چلو افلاق نے مدد کر دی تھی۔ سمیرین ہالSumerian Hallکو سب سے پہلے دیکھیں اور جانیں کہ سمیرین تہذیب 3000 سال قبل مسیح کِس عروج پر تھی۔زراعت اور آب پاشی میں ہل اور شادفShaduf بار برداری کیلئے پہیہ، انتظامی اصلاحات← مزید پڑھیے
اے میرے خدایا اے میرے کبریا میرے خالق میرے ساتھ یہ کیا کِیا دیکھ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کیوں اب تک یہ بھی مرا مقسوم نہیں کہ تجھے میں نے تیرا بندہ بن کر مخاطب کرنا ہے یا← مزید پڑھیے
میں جب بھی لاہور جاتا، ڈاکٹر وزیر آغا کے دولت کدے پر ہی ٹھہرتا۔ اوپر والی منزل پر ایک طویل و عریض کمرہ اور غسل خانہ میری عارضی املاک تھے۔ شام تک تو احباب (جن میں ڈاکٹر انور سدید اور← مزید پڑھیے
استنبول پولیس ہیڈکوارٹر سے تمام صوبائی تھانوں کو یہ پیغام موصول ہوا کہ: “عمر پینتیس سال،وزن دو سو کلوگرام،سنہری بال،تین دانت ٹوٹے ہوئے،عقل داڑھ مصنوعی طریقے سے بھری ہوئی،ناسی پٹیوں والا سوٹ پہنے ہوئے،تقریبا گنجہ ہونے والا،بھوری آنکھیں مذکورہ بالا← مزید پڑھیے
وہ جھوٹی تھی۔ سدا کی جھوٹی۔ محبت کے سب دعوے جھوٹے تھے۔ میں زوردیتا تو کہنے لگتی“میں تم سے شدید محبت کرتی ہوں اور تم مجھ سے۔ یہ محبت ہی شک میں مبتلا کرتی ہے۔میں نظریں نیچی کیے سنتا رہتا۔← مزید پڑھیے
زبان اور نفسیات کا گہر ارشتہ ہے۔ دونوں کے تعلق کے کئی رخ ہیں۔ مثلاً زبان ،ہمارے ادارک کالازمی حصہ ہے۔ جس ادراک میں زبان موجود نہیں ہوتی یا جو چیزیں ہمارے دائرہ ادراک سے باہر سمجھی جاتی ہیں—ان دونوں← مزید پڑھیے
کردار 1۔ لبرل قبیلہ 2۔ مذہبی قبیلہ 3 ۔بابا شعور 4۔ سردار نظام 5 ۔ جگنو اور تتلیاں 6۔خنزیز پہلا سین۔ ایک گاؤں ہے۔۔گاؤں کا نام ریاست پور ہے۔ اس میں لہلہاتے کھیت ہیں ، پھلوں سے لدے باغات ہیں۔ ← مزید پڑھیے
وہ سڑک پر کانپتی ہوئی ٹانگوں کے سنگ ننگے پاؤں چل رہی تھی۔ پیسے بچانے کے لیے اسے پیدل چلنا تھا۔۔۔اگر کسی سواری پر سوار ہوتی تو اسں پر پیٹرول مہنگا ہونے کی وجہ سے زائد کرایہ وصول کیا جاتا۔۔اور← مزید پڑھیے
بارہ بجے تو حاجی صاحب نے صحن کےتین چکر لگائے ،جب یقین ہوگیا کہ گھر بھر سوگیا ہے تو انہوں نے کمرے کی چٹخنی چڑھا دی، ادھ سوئی حاجن کو محبت سے اپنی طرف کھینچا۔۔ حاجن اتنا ہی کسمسائی جتنی← مزید پڑھیے
آنکھ تو کُھلی ہی دیر سے تھی۔کمرہ ایسا نہیں تھا کہ میں کھڑکیوں پر پڑے پردے جھٹک کر سُورج کی نوخیز آل اولاد کی عمارتوں کے چہرے اور کوٹھوں کے بنیروں پر اُچھل کود سے ویلے کا اندازہ لگاتی۔سو کسی← مزید پڑھیے
