ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 115 )

​شعر مرزا غالب کا، نظم ستیہ پال آنند کی۔اور تبصرہ شمس الرحمن فاروقی کا

شعر مرزا غالب کا ہوئی ہے مانع ِ ذوق ِ تماشا خانہ ویرانی کف ِ سیلاب باقی ہے برنگ پنبہ روزن میں نظم ستیہ پال آنند کی یقیناً کچھ سبب تو ہے ،حضور اس گریہ زاری کا کہ یہ مضمون،←  مزید پڑھیے

ڈر۔۔دانیال گھلو

اُسکا اور میرا بچپن کا ساتھ تھا۔ مجھے ٹھیک سے یاد بھی نہیں کہ ہمارے تعلق کی ابتداء کب اور کہاں سے ہوئی مگر ایک گمان ہے کہ وہ شاید اُس روز مجھ سے باہم ہوا تھا کہ جب میں←  مزید پڑھیے

ظلمت سے نور کا سفر(قسط11)۔۔۔محمد جمیل آصف ،سیدہ فاطمہ کی مشترکہ کاوش

گردشِ دوراں اسی کا نام ہے جون میں لہجے دسمبر ہو گئے خوش گمانی سب دھری ہی رہ گئی آپ تو پہلے سے بدتر ہوگئے. “حضرت نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کہ اللہ تک پہنچنے کا←  مزید پڑھیے

غالب کا شعر،نظم ستیہ پال آنند کی اور شمس الرحمن فا روقی کی حاشیہ آرائی

مر زا غالب کا شعر یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آ ٓرائیاں لیکن اب نقش و نگار ِ طاق ِ نسیاں ہو گئیں ستیہ پال آنند کی نظم یاد ، یعنی حافظہ، رفت و گذشت و بے←  مزید پڑھیے

دال دلیہ۔۔صائمہ عثمان

ہم میں سے کون ہے جس نے زندگی میں کبھی دال دلیہ چکھا یا کھایا نہ ہو۔ اکٹھے بولے اور سمجھے جانے والے ان دونوں بہن بھائیوں میں اس وقت پھوٹ پڑجاتی ہے جب انھیں پکایا یا کھایا جاتا ہے۔←  مزید پڑھیے

یادیں۔۔سہیل احمد لون

بارہ برس کی سائرہ جب سکول سے گھر واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں سرخ گلدستہ تھا۔ سائرہ نے سکول بیگ میز پر رکھ کر اپنی ماں کی طرف دیکھا جو پھولوں کو معنی خیز انداز میں گھورتی جارہی←  مزید پڑھیے

اٹلی ہے دیکھنے کی چیز(قسط9)الف۔۔سلمیٰ اعوان

پانیوں پر لکھے ہوئے نام والا جان کیٹس کیٹس شیلے میوزیم o کیٹس، شیلے اور بائرن کو میں نے اپنی بیٹی کے ساتھ پڑھا اور ان کی محبت میں گرفتار ہوئی۔ o جوزف سیورن جیساپرستار بھی کہیں مقدر والوں کو←  مزید پڑھیے

نظم ِ نو سیریز/اپنی آنکھیں کھول دوں یا بند رکھوں؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

جب بھی آنکھیں کھولتا ہوں جانی پہچانی یہی دنیا نظر آتی ہے مجھ کو جب بھی آنکھیں بند کر کے اپنے اندر جھانکتا ہوں اور ہی دنیا کا نقشہ دیکھتا ہوں کچھ عجب منظر ہے اندر گندگی اک عمر بھر←  مزید پڑھیے

بٹوا۔۔اُسامہ ریاض

یہ بٹوا اور یہ خط مرا نہیں ہے۔ اسے تو میں نے ہسپتال کے باہر ایک شخص کی جیب سے چرایا تھا۔ میں ایک پیشہ ور جیب کترا ہوں۔ مرے ابا نے نشے کی حالت میں اماں کو بہت مارا←  مزید پڑھیے

شعر مرزا غالب کا، نظم ستیہ پال آنند کی، تبصرہ شمس الرحمن فاروقی کا

شعر نہ لٹتا دن کو تو یوں رات کو کیوں بے خبر سوتا رہا کھٹکا نہ چوری کا، دعا دیتا ہوں رہزن کو  نظم ستیہ پال آنند بہت ہی خوبصورت شعر ہے یہ بندہ پرور ، پر مجھےیہ رہزنی ،←  مزید پڑھیے

