ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 101 )

غالب کے شعر پر استوار نظم۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

“ریڈکتیو ایڈ ابسرڈم ٭کی تکنیک میں غالب کے دس فارسی اشعار کو میں نے نظموں کا جامہ پہنایا تھا (کہ برہنہ بدن یہ اشعار فارسی میں بدصورت دکھائی دیتے تھے) ان میں سے ایک شعر پر استوار نظم یہ ہے۔←  مزید پڑھیے

رہے نام خدا کا۔۔محمد وقاص رشید

گاڑی کے اندر ایک سوگوار سی فضا تھی،کُل چار افراد تھے،پچھلی سیٹ پر ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی، اسکی بیٹی اسکی جھولی میں سر رکھے لیٹی ہوئی تھی،اگلی سیٹ پر اس عورت کا بیٹا تھا  اور اسکا خاوند گاڑی چلا←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/مستنصریہ یونیورسٹی علمی درسگاہ سے زیادہ سیاسی داؤ پیچوں میں اُلجھی ہوئی ہے۔(قسط11)۔۔۔سلمیٰ اعوان

مستنصریہ میں داخل ہونا گویا ایک عہد میں داخل ہونا تھا۔ عباسی خلفاء نے محل مینار ے بنائے۔ تجارتی منڈیوں اور مرکزوں پر توجہ دی۔ فصیلوں کو کھڑا کیا۔ نظم و نسق کو مضبوط اور امن و امان کی صورت←  مزید پڑھیے

آئیڈیل گرل فرینڈ۔۔گل نوخیز اختر

میری معصوم سی خواہش ہے کہ میری ایک ایسی گرل فرینڈ ہو جو سال میں چار دفعہ میری سالگرہ منائے اور ہر دفعہ لگ بھگ ڈیڑھ دو لاکھ کے تحفے پیش کرے۔ کبھی یہ نہ پوچھے کہ تم بیوی کے←  مزید پڑھیے

مسلک ۔ سو الفاظ کی کہانی/سیف الرحمن ادیؔب

چھوٹا بچپن سے میرا دوست ہے۔ ماسٹر جی سے ڈنڈے ساتھ کھائے، باغ سے امرود ایک ساتھ چرائے، ٹیوب ویل میں ڈبکیاں ساتھ لگائیں، کرکٹ کھیلتے ہوئے ایک ٹیم میں ہوتے، لڑائی ہوتی تو مل جاتے، ایک جسم کے چار←  مزید پڑھیے

تہہ شدہ رومال جانے اب کہاں ہے۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گھر بنانے میں اسے برسوں لگے تھے سب سے پہلے گھر کی بنیادوں کے پتھر پانچ دریاؤں کے چٹیل ساحلوں سے چُن کے لایا ان پہ اپنا نام کندہ کر کے بنیادیں بنائیں چار دیواری کھڑی کی طاق ، دروازے،←  مزید پڑھیے

ورلڈ اردو ریسرچ اینڈ پبلی کیشن…..روبینہ فیصل 

حال ہی میں ورلڈ اردو ایسو سی ایشن،نئی دہلی کے چئیرمین پروفیسر خواجہ اکرام الدین اور ان کی ٹیم کی ان تھک محنت اور کوشش سے چار نئے ڈیجٹیل پلیٹ فارم کا افتتاح کیا گیا، جس کے تحت ورلڈ اردو←  مزید پڑھیے

اللہ کی تختی۔۔درخشاں صالح

جب سے جمعہ کا خطبہ سن کر آیا ہوں۔ دل کبھی اپنے مولویوں کی سادگی پر ہنسنے کو کر رہا اور کبھی ان کی کم عقلی پر ماتم کرنے کو۔  دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور یہ ابھی۔ اپنے←  مزید پڑھیے

بخت گزیدہ(2،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

وہ سب ہنسنے لگے اور ایک لڑکا مجھے پیر سے ٹھوکر مارتے ہوئے ” سالا پھٹو” کہتا ہوا چلا گیا۔ جب میں رو رو کر تھک گیا تو خود ہی اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اب میں بالکل قلاش تھا، ماسی←  مزید پڑھیے

تتھا استو، رضینا با لقضا۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

رندہزارشیوہ را طاعت حق گراں بود لیک صنم بہ سجدہ در ناصیہ مشترک نخواست (غالبؔ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھپ اندھیرا تھا شوالے میں ، مگر ٹھنڈی، ملائم روشنی کا ایک ہالہ دیوتا کی مورتی کو نور سے نہلا رہا تھا مورتی کے←  مزید پڑھیے