ایڈیٹرز نوٹ: ڈاکٹر ظہور احمد اعوان ، سفر نامہ نگار، خاکہ نگار ، محقق، کالم نگار اور معروف نقاد تھے. ان کی ساٹھ سے زائد کتابیں چھپ چکی ہیں اور ہزاروں کالم اخباروں کی زینت بنے . وہ ۳۵← مزید پڑھیے
اتوار کا دن تھا, میں چھٹی پر تھا۔۔ خدا نہیں! بازار گیا۔۔۔ تو ایک مبہوت کن منظر سے پالا پڑا۔ یہ مناظر میرا پیچھا کرتے ہیں, ان کو شاید پتا چل گیا کہ میں نابینا ہوں۔ ستو والے بابا جی← مزید پڑھیے
اردو کے سو پسندیدہ اشعار لکھے جو چار اقساط میں شائع ہوئے. احبابِ شعر فہم و ادب شناس کیطرف سے تہنیت نے تھپکی کا کام کیا. سرائیکی شاعری کے پاس بھی عظیم شاعروں کے بےمثال شعروں کا شاندار خزانہ موجود← مزید پڑھیے
ڈھیلی ڈھالی انگلییوں سے اپنے گھوڑوں کی لگامیں تھام کر اک سارتھی ٹھہرا ہوا ہے راستہ بھولا ہوا ہے دھول سے چہرہ اٹا ہے دھوپ کی ناقابلِ برداشت حدت خشک پیاسے ہونٹ آنکھوں میں کھلے سورج مکھی کے پھول (دو← مزید پڑھیے
مری امید کا سورج کہ تیری آس کا چاند دیے تمام ہی رخ پر ہوا کے رکھے تھے “کبھی کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے۔ جب اللہ خیر کا دروازہ کھول دیتے ہیں اور آزمائشیں تمام ہونے لگتی ہیں. اس← مزید پڑھیے
تاریخ پھڑ پھڑ کرنے لگی تھی۔دراصل اُسے بھی تو موقع کی تلاش ہوتی ہے۔بند رہنے سے اوب سی جاتی ہے۔کھُلی ہوا میں سانس لینا چاہتی ہے۔ اُس نے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیاتھا۔درمیانے درجے کے شاعر کی طرح جسے← مزید پڑھیے
قطرہ قطرہ ہُوا پیادہ ترا غم دریا کا سفر بحر کا جادہ ترا غم پُر اشک ہے آبگینہء چشم ِ حباب کم ہے ظرف ِ سبو زیادہ ترا غم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرے تھے قمرضیا کشی ایسی تھی ششدر تھا فلک شمس← مزید پڑھیے
خلیل الرحمن قمر صاحب آپ درست کہتے ہیں ان کی سوچ ٹھیک نہیں جو کچھ یہ لوگ لکھتے پڑھتے بولتے ہیں وہ حقیقت کے نزدیک نہیں یہ لبرل فیمنسٹ آزاد خیال لوگ یہ سچے پاکستانی بھی نہیں انکے اندر آپ← مزید پڑھیے
وہ ایک لمبی اُڑان بھرنا چاہتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اُس کے پَر بہت تندرست و توانا ہیں، جتنا مرضی چاہے اُڑ سکتی ہے۔ اُسے لگتا وہ ایک ایسے آزاد منش پرندے کی طرح ہے جو کھلی فضاؤں میں← مزید پڑھیے
گرچہ اس کی موت کی خبر بہت بعد میں ملی لیکن میرے لئے تو وہ اس سے بھی پہلے مر چکا تھا۔ وہ جو کبھی میرے خیالوں سے اوجھل نہ ہوا، اس کی موت کی خبر سن کر بھی میرا← مزید پڑھیے