شعر مرزا غالب کا ہوئی ہے مانع ِ ذوق ِ تماشا خانہ ویرانی کف ِ سیلاب باقی ہے برنگ پنبہ روزن میں نظم ستیہ پال آنند کی یقیناً کچھ سبب تو ہے ،حضور اس گریہ زاری کا کہ یہ مضمون،← مزید پڑھیے
اُسکا اور میرا بچپن کا ساتھ تھا۔ مجھے ٹھیک سے یاد بھی نہیں کہ ہمارے تعلق کی ابتداء کب اور کہاں سے ہوئی مگر ایک گمان ہے کہ وہ شاید اُس روز مجھ سے باہم ہوا تھا کہ جب میں← مزید پڑھیے
گردشِ دوراں اسی کا نام ہے جون میں لہجے دسمبر ہو گئے خوش گمانی سب دھری ہی رہ گئی آپ تو پہلے سے بدتر ہوگئے. “حضرت نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کہ اللہ تک پہنچنے کا← مزید پڑھیے
مر زا غالب کا شعر یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آ ٓرائیاں لیکن اب نقش و نگار ِ طاق ِ نسیاں ہو گئیں ستیہ پال آنند کی نظم یاد ، یعنی حافظہ، رفت و گذشت و بے← مزید پڑھیے
ہم میں سے کون ہے جس نے زندگی میں کبھی دال دلیہ چکھا یا کھایا نہ ہو۔ اکٹھے بولے اور سمجھے جانے والے ان دونوں بہن بھائیوں میں اس وقت پھوٹ پڑجاتی ہے جب انھیں پکایا یا کھایا جاتا ہے۔← مزید پڑھیے
بارہ برس کی سائرہ جب سکول سے گھر واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں سرخ گلدستہ تھا۔ سائرہ نے سکول بیگ میز پر رکھ کر اپنی ماں کی طرف دیکھا جو پھولوں کو معنی خیز انداز میں گھورتی جارہی← مزید پڑھیے
پانیوں پر لکھے ہوئے نام والا جان کیٹس کیٹس شیلے میوزیم o کیٹس، شیلے اور بائرن کو میں نے اپنی بیٹی کے ساتھ پڑھا اور ان کی محبت میں گرفتار ہوئی۔ o جوزف سیورن جیساپرستار بھی کہیں مقدر والوں کو← مزید پڑھیے
جب بھی آنکھیں کھولتا ہوں جانی پہچانی یہی دنیا نظر آتی ہے مجھ کو جب بھی آنکھیں بند کر کے اپنے اندر جھانکتا ہوں اور ہی دنیا کا نقشہ دیکھتا ہوں کچھ عجب منظر ہے اندر گندگی اک عمر بھر← مزید پڑھیے
یہ بٹوا اور یہ خط مرا نہیں ہے۔ اسے تو میں نے ہسپتال کے باہر ایک شخص کی جیب سے چرایا تھا۔ میں ایک پیشہ ور جیب کترا ہوں۔ مرے ابا نے نشے کی حالت میں اماں کو بہت مارا← مزید پڑھیے
شعر نہ لٹتا دن کو تو یوں رات کو کیوں بے خبر سوتا رہا کھٹکا نہ چوری کا، دعا دیتا ہوں رہزن کو نظم ستیہ پال آنند بہت ہی خوبصورت شعر ہے یہ بندہ پرور ، پر مجھےیہ رہزنی ،← مزید پڑھیے
اس بھرے گھر میں میاں بیوی، پانچ بچّے، ان سب کا ہر وقت آنا جانا اور پھر ان کے دوستوں کی فوج، بس گھر میں ہر وقت رونق ہی رونق تھی مگر دادا ابّا تنہائی کے احساس میں ڈوبتے چلے← مزید پڑھیے
حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم ِ تماشا ہو کہ چشم ِ تنگ شاید کثرت ِ نظّارہ سے وا ء ہو ستیہ پال آنند چچا غالب، اگر پوچھوں نصیحت کس کی خاطر ہے جواباً کیا کہیں گے ، صرف← مزید پڑھیے
روم کے لئے روانگی o لگتاتو کچھ یوں تھا جیسے خدا مجھے سیاپے اور مصیبتوں میں ڈالنے کے لئے اٹلی لایا تھا o آصف علی زرداری سے آپ کی کیا رشتہ داری ہے؟ o سفر پر آٹھ دائرے کھینچے اور← مزید پڑھیے
یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ کہ جب دل میں تمہی تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو؟ مرزا غالب اگر میں یہ کہوں، اے محتسب نقّاد ، ستیہ پال کہ پورے شعر← مزید پڑھیے
پہلے جوڑے والدین بناتے تھے اب ویلنٹائن بناتا ہے ۔ پتہ نہیں چلتا کہ یہ دن منایا جارہا ہے یا اپنی پسند کو منایا جارہا ہے ۔ ویلنٹائن اتنا مشکل لفظ ہے کہ اگر اس سے محبت وابستہ نہ ہوتی← مزید پڑھیے
کب تک رہوں میں خوف زدہ اپنے آپ سے اک دن نکل نہ جاؤں ذرا اپنے آپ سے جس کی مجھے تلاش تھی وہ تو مجھی میں تھا کیوں آج تک میں دور رہا اپنے آپ سے کچھ روگ ایسے← مزید پڑھیے
بس کہ روکا میں نے اور سینے میں ابھریں پے بہ پے میری آہیں بخیہ ء چاک ِ گریباں ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند ـ ’’ آہ‘‘ یعنی اک تنفس ، ریح ِ تر، یا سانس کا تَف مستتر،← مزید پڑھیے
میں واپس ہوا اور چڑھائی چڑھنے لگا، چڑھائی چڑھتے سانس پھول جاتی ہے، میری زیادہ پھولتی ہے، بیچ میں تھوڑی دیر سستانے کےلیے رکا، ایک خاتون سیاح گلے میں کیمرہ ڈالے اور آنکھوں پر چشمہ لگائے نیچے آبشار کو جارہی← مزید پڑھیے
اکتوبر ہے کہرے کی اک میلی چادر تنی ہوئی ہے اپنے گھر میں بیٹھا مَیں کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہوں باہر سارے پیڑ، دریدہ، پیلے، یرقانی پتّوں کے مَٹ مَیلے ملبوس میں لپٹے ، نصف برہنہ بادِ خزاں سے← مزید پڑھیے
خیال ِ مرگ کب تسکیں دل ِ آزردہ کو بخشے مر ے دام ِ تمنا میں ہے اک صید ِ زبوں، وہ بھی (مرزا غالب) ستیہ پال آنند کی نظم مجھے تو سیدھی سادی بات کرنےکا سلیقہ ہے مجھےیہ استعارہ← مزید پڑھیے