بخت در خواب است می خواہم کہ بیدارش کنم پارہ ٔ غوغائے محشر کو کہ در کارش کنم ۔۔۔۔۔۔۔۔ سو گیا تھا میں؟ نہیں، یہ بخت ِ نا ہنجار میرا اور بخت ِ خُفتہ سے ’ اک خواب ِ خوش‘کا← مزید پڑھیے
ددّو نے پوچھا۔’ پانچ سوروپے کماؤگے ؟اس بار نوجوان کے چہرے پر خوشی تھی۔ کیوں نہیں، نوجوان نے مسکرا کر کہا،پترکار ہونا۔۔۔۔۔؟ ہاں۔‘’ میں پہلے ہی سمجھ گیا تھا۔ لاؤ پانچ سو کے نوٹ دو۔میں نے پانچ سو کا نوٹ← مزید پڑھیے
ایک مکالمہ (مر ز ا غالب کے ساتھ) دولت بہ غلط نبود از سعی پشیماں شو کافر نہ توانی شد، ناچار مسلماں شو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند تُو کیا ہے؟ مسلماں ہے؟ یا کافر ِ زناّری کچھ بھی ہے، سمجھ← مزید پڑھیے
ما ہمہ عین خودیم ما خود از وہم ِ دوئی درمیان ِ ما و غالب،ؔ ما و غالبؔ حائل است غالب ——————— مَیں کہ غالب کا ہی اصلی روپ تھا اس کے زمانے سے بھی ابداً پیشتر پیدا ہوا تھا← مزید پڑھیے
ای ساکُرا ای ساکرا ای ہنامی ای ہنامی ای چیری بلاسم ای چیری بلاسم کیا تو باخبر ہے؟ اس سر زمین سے جس کے گردا گرد ساگر پٹکا بند ہے تین مقدس چوٹیوں کو اپنی چھاتی پہ سجائے وہ تین← مزید پڑھیے
’ایک مہرہ بلکہ وزیر دلبر نگر بھی ثابت ہوا۔ وہ دیکھو،ہم باہر ایک پتھر کی بینچ پر بیٹھ گئے۔ کچھ نوجوان زعفرانی لباس میں، پیشانی پر بڑا سا ٹیکہ لگائے جارہے تھے۔دوسری طرف سے سادھوؤں کا ایک ہجوم آرہا تھا۔← مزید پڑھیے
“چھوٹا” لائبریری میں کھڑا کسی کتاب کی ورق گردانی کر رہا تھا۔ اس نے دس صفحے الٹے، میں نے دیکھا اس کے ہاتھ پر سیاہ نقطہ لگا ہوا تھا۔ پھر اس نے مزید پچاس صفحے پلٹے، اس کی انگلی کالی← مزید پڑھیے
جب بھی آنکھیں کھولتا ہوں جانی پہچانی یہی دنیا نظر آتی ہے مجھ کو جب بھی آنکھیں بند کر کے اپنے اندر جھانکتا ہوں اور ہی دنیا کا نقشہ دیکھتا ہوں کچھ عجب منظر ہے اندر گندگی اک عمر بھر← مزید پڑھیے
میں عامر ریاض۔ ابھی تک جو کَڑیاں میرے ہاتھ لگی تھیں، اس سے کچھ بھی خاص برآمد نہیں ہوا تھا۔ ان کَڑیوں کو جوڑتے ہوئے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل تھا کہ شمس کے قتل کے پیچھے کس کا← مزید پڑھیے
گورنمنٹ آف انڈیا کی گزٹ (جون 1932) کی ایک اشاعت میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں اُس وقت (22300 ) خانقاہیں یا امام باڑے تھے، جن میں کسی بزرگ ، پیر، فقیر کے مقبرے پر سالانہ← مزید پڑھیے
جسم اور سایہ آج جب میں موت کی وادی کے سایوں سے گزر کر روشنی تک آ گئی ہوں کیوں یہ لگتا ہے کہ میرا پنا سایہ۔۔۔ چپکے چپکے میرے پیچھے چلتا چلتا موت کی وادی کے سب سایوں کو← مزید پڑھیے
اس عورت کے پیچھے چلتے ہو ئے فاطمہ کی ایک اور پرانی دوست کو فاطمہ کے مشہور ِ زمانہ قہقہے یاد آنے لگے۔ پرانی دوست: “امی کہہ رہی تھیں کہ فاطمہ ابھی دروازے سے داخل ہی ہو تی ہے کہ← مزید پڑھیے
ن۔م۔راشد کی نظم کے برعکس اس موضوع کا دوسرا رخ ( جامعات میں پنتالیس برسوں تک درس و تدریس کے بعد ایک ہی نشست میں خلق ہوئی ) ——————————– مجھے نہ کر وداع مجھے نہ کر وداع پھر کہ اس← مزید پڑھیے
2020میں جب کرونا کی وجہ سے یہ دنیا بدل رہی تھی تو ایک دفعہ تواسے لگا تھا کہ اب انسان بدل جائے گا۔ ہر طرف بیماری،موت اور موت کا خوف رقص کر رہا تھا۔ گھروں میں بند ہو نے کے← مزید پڑھیے
ضحیٰ نے باہر سے قدموں کی بھاری چاپ اندر آتے ہوئے محسوس کی ۔آمنہ کی گیٹ پر مہذب گفتگو آنے والے کی قدر و منزلت سے واقف کرا رہی تھی۔ ضحی نے اندر آنے والے شخص کو بغور دیکھا ۔۔← مزید پڑھیے
درد میں پنہاں سکوتِ دل ،درونِ کائنات درد میں ہے رازِ حکمت گر ملے تجھ کو ثبات درد سے آباد عاشق کا جمالِ ہست و بود درد ہی سے غایتِ قدرت کا ہو تجھ پر نمود درد سے تو کر← مزید پڑھیے
الوداع میلان۔ الوداع اٹلی o جھیل کو مو ورینا کی سب سے خوبصورت اور بہترین جھیل ہے۔ o تتلی سی مُسکان میرے قیام کا خوبصورت سا تحفہ تھا۔ o مسز سمتھ میری شکر گزار اور میں اُن کی۔ جتنا کچھ← مزید پڑھیے
جہاں تہاں قلعہ بند پھاٹک مجسّمے شیروں کے نگہباں رعونتوں سے اٹھے ہوئے بُرج، زنگ خوردہ پرانی توپیں ڈھکی ہوئی ، گل بدوش بیلوں کے چھپّروں سے (جو غار جیسے دکھائی دیتے تھے ہر طرف سے) یہ ایک قلعہ تھاجس← مزید پڑھیے
ٹرٹل آئی لینڈ، میرا گھر، میرا وطن بے دردی سے لوٹا کھسوٹا، تار تار کیا گیا وطن ہماری تاریخ کو بس “ایک لمحہ” بتایا گیا اور جبرِ مسلسل کو جزاء بتلایا گیا ہماری رُوحوں کو عقوبت گاہوں میں قید کر← مزید پڑھیے
اسے نجانے کیوں اپنے تنور سے خوف محسوس ہونے لگا تھا۔پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔اب تو وہ اس کے اندر جھانکتا تو دہشت زدہ ہوکر ایک جھرجھری لے کر رہ جاتا۔حالانکہ تنور میں ڈھیر ساری لکڑیاں جل رہی ہوتیں← مزید پڑھیے