اے مری چادر مِری شرم و حیا کی پاسباں سُندر سہیلی،سُن ذرا تیرے ان چھیدوں کے رَستے میرے سارے کچے خوابوں،کے سجل آنسو ٹپک کر،بہہ گئے کچھ کہہ گئے جسم کے کورے دئیے کی سب لوئیں بُجھ بُجھ کے ہی← مزید پڑھیے
یہ کہانی کراچی یعنی میرے شہر دلبرا کے ایک گنجان محلے کی ہے جہاں نہ صرف گھر سے گھر ملے ہوئے تھے بلکہ دلوں میں بھی دوریاں نہ تھیں۔ سکون کا زمانہ تھا، رات کے آخری پہر بھی اگر گھر← مزید پڑھیے
مجھے بھی شائستہ اور بچوں سے بہت محبت ہے مگر عظیم کا تو لیول ہی الگ تھا۔ وہ مجھ سے کوئی چار پانچ سال چھوٹا ہو گا مگر میں واقعی اس کے جزبہ محبت سے بہت انسپائر تھا۔ ایک آدھ← مزید پڑھیے
کبھی کبھار لاڈپیار میں ہاتھ ڈال دیا ۔۔۔تو اچھا لگتا ہے ، لیکن ہرروز کام پہ جانے سے پہلے جب بھی میں نے عاصم سے خرچہ مانگا ۔۔۔ اس نے پیسے ہاتھ میں پکڑانے کی بجائے خود رکھے ۔کئی بار← مزید پڑھیے
مجتبٰی صاحب میں کینٹین جا رہا ہو ہوں جلدی سے آ جائیں بہت بھوک لگ رہی ہے۔ ہاں تم پہنچو! میں بس آیا کہ آیا۔ میں نے تیزی سے فائل سمیٹتے ہوئے جواب دیا۔ آج کیا ہے خاصے میں جناب؟← مزید پڑھیے
سچ تو یہ تھا میری آنکھوں میں میرے بچپن کی ساری ہنسی چھلکی تھی۔میرا وجود کسی معصوم بچے کی طرح کلکاریاں مارنے لگ گیا تھا۔مسرت کے بے پایاں احساس سے نہال میں نے اپنے سامنے چوک کو دیکھا تھا۔ اللہ← مزید پڑھیے
بجتے ہوئے گانوں کے پیچھے ہلکی سی آواز سنائی دی، میں نے ہینڈ فری اتارا، دوبارہ وہی آواز آئی، مجھے نام سے بلایا جا رہا تھا، آواز امی کی تھی۔ “یقینا کوئی کام ہوگا۔” میں غصے میں بڑبڑایا اور اٹھ← مزید پڑھیے
کچے مکان کا دروازہ اور زور دار دستک، باہر نکلا تو ایک ہاتھ تھا۔ “کس کو تلاش کر رہے ہیں؟” میں نے پوچھا۔ “لٹیروں کو۔” ہاتھ بولا۔ “پر یہ تو کچی بستی ہے، لٹیرے پکے مکانوں میں رہتے ہیں۔” چند← مزید پڑھیے
ناصر نے اپنی انگلیاں اپنے ہی بالوں میں ڈال کر تیزی سے گھما دیں اور خود ہی بول اٹھا یہ اصل تصویر ہے حقیقی معنوں میں میرا چہرہ جو مکمل طور پر میری زندگی کا عکاس ہے۔ اُس پر اداسی← مزید پڑھیے
نو برسوں تک بدھ وِہاروں اور پیروکاروں کی تربیت میں مصروف رہنے کے بعدایک دن جب وہ چھ پیروکارچیلوں کی صحبت میں چلتا چلتا کپل وستو پہنچا تو ان کو ایک موڑ پر انتظار کرنے کے لئے کہہ کر ،اپنا← مزید پڑھیے
