اپنے آنجہانی دوست شمس الرحمٰن فاروقی کی بے وقت رحلت کے بعد میں نے ضروری سمجھا ہے کہ ان کے توسط سے معرض ِ وجود میں آئی (اور تیس چالیس بر سوں تک ار دو ادب پر محیط) ر، (جسے← مزید پڑھیے
میرے خوابوں کا وینس اور میری بونگیاں o پانیوں میں تیرتا یہ بے حد شاندار اور خوش نما شہر جس کی شہرت دنیا بھر میں حیرت انگیز اور تاریخی ورثے کے طور پر ہے۔ o اٹلی ٹھگوں کے لئے بڑا← مزید پڑھیے
ہماری اگلی منزل سری لنکا کا وسطی شہر کیننڈی تھا۔ عرفان حسب معمول صبح سویرے ہی پہنچ چکا تھا، ناشتے سے فارغ ہو کر ہم کیننڈی کےلیے روانہ ہوئے، موسم آج بھی دلکش تھا، بادل برسنے کو بے تاب تھے،← مزید پڑھیے
محبت ڈھونڈنے نکلی تو جنگل میں۔۔۔۔۔ کئی وحشی درندے لوبھ کے مارے جناور راہ کو روکے ہوئے اپنے بدن کے خفتہ حصوں کو کھجاتے، گھورتے جاتے تھے صدیوں سے۔۔۔۔میری جانب کئی قرنوں سے میں اپنے بدن کو اپنی باہوں میں← مزید پڑھیے
کچھ جہد مسلسل سے تھکاوٹ نہیں لازم انسان کو تھکا دیتا ہے کچھ سوچوں کا سفر بھی آج کل اس کا مسئلہ اوور تھنکنگ ہی تھا، زندگی اس موڑ پر آ جائے گی کبھی اسے اندازہ نہیں تھا ۔اس عمر← مزید پڑھیے
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی المنائی ایسوسی ایشن کے سالانہ مشاعرےکی صدارتی تقریر دوستو! ٓاس شہر یعنی واشنگٹن کی ادبی زندگی کیا ہے۔ ۱۹۸۶ میں ا س شہر میں آنے سے پہلے یہ سچائی صرف اردو کے حوالے سے ہی← مزید پڑھیے
چلچلاتی دھوپ نے گلہ خشک کر دیا۔ عرفان کے رکشے میں سانس بھی پوچھ پوچھ کر آتی تھی۔ کسی شاپ کے ساتھ ٹک ٹک رکوا کر پانی کی دو چار بوتلیں لیں، تو جان میں جان آئی اور ساتھ جہان← مزید پڑھیے
مجھ کو قلم، فرہاد کو تیشہ ، رانجھے کو کشکول دیا عشق نے دل والوں کو جو بھی کام دیا انمول دیا سیپ سیپ سے پوچھ پوچھ کر ، ہم نے آپ کو ڈھونڈا تھا آپ نے تو ، اے← مزید پڑھیے
ہم لابی میں داخل ہوئے۔ بالکل سامنے کاؤنٹر تھا، جس پر 4 یا پانچ مرد و خواتین منیجرز بیٹھے ہوئے تھے۔ کاؤنٹر پر کمپیوٹرز کی قطار تھی، لابی کے بالکل وسط میں ایک بڑا پیانو رکھا تھا۔ “سنگِ مرمر پر← مزید پڑھیے
لاسکیلا ، لاسٹ سپر اور وایا دانتے کی سیر o ہوپ آن ہوپ آف پر چڑھنااُترنا اور شہر کو دیکھنا کیا مزے کا کام تھا۔ o لاسٹ سپر لیونارڈوونچی کا وہ شاہکار ہے جس پرآرٹ ہمیشہ ناز کرتارہے گا۔ o← مزید پڑھیے
زخم زخم ہے میرا چہرہ خون پسینہ ایک ہوئے ہیں یہ رومال جو خون سے تر میرے چہرے سے لمحہ بھر کو چپک گیا ہے قرنوں تک میرے چہرے کا خاکہ اس کے خال و خد، رخسار، دہن، آنکھیں، پیشانی← مزید پڑھیے
کامران سے گفتگو کا دور چل رہا تھا، اس کی کوشش تھی کہ ہم انڈیا سے درآمد شدہ اس کی ڈربہ نما کار کو کولمبو سمیت سری لنکا کے دیگر سیاحتی مقام پر جانے کے لیے بک کریں، مگر زیادہ← مزید پڑھیے
میرے دادا جان مجھے بچپن میں گورو نانک، بھائی مردانے اور موُلے کی کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک کہانی کچھ یوں تھی: ایک دفعہ گورو نانک جی اور ان کے دونوں چیلے ایک ایسے نگر میں چلے← مزید پڑھیے
چیز چمکیلی سی بیٹھی تھی مر ے پھن میں تنی سنگ اسود کا کوئی ٹکڑا تھا یا پارس منی کھٹکھٹائیں کس کا در اس شہر کے دریوزہ گر گانٹھ کے پکے ہیں دونوں، شُوم کیا اور کیا غنی اک زمرد← مزید پڑھیے
میرا بازیاب شدہ پاسپورٹ خاتون کے ہاتھ میں، وہ آگے آگے، میں پیچھے پیچھے۔ کاؤنٹر سے بڑے افسر کے دفتر کا فاصلہ چند قدم تھا، مجھے لگا کہ بڑے افسر کے دفتر تک، میں کئی کلو میٹر کی مسافت طے← مزید پڑھیے
“یہ محبت بڑی کتی شئے ہے۔ انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے یکسر محروم کردیتی ہے۔ حد سے زیادہ عشق اور محبت کا انجام بہت دل شکن ہوتا ہے۔ میں چاہوں بھی تو پنکی کو نہیں بھول سکتا” اس← مزید پڑھیے
اک مہاجر بھٹکتا ہوا در بدر دشمنوں کے تعاقب کا مارا ہوا ہانپتا، کانپتا سانس کے زیر و بم میں دھڑکتے ہوئے دل کو اپنی ہتھیلی پہ رکھے ہوئے ڈھونڈتا ہے ۔۔۔۔ کوئی ایک جائے تحفظ، نشیب ِ اماں عافیت← مزید پڑھیے
میلان o شہر کا خاص الخاص تحفہ ڈومو سکوائر،اس کا کھیتڈرل اور گلیریا میلان کے لینڈ مارک ہیں۔ o چنترال ریلوے اسٹیشن پر بنگالی لڑکوں سے ملنا،ان کی ہدایات کو پلّے باندھنا اور اُن کے تجربات سُننا یقیناً دلچسپ اور← مزید پڑھیے
منٹو جی نے بوتل سنبھالی اور ٹانگے میں بیٹھ گئے دارو کی یہ بوتل ”کھول دو” افسانہ لکھنے کےبعد ہاتھ آ گئی تھی منٹو گھر پہنچ کرکسی سے بات چیت کئے بغیر سیدھا اپنے کمرے میں چلے گئے اور بوتل← مزید پڑھیے
“کبھی آپ کے سامنے آپ کی اولاد کی کٹی پھٹی لاش سامنے پڑی دیکھی ہے؟” ایک غراتی ہوئی نسوانی آواز نے میرے پیر جکڑ لئے۔ مجھے اپنے دفتر سے نکل کر گھر جانا تھا۔ آج میرے چار سالہ اکلوتے بیٹے← مزید پڑھیے