آپ تھک جائیں گے۔۔حبیب شیخ

اس بھرے گھر میں میاں بیوی، پانچ بچّے، ان سب کا ہر وقت آنا جانا اور پھر ان کے دوستوں کی فوج، بس گھر میں ہر وقت رونق ہی رونق تھی مگر دادا ابّا تنہائی کے احساس میں ڈوبتے چلے←  مزید پڑھیے

ای میل مکتوب بنام ڈاکٹر ستیہ پال آنند از ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی

​حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم ِ تماشا ہو کہ چشم ِ تنگ شاید کثرت ِ نظّارہ سے وا ء ہو ستیہ پال آنند چچا غالب، اگر پوچھوں نصیحت کس کی خاطر ہے جواباً کیا کہیں گے ، صرف←  مزید پڑھیے

اٹلی ہے دیکھنے کی چیز(قسط8)۔۔سلمیٰ اعوان

روم کے لئے روانگی o لگتاتو کچھ یوں تھا جیسے خدا مجھے سیاپے اور مصیبتوں میں ڈالنے کے لئے اٹلی لایا تھا o آصف علی زرداری سے آپ کی کیا رشتہ داری ہے؟ o سفر پر آٹھ دائرے کھینچے اور←  مزید پڑھیے

ایک شعر کے ضمن میں شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کا مکتوب/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ کہ جب دل میں تمہی تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو؟ مرزا غالب اگر میں یہ کہوں، اے محتسب نقّاد ، ستیہ پال کہ پورے شعر←  مزید پڑھیے

ویلنٹائن ڈے وتھ نائٹ ۔۔مرزا یاسین بیگ(تنزومظاہ)

پہلے جوڑے والدین بناتے تھے اب ویلنٹائن بناتا ہے ۔ پتہ نہیں چلتا کہ یہ دن منایا جارہا ہے یا اپنی پسند کو منایا جارہا ہے ۔ ویلنٹائن اتنا مشکل لفظ ہے کہ اگر اس سے محبت وابستہ نہ ہوتی←  مزید پڑھیے

ظلمت سے نور کا سفر(قسط10)۔۔۔محمد جمیل آصف ،سیدہ فاطمہ کی مشترکہ کاوش

کب تک رہوں میں خوف زدہ اپنے آپ سے اک دن نکل نہ جاؤں ذرا اپنے آپ سے جس کی مجھے تلاش تھی وہ تو مجھی میں تھا کیوں آج تک میں دور رہا اپنے آپ سے کچھ روگ ایسے←  مزید پڑھیے

غالب کا شعر،ستیہ پال آنند اور ، شمس الرحمٰن فار وقی کے ای میل سے اقتباس

​بس کہ روکا میں نے اور سینے میں ابھریں پے بہ پے میری آہیں بخیہ ء چاک ِ گریباں ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند ـ ’’ آہ‘‘ یعنی اک تنفس ، ریح ِ تر، یا سانس کا تَف مستتر،←  مزید پڑھیے

تامل ٹائیگرز کے دیس میں(تیرہواں حصّہ)۔۔خالد ولید سیفی

میں واپس ہوا اور چڑھائی چڑھنے لگا، چڑھائی چڑھتے سانس پھول جاتی ہے، میری زیادہ پھولتی ہے، بیچ میں تھوڑی دیر سستانے کےلیے رکا، ایک خاتون سیاح گلے میں کیمرہ ڈالے اور آنکھوں پر چشمہ لگائے نیچے آبشار کو جارہی←  مزید پڑھیے

اردو ابجد کے حروف ِ تہجی کی استعارہ سازی سےمرتب۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اکتوبر ہے کہرے کی اک میلی چادر تنی ہوئی ہے اپنے گھر میں بیٹھا مَیں کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہوں باہر سارے پیڑ، دریدہ، پیلے، یرقانی پتّوں کے مَٹ مَیلے ملبوس میں لپٹے ، نصف برہنہ بادِ خزاں سے←  مزید پڑھیے

غالب کا شعر،ستیہ پال آنند کی نظم، شمس الرحمٰن فار وقی کا ای میل تبصرہ

خیال ِ مرگ کب تسکیں دل ِ آزردہ کو بخشے مر ے دام ِ تمنا میں ہے اک صید ِ زبوں، وہ بھی (مرزا غالب) ستیہ پال آنند کی نظم مجھے تو سیدھی سادی بات کرنےکا سلیقہ ہے مجھےیہ استعارہ←  مزید پڑھیے