وہ ایک نہایت خوبصورت دل کی مالک تھی۔ ہم کافی عرصے بعد ساتھ بیٹھ کر پچھلی باتوں پر تبصرہ کر رہے تھے کہ اسکا اچانک کیا جانے والا سوال مجھ پر بجلی بن کر گرا۔ “کیا کہا؟۔ ” اس نے← مزید پڑھیے
گلستان جوہر تو خود اپنی ذات میں ایک شہر بن گیا ہے، اپارٹمنٹس کا جنگل ۔ کبھی کبھی تو یہ بھی گمان ہوتا ہے کہ شاید یہی میدان حشر ہو گا، لوگ ہی لوگ ایک جم غفیر ہے۔ آج کل← مزید پڑھیے
ناصر ایک عام آدمی تھا۔ سڑکوں کنارے درختوں کی چھاؤں میں بیٹھے گاڑیاں گننے والے لوگ۔ ہر گزرتی گاڑی دیکھ کر اپنی خواہش کا معیار بدل لینے والے لوگوں کی طرح۔ مگر قدرت نے ناصر کے اندر سائنس اور ادب← مزید پڑھیے
یہ ایک حیرت انگیز دیس تھا۔ میں شکایت لیے تھانے پہنچا، انسپکٹر کانوں سے محروم تھا، اسے سنائی نہیں دیا۔ عدالت میں کھڑاہوا، منصف کے بھی کان نہیں تھے، سماعت ادھوری رہ گئی۔ قصۂ مظلومیت اٹھایا اور گورنر کے دروازے← مزید پڑھیے
ماہین دوبارہ اسی پھول کو سوچنے لگی۔ پھول، کہ جس کی دھندلی سی تصویر اُس کے ذہن میں ہچکولے کھا رہی تھی۔ یہ تصویر ماہین کو اس لمحے ایسے محسوس ہوئی جیسے غیب کا کوئی منظر ہو، پھر اُس کی← مزید پڑھیے
پچھلے دو گھنٹوں سے وہ مسلسل مجھ سے لڑے جارہی تھی۔ ہم دونوں میاں بیوی پچھلے دو گھنٹوں سے پیدل چل رہے تھے۔ گرمی سے وہ بے حال ہورہی تھی۔ میرے پاس ٹیکسی کے پیسے نہیں تھے سو اسے،اس کی← مزید پڑھیے
سکھیا اس کی دیوانی تھی۔ وہ ہیر گاتا تو کسی پجارن کی طرح اس کے بولوں میں کھو جاتی۔ قالوا بلی دے دینہہ نکاح بدھا روح نبی دی آپ پڑھایا ای قُطب ہو وکیل وِچ آ بیٹھا حکم رب نے← مزید پڑھیے
کچھ نام عجیب سی رومانیت،ایک پرفُسوں سا سحر اور بے نام سی اپنایت کی خوشبو اپنے اندر لئیے ہوئے ہوتے ہیں۔منصور نام بھی کچھ ایسا ہی ہے۔میں توسمجھتی تھی کہ میں ہی اس کے عشق میں مبتلا ہوں۔مگر نہیں جی← مزید پڑھیے
کمرہ خوشبو سے بھرا ہوا تھا, جیسے کوئی باغ ہو ,جسے دل کے خون سے سیراب کیا گیا ہو۔ کمرے کی چاروں دیواروں پر تصویریں چسپاں تھیں۔ یہ تصویریں اپنے مصور کے اظہارِ فن کا ایسا نمونہ تھیں جیسے کسی← مزید پڑھیے
آج بیتی آ خرِ کار اپنے انجام کو پہنچی وہ کمبخت ” مکھی”جانے کیسے گُھس بیٹھی ہمارے کمرے میں،ہم چونکہ سوتے وقت قمیض زیبِ تَن نہیں کرتے، بَس اُس کمبخت کی تو جیسے نِکل پڑی، لگی ہمارے جِسم پر اَٹھکِیلیاں← مزید پڑھیے