بریرہ آرٹ گیلری،وایا دانتے کی سیر اورمرینو سے ملنا o بریرہ آرٹ گیلری دراصل نشاۃ ثانیہ دور کے کاموں سے سجی ہوئی ہے۔ o پبلیشنگ ہاؤس میں کام کرتی مورینوکا کہناتھا کہ ٹائٹل بنانے کے لئے اُسے پوری کتاب کو← مزید پڑھیے
شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے شعلہ ٗعشق سیہ پوش ہوا میرے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے شعلہٗ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد پہلے تو← مزید پڑھیے
ہوٹل کی لابی کا اندرونی حصہ دیدہ زیب ہے، بالائی منزل سے زینوں سے اترتے ہی دائیں طرف کاؤنٹر اور بائیں طرف دیوار پر ایک بورڈ آویزاں ہے جس میں سیاح یادگاری کلمات لکھ لیتے ہیں۔ کاؤنٹر کے بالکل سامنے← مزید پڑھیے
نظم شب خمار ِ شوق ِ ساقی رستخیز اندازہ تھا تا محیط ِ بادہ صورت خانہ ٗ خمیازہ تھا (غالب) ستیہ پال آنند بندہ پرور، پرسش ِ احوال ہے، بے جا ، مگر اہم کیوں ہے رات کا احوال نامہ← مزید پڑھیے
کلینڈر میرے اپنے معنی ہیں کلینڈر کے لئے، صاف، خوف سے دور نیا سال مگر میرے کلینڈر میں دکھوں کی طویل رات ہے جو ہر ماہ ایک چوٹ دیتی ہے ہر ماہ نئے سال کی طرح منانا چاہتا ہوں پھر← مزید پڑھیے
وقت کا بوڑھا جپسی یہ کہتا ہے مجھ سے لوگ جو اتنی جلدی بوڑھے ہو جاتے ہیں تو کیسے لگنے لگتے ہیں رخساروں پر زردی آنکھوں کے نیچے بد رنگ گڑھے سے ۔۔۔ کاجل جیسے بہہ کر دھبوں کی صورت← مزید پڑھیے
گریمیا سکوائر، وینس کی گلیاں، اکیڈیمیہ آرٹ کا گھر، موت کا سامنا o چاند رات،گنڈولا،ساتھی اور وینس کا شہرہ آفاق گیت سُننے کو مل جائے تو زندگی کے وہ لمحے قابل ذکر بن جاتے ہیں۔ o بنگلہ دیشی وینس کے← مزید پڑھیے
روشنی مجھ سے گریزاں ہے تو شکوہ بھی نہیں میرے غم خانے میں کچھ ایسا اندھیرا بھی نہیں مسکن ادویات سے لی ہوئی مصنوعی نیند سے جب اسکی آنکھ کھلی تو ۔۔۔ اسے طبیعت میں وہ تازگی محسوس نہیں ہوئی،← مزید پڑھیے
’’چار پانچ برس بڑا ہونا تو کچھ بھی نہیں۔۔۔‘‘ عینی آپا نے کہا تھا ، ’’۔۔۔اور پھر جب ہماری عمر ستّر سے بڑھنے لگتی ہے، تو چار پانچ تو کیا، دس بارہ برس بھی کسی گنتی میں نہیں آتے۔ اور← مزید پڑھیے
امتیاز حسین کاظمی ہمہ جہت صفات کے مالک فیصل عرفان کی تصنیف ’’پوٹھوہاری اکھانڑ تے محاورے‘‘ پوٹھوہاری ادب میں ایک منفرد اور خوبصورت اضافہ ہے۔ سینکڑوں پوٹھوہاری ضرب الامثال اور محاوروں سے مزین اس خوبصورت تصنیف کے منظر عام پر← مزید پڑھیے
ہم سڑک کنارے اونچائی پر کھڑے تھے، سامنے خوبصورت جھیل تھی، کینڈی شہر کے وسط میں بنائی گئی اس مصنوعی جھیل کی دوسری طرف ” بدھ دانت مندر” (سری دالدا مالی گاوا ) جو نیچے کی جانب ہے، روایت کے← مزید پڑھیے
مگر یہی بات لکهی کہانی اور بهوگی کہانی کا مشترک درد بن کر کانوں میں انڈیلا رہ جاتا۔ یہ سارے الفاظ بهی دهندلے ہو کر کهو جاتے، صرف مفہوم کی بجلیاں گونجتی کڑکتی رہ جاتیں۔۔ کہانی لکهنے والی نے کئی← مزید پڑھیے
قرۃ العین حیدر کے بارے میں میری یاداشتوں پر مبنی یہ تیسرا مضمون ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرۃ العین حیدر ( عینی آپا) سے آخری ملاقات دہلی میں ہوئی۔ میں پاکستان کے ایک ماہ کے دورے سے لاہور، پنڈی، میر پور، پشاور،← مزید پڑھیے
میرے قارئین کو یہ شکایت رہتی ہے کہ میرے سفر ناموں میں کھانے کا ذکر بڑے اھتمام کے ساتھ کیا جاتا ہے، سو آج کھانے کا ذکر نہیں ہے، دوپہر کو کھانے کےلیے کہیں نہیں رکے، لنچ کی چھٹی ہے،← مزید پڑھیے
وہ ایک دیوی تھی ، حُسن کی دیوی ، اس کی پیدائش کے دن ماں نیم بے ہوش تھی ، اسی مدہوشی ، کرب اور تکلیف کے مابین اس نے ایک خواب دیکھا اور سوچ کا تسلسل قائم ہو گیا۔۔← مزید پڑھیے
ایک کہانی وہ تهی جسے وہ لکھتی تهی اور ایک کہانی وہ تهی جس کا لکھا وہ بهوگتی تهی، دونوں کہانیاں بالکل مختلف تهیں مگر گڈ مڈ ہو ہو جاتی تهیں۔ پهر جو وہ لکهنا چاہتی تهی، اس سے لکها← مزید پڑھیے
سینٹ مارک سکوائر،چرچ،ڈوگی پیلس اور Rialtoبرج o ہوٹل ملنے کی الف لیلوی کہانی۔ o وینس ایک مرتا ہوا شہر جس کے شہری اور لینڈ لارڈ گوناگوں مسائل کا شکار ہیں۔ o حکومت وینس جیسے تاریخی ورثے کو سنبھالنے کے خبط← مزید پڑھیے
میں کیا کروں، خود سے پوچھتا ہوں کہ قرض میں بال بال میرا بندھا ہوا ہے یہ قرض صدیوں کا، جس کا جوا مرے نحیف و نزار بچپن کے نرم کندھوں پہ پیدا ہوتے ہی رکھ کے مجھ کو کہا← مزید پڑھیے
سڑک کے دونوں جانب ہریاول ہمارے ساتھ ہم سفر تھا، قد آور درخت اور خوشنما پودے تھے، پھلوں سے لدے اور شگوفوں سے بندھے یہ درخت اور پودے نظروں کو خیرہ کرتے تھے، بہار آتی ہے تو یہ مسکرا دیتے← مزید پڑھیے
(سترہ برس پہلے ساقی فاروقی کے لیے تحریر کردہ ایک نظم) بازو کی شہ رگ نشتر کے نیچے آتے آتے جیسے از خود رفتہ ہو کر پھسلی، کھسک گئی، تو میں نے ٹھنڈا سانس لیا، جو چین کا سانس بھی← مزید پڑھیے