اردو شاعری کی مروجہ اصناف میں ، ڈرامہ کے تحت ، جہاں طربیہ تمثیل کا ذکر آتا ہے، وہاں”پھکڑ تماشا” کا ذکر مفتود ہے۔ یہاں تک کہ ’ریختی‘ کے دور ِ انحطاط میں، یا ’زٹلیؔکے تتبع میں تحریر کردہ شاعری← مزید پڑھیے
سارنگ کو ہوش آیا تو وہ لیبارٹری میں تھا۔ بوڑھاپروفیسراُس پرجھکاہواتھا۔ پروفیسر کے ہاتھ میں بڑاساعدسہ تھا۔ اور وہ کسی باریک سی نوک والی سوئی کی مدد سے سارنگ کے منہ میں شاید کوئی دوائی ڈال رہاتھا۔پہلے تو سارنگ کو← مزید پڑھیے
اپنے سینئر دوست مرحوم و مغفور وزیر آغا سے تیس برسوں میں موصول ہوئے ایک سو کے لگ بھگ خطوط کی لڑی۔ (ایک) آپ نے تحریر کیا ہے کہ آپ الفاظ کو’’ سوچتے‘‘ نہیں ، ’’دیکھتے‘‘ ہیں۔’’دیکھنا‘‘، شاعر کے لیے← مزید پڑھیے
چوہدری فیروز کے لئے اتنے عرصے میں مصروفیت کافی زیادہ رہی،ساتھ یہ احساس جاگزین تھا کہ سارے بہی خواہ ، خیر خواہ اور بدخواہ ایڑیاں اٹھا کے دیکھ رہے تھے،کہ اب کیا ہو گا، زمینوں بارے پرانی ہیبت ،رعب اور← مزید پڑھیے
کچھ نہ ہوسکا۔ وہ کچھ بھی تو نہ کرسکی۔ وہ اب ایک کمزور تتلی تھی۔ وہ اب ایک طاقتور انسان نہیں تھی۔ دِن پر دِن گزرتے چلے گئے۔ ہرگزرنے والے دن کے ساتھ اُس کی زندگی مختلف سے مختلف ہوتی← مزید پڑھیے
بہت مصروف رہنا بھی خدا کی ایک نعمت ہے۔ ہجومِ دوستاں ہونا ، کسی سنگت کا مِل جانا ، کبھی محفل میں ہنس لینا ، کبھی خِلوت میں رو لینا ، کبھی تنہائی ملنے پر خود اپنا جائزہ لینا ،← مزید پڑھیے
جو مری شبوں کے چراغ تھے جو مری امید کے باغ تھے وہی لوگ ہیں مری آرزو وہی صورتیں مجھے چاہئیں آمنہ دبے پاؤں گیسٹ روم میں آئی اور کھڑکی سے پردے ہٹاۓ ۔ طلوعِ آفتاب کا نارنجی رنگ آسمان← مزید پڑھیے
شاؤزان یکایک خوش ہوگیا۔ ’’ارے کیوں نہیں؟ ایڈونچر اور وہ بھی تمہارے ساتھ؟ افف بہت مزہ آئیگا۔ بتاؤ! کہاں چلیں؟‘‘ ’’وہ ہ ہ ہ ہ وہاں‘‘ ماریہ نے دور سے پہاڑ نما عمارت کی دیوہیکل کھڑکیوں کی طرف اشارہ کیا۔شاؤزان← مزید پڑھیے
پیش لفظ ” زر، زن اور زمین “ انسانی تاریخ میں مصدقہ امہات الفساد تو یہی تین ، زر ،زن اور زمین ہیں۔۔زر وہ جو بندے کے پاس ہے، زن وہ جو اسکے ساتھ ہے اور زمین وہ جس پر← مزید پڑھیے
’’ماریہ؟ یہ کیسا نام ہے؟ ایسا نام تو میں پہلی بار سن رہاہوں۔ کیا تم ’پُورماشانی تتلیوں‘‘ کے ساتھ نہیں آئی ہو؟ وہ جو پانچ تتلیاں آج سے کچھ دن پہلے ’’شردھان‘‘ میں وارد ہوئیں، تم انہی میں سے ایک← مزید پڑھیے