بخت گزیدہ(1)۔۔شاہین کمال

ایک لات نے مجھے منجی سے نیچے ہی نہیں گرایا بلکہ سوہنے خوابوں کی دنیا سے کریہہ حقیقی دنیا میں لا پھینکا۔ میں جلدی سے اپنی پیٹھ سہلاتا اور لنگڑاتا ہوا اپنی بوری اٹھا کر گھر سے بھاگ نکلا۔ روٹی←  مزید پڑھیے

بوتل۔۔خنساء سعید

وہ کئی برسوں سے کرب کی ایک آندھی اور گہری کھائی میں گرتی ہی چلی جا رہی تھی۔ اذیت کی اس کیفیت کی کوئی حد ہی نہیں تھی۔ وہ مکمل کھائی میں گرتی بھی نہ اور، باہر بھی نہ نکل←  مزید پڑھیے

​دھوپ کا بالک اور میَں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گزشتہ برس دسمبر میں تحریر کردہ! سردی سخت تھی۔۔۔ سخت تھی سردی اور میں، ایک اکیلا، آنگن میں کرسی پر اکڑ وں بیٹھا اپنی ٹوٹی ٹانگ کا نوحہ دل ہی دل میں دہراتا یہ پوچھ رہا تھا “دھوپ کہاں ہے؟←  مزید پڑھیے

“سدہارتھا” ناول کے بارے میں ڈاکٹر خالد یوسف کے ساتھ ایک مکالمہ…ڈاکٹر طاہر منصور قاضی

یادش بخیر ۔۔۔ ہمارے یار مہربان ڈاکٹر خالد یوسف سے جب بھی بات ہو  ذہن پر پرانی یادوں کے کسی ساون  کی پھوار گرنےلگتی ہے۔ دو تین مہینے ہوئے انہوں نے میر پور سے فون پہ بتایاتھا  کہ وہ” ہرمن←  مزید پڑھیے

رزق۔۔محمد وقاص رشید

بارات تیار تھی زرق برق لباس پہنے مرد و زن چمچماتی گاڑیوں میں بیٹھنے کو تیار تھے،رئیس کہنے لگااوہو میں کتوں کو کھانا دینا بھول گیا۔۔اس نے فریج سے انکا  امپورٹڈ کھانا اور پکا ہوا گوشت نکالااور چھت پر چلا←  مزید پڑھیے

پہلا موّحد ۔۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند

میں نے پوچھا ۔ “کون ہے کمرے میں میرے؟ کون ہے جس نے کہا ، ابلیس تھا پہلا موّحد ۔۔۔؟” ایک کونے سے ذرا دھیمی سی اک آواز آئی “میں ہوں اک نا چیز ۔۔۔۔میرا نام ہے احمد غزالی ۰!”←  مزید پڑھیے

پاجامے کی حرکیات۔۔سید عارف مصطفیٰ

قبل اسکے کہ ہم آپکو اپنے پاجامے کی کتھا سنائیں بہتر یہ ہے کہ پہلے تاریخ میں پاجامے کے سفر کی طرف لے جائیں تاکہ معتبر ہوجائیں اور آپ بھی یہ جان پائیں کہ اوپر سے واحد مگر نیچے سے←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/سُنّیوں اور شیعوں کے ازلی جھگڑوں نے معصوم شہریوں کے ساتھ انسانیت سوز تاریخ منسلک کردی ہے۔(قسط10)۔۔۔سلمیٰ اعوان

میری بھی بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا تھی کہ نبیوں،ولیوں اور خدا کے برگزیدہ بندوں کی سرزمین پر تھی اور سب سے پہلے ان کے درباروں،مزاروں اورمقامات مقدسہ پر جانے، وہاں نفل پڑھنے، خُدا کے حضور سجدۂ شکر بجا←  مزید پڑھیے

” وصال ” عاشق” علی سدپارہ” اور دیوی “K2″کا آخری مکالمہ  

دیوی۔۔۔ خوش آمدید میرے عاشق مرحبا تہنیت و احترام عاشق۔۔۔ تیری رفعتوں کی خیر۔۔ تیری بلندیوں کو سلام دیوی۔۔۔ میں حسن کی ملکہ، میری فطرت میں زیر ہونا نہیں عاشق۔۔۔میرا عشق تیری قامت کا دیوانہ مجھے نشیبوں سے سیر ہونا←  مزید پڑھیے

طفلِ سِن رسیدہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

سو برس کا میں کب تھا، منشیِ وقت؟ کب نہیں تھے؟ ذرا بتاؤ تو تم یقیناً کہو گے، بچپن میں کھیلنے کودنے میں وقت کٹا جب شباب آیا تو ؟۔۔۔کہو، ہاں کہو کیا برومند، شیر مست ہوئے؟ کیا جفا کش←  مزید پڑھیے