ، بول اُٹھے الہڑ سا کوئی بے داغ سخن تب مست چناروں←  مزید پڑھیے

طفلِ سِن رسیدہ۔ ستیہ پال آنند

سو برس کا میں کب تھا، منشی ِ وقت؟ کب نہیں تھے؟ ذرا بتاؤ تو تم یقیناً کہو گے، بچپن میں کھیلنے کودنے میں وقت کٹا جب شباب آیا تو ؟۔۔کہو، ہاں کہو کیا برومند، شیر مست ہوئے؟ کیا جفا←  مزید پڑھیے

دیکھ سہیلی۔۔ڈاکٹر صابرہ شاہین

چند سطریں ، کچھ جملے ،چند اک لفظ ہیں جو کہ بھنور بنے ہیں نظر دریچوں درزوں سے چھن چھن کر آتی جذبوں کی اک، تیز شعاع میں اندھی خواہش کے ذرّوں کو رینگتا اور مسلسل، اُڑتا ہردم شور مچاتا←  مزید پڑھیے

​مرزا غالب اور ستیہ پال آنند ،بہم گفتگو

لکھا کرے کوئی احکام ِ طالع ِ مولود کسے خبر ہے کہ واں جُنبش ِ قلم کیا ہے (غالب) —————— ستیہ پال آنند “لکھا کرے کوئی احکام ِ طالع ِ مولود” حضور، “کوئی” سے آخر مراد کیا ہے یہاں؟ مر←  مزید پڑھیے

ملامتی ہوں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

“ملامتی ہوں” صوفیوں کے ملامتیہ فرقہ کے ایک فرد کے بارے میں ہے، جو واحد متکلم “میں” First Person Pronoun کے فارمیٹ میں لکھی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ “انا” کو ختم کرنے کے ہزاروں اقدام کے بعد کیا←  مزید پڑھیے

غالب پر ایک نظر ثانی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گر بہ معنی نہ رسی جلوہ ٔ صورت چہ کم است خم ِ زلف و شکن طرف ِ کلاہے دریاب غالبؔ کی نیک روح سے معذرت کے ساتھ کہ اس نظم میں اس کمترین شاعر ستیہ پال آنند نے غالبؔ←  مزید پڑھیے

​سنسکرت کی “شِشو کتھائیں” (بچوں کی کہانیاں)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بادل کی آنکھوں میں آنسو بادل کی آنکھوں میں جلتے گنتی کے کچھ آنسو ہی تھے ڈھلک گئے تو اس کو راحت کا کچھ کچھ احساس ہوا، پر نیچے دھرتی پر تو جیسے آگ لگ گئی ایک جھڑی سے دھوپ←  مزید پڑھیے

کُونج کنواری۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

میں ہوتا اس دور میں تو سلوا ـ ن کو اتنا کہہ ہی دیتا چودہ برس کی کونج کنواری ٹھنڈی آگ کو اس گھر میں مت لاؤ، راجہ جس میں بارہ تیرہ برس کا ایک کھلندڑا بالک بھی رہتا ہے←  مزید پڑھیے

گیارہ سروں والا اک راونؔ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

دس سر والے راونؔ کے کندھوں پر میں نے اپنا سر بھی ٹانک دیا ہے اب دیکھیں، گیارہ سر والے نئے نویلے شکتی مان راون کو ہرانے کون آئے گا؟ رامؔ بھلا کیسے کاٹے گا راون کے دس کے دس←  مزید پڑھیے

OBITUARY (خود وفاتیہ)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

یہ نظم میں نے اپنی موت کے بعد لکھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ سر پھرا ، پاگل تھا وہ اک شخص جس نے دل کے بیت المال سے حاصل شدہ الفاظ کے عمدہ، نمو پرور لہو سے شاعری کی پرورش کی تھی←  مزید پڑھیے