تریوی فاؤنٹین o تریوی فاؤنٹین کے پانیوں کی پھوٹنے اور گرنے کی گنگناتی آوازیں آپ کو چونکاتی اور کِسی خوبصورت منظر کا دروازہ کھولنے کا اذن دیتی ہیں۔ o دائیں ہاتھ اور بائیں کندھے سے ہوتا ہوا سکہ پانیوں میں← مزید پڑھیے
خواب سا تھا کوکھ میں محبوس، نا مولود بچے کا، کہ جو دریائے خوں میں ڈوبنے، کچھ تیرنے کچھ ہاتھ پائوں مار کر اُس پار اترنے کی تگ و دو میں اکیلا مبتلا ہے پار اترتے ہی خوشی سے چیخ← مزید پڑھیے
’’بٹرفلائی ہاؤس‘‘ کا باغیچہ ہزاررنگ کے پھولوں اور تتلیوں سے جگمگارہاتھا۔چنبیلی، سوسن، چمپا، موتیا، گلاب، نیلوفر، ڈاہلیا اور جانے کتنی ہی قسم کے پھول تھے جو بٹرفلائی ہاؤس کے وسیع باغیچے میں یوں کھِلے تھے گویا دھوپ کے ساتھ سُورج← مزید پڑھیے
“In the Limbo”کے زیر عنوان یہ نظم پہلے انگریزی میں لکھی گئی کوئی دروازہ نہیں تھا قفل جس کا کھولتا سر نکالے کوئی سمت الراس بھی ایسی نہیں تھی جس سے رستہ پوچھتا ایک قوس ِآسماں حدِّنظر تک لا تعلق← مزید پڑھیے
غالب کے پرستاروں سے (میں خود بھی جن میں شامل ہوں) معذرت کے ساتھ ۔ پارچہ ۔ رنگین، بو قلمون، روشن پارچہ الوان، ست رنگا، چمکتا بھیگتے رنگوں کی ململ دھوپ اور برسات کا جیسے ملن ہو کھٹا میٹھا، آسمانی،← مزید پڑھیے
ہمارا روز کا معمول تھا، سونے سے پہلے باتیں کرنے اور جھگڑنے کا گلے شکوے کہ جن میں اگلی پچھلی ساری باتیں یاد کر کے روتے دھوتے تھے کبھی ہنستے بھی تھے تو صرف کچھ لمحے ذرا سی دیر میں← مزید پڑھیے
یہ شغل ِ انتظار ِ مہ وشاں در خلوت ِ شبہا سر ِ ِ تار ِ نظر شد رشتہ ٔ تسبیح کوکب ہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضروری نوٹ مرزا غالب کی شان میں ڈومنیـ کے حوالے سے گستاخی شعوری طور پر ممکن← مزید پڑھیے
جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلے جو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلے دیار شام نہیں منزل سحر بھی نہیں عجب نگر ہے یہاں دن چلے نہ رات چلے آج اُسے نفسیاتی ہسپتال میں داخل ہوئے دو← مزید پڑھیے
اپنی ایک انگریزی نظم کا آزاد ترجمہ جو 1995 میں لکھی گئی۔ یہ نظم شری لنکا کےبودھی شاعر شکرارتھؔ کی اس تھیوری پر مبنی تھی کہ گوتم بدھ کے تناسخ کی لڑی میں ایک اور جنم ابھی باقی تھا← مزید پڑھیے
میں اگر شاعر تھا، مولا، تو مری عہدہ برائی کیا تھی آخر؟ شاعری میں متکفل تھا، تو یہ کیسی نا مناسب احتمالی؟ کیا کروں میں؟ بند کر دوں اپنا بابِ لفظ و معنی؟ اور کہف کے غار میں جھانکوں ،← مزید پڑھیے