پچھل پیریاں ہیں، چڑیلیں ہیں ، کیچڑ میں دھنستی ہوئی اپنی ماہواریوں تک ! انہیں کیمائی گِل و آب میں آج دھنسنے نہ دو ، اے عزیزو کہ یہ کِشت و خوں کی مشینیں ہیں قدرت کی بھیجی ہوئی اس← مزید پڑھیے
( کینیڈا میں یوم ِ غالب پر اطہر رضوی صاحب کے سالانہ جلسے میں دس بر س پہلے، یعنی 2012 میں پڑھی گئی) مصرع طرح: ہماری زندگی کیا اور ہم کیا ہے یہ بے فیض انساں کا جنم کیا ہماری← مزید پڑھیے
(خواب میں خلق ہوئی ایک نظم) اپنے اندر اس طرح داخل ہوا وہ جیسے رستہ جانتا ہو جیسے اس بھورے خلا کی ساری پرتوں کو کئی صدیوں سے وہ پہچانتا ہو اپنے اندر دور تک جانے کی کیا جلدی ہے← مزید پڑھیے
سب زبانیں اپنی ہیں سب لباس اپنے ہیں چین و عرب و ہندوستان سب سارا جہاں اپنا ہے تہوار، روایات، مواقع بھی ہمارے سالگرائیں بھی اپنی ماہ و سال ہمارے قمری شمسی ہجری تواریخ بھی اپنی کھجور، میوہ، ساگ، برقی← مزید پڑھیے
ہندوستان پہ قبضے کے دوران برطانوی سرکار نے یہاں کی علاقائی زبانوں پہ خاصی تحقیق کی تھی۔ سرائیکی زبان اور اِس کے ادب پر کام کرنے والے مشہور محقق ایڈورڈ اوبرائن نے اپنی کتاب “گلاسری آف ملتانی لینگویج” 1881ء میں← مزید پڑھیے
لکھوں کیا میں ،کیا بھیجوں کوئی قصہ ادھورا سا کسی اجڑی ہوئی محفل کی تصویریں کہ اب تک جو سیہ ہی پڑ چکیں جاناں کہیں آنسو بہاتی آدمیت کا کوئی نوحہ کسی فاقہ زدہ بچے کی اندھی آنکھ کا آنسو← مزید پڑھیے
چلو ، ہار جائیں کہ اس پھیلتی، بڑھتی،افزود، ایزاد آفت کے اغراق میں ہم فقط ایک تنکا ہیں کم مایہ، کم پایہ ، اسفل کف ِ خاک ہیں ۔ ۔اور یہ نحوست کا وارث اقل، ایک ذرّہ۔۔۔مگر بالا تر ہم← مزید پڑھیے
سوال لکھا ایک فیس بک عزیز نے “اگر کوئی ناگہانی آفت دنیا کی سب آبادی کو ہلاک کر دے اور ہزاروں برسوں تک برباد رہنے کے بعد دنیا میں ایک نئی اُپج کا ظہور ہو ،اور چوپائیوں سے ترقی کر← مزید پڑھیے
احباب سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار کی نئی قسط حاضر خدمت ہے۔ آغاز سرائیکی کے مہان شاعر اور اختتام ایک نوآموز شاعر کے شعر سے کیا گیا ہے۔ سرائیکی شاعری کا مستقبل خصوصاً غزل کی صنف کا سرائیکی مستقبل بہت← مزید پڑھیے
فرشتہ جو آیا تھا کل رات (کمرے میں میرے) صواب و صداقت میں معصوم بچہ سا لگتا تھا (سچا، کھرا، صاف گو، بے تعصب) مری پائنتی سے ذرا نیچے ہٹ کر ہوا میں معلق کھڑا تھا ۔۔۔ (عموداً) اسے میں← مزید پڑھیے
بھرے پُرے میلے میں گئے تھے کس کے سہارے، بھول گئے کس کی انگلی مُٹھی میں تھی، ہم بے چارے بھول گئے پیاس سے منہ میں آگ لگی تو جھرنے کھوجے گلی گلی میں چھاگل گھر سے لے کے چلے← مزید پڑھیے
کہاں رکا ہے ہوا کے رتھ پر سوار ہوکر گیا دسمبر کوئی کہانی نہ کوئی قصہ کسی وفا کا کسی الاؤ کے گرد بیٹھیے ہوئےکسی کی حسیں نظر کا خموش پیمان بھی نہیں تھا وہ پھونس کا جھونپڑا وہ بستر← مزید پڑھیے
اللہ ، بھلا گوشت کی گُٹھلی، یہ زباں ہے منہ میں مرے کیوں؟ کوئی دھندہ اس کا؟ کیا اس لئے، میں اس سے کوئی کام نہ لوں ؟ کیا اس لیے اک گوشت کےٹکڑ ے کی طرح چپ چاپ یہ← مزید پڑھیے
ع۔ جب جب غالب نے آنند کو لفظوں سے زود وکوب کیا بھلا اسے نہ سہی کچھ مجھی کو رحم آتا اثر مرے نفس ِ بے اثر میں خاک نہیں ستیہ پال آ نند حضور، مصرع ِ اولیٰ کو ملتوی← مزید پڑھیے
جھوٹ کی شال اڑھانے کی خواہش تھی اس کی میں بھی جانچنے اور پرکھنے کی کو شش میں اس کی فرضی جنت کے دالان میں اتری تو یہ دیکھا اک اک پھول ہر ایک کیاری وحشت کے ننگے پن کی← مزید پڑھیے
مری جان آؤ چلو خواب بنتے ہیں پھر سے مری جاں مگر اپنی آنکھیں تو۔۔۔ گدلا چکی ہیں کوئی خواب بھولے سے اترا بھی ان میں تو کالا سا۔۔۔۔میلا ۔ ۔یونہی ادھ موا سا پھٹی آنکھوں کی چھدری چھدری سی← مزید پڑھیے
ماٹی کو مِلنا ، ماٹی سے پانی بدرا بن ، اُڑ جائے پوَن پریشاں گھومے ،ہر سو سورج پیلا پڑتا جائے سمے کا ، سادھو انت کی تسبیح ، پھیرے اور ہر دم مسکائے مرتی گھاٹ پہ ماضی ،← مزید پڑھیے
بول کر سب کو سنا، اے ستیہ پال آنند! بول اپنی رامائن کتھا، اے ستیہ پال آنند ! بول تو کہ کامل تھا کبھی، اب نصف سے کم رہ گیا دیکھ اپنا آئینہ ، اے ستیہ پال آنند ! بول← مزید پڑھیے
یہ تین دن بہت بھاری ہیں مجھ پہ جانتا ہوں مجھے یہ علم ہے، تم اپنے اختیارات کے تحت مری حیات کا اعمال نامہ پرکھو گے برائیوں کا، گناہوں کا جائزہ لو گے میں جانتا ہوں فرشتو کہ مجھ پہ← مزید پڑھیے