کیسے بانٹیں یہ املاک؟ سونے چاندی ، ہیروں جیسی یہ املاک کھیتوں کی ہریالی، کھلیانوں کی دولت بھرے پُرے گودام اناج کے کیسے بانٹیں؟ تیس کروڑ ہیں داعی اس کے سب کہتے ہیں، ہم مالک ہیں ایک دوّنی، ایک چّونی← مزید پڑھیے
بد دا بیِج بوا لاگ لینے کے چکرمیں ویہڑے میں شٹاپو کھیل رہی تھی ۔ ” کیسی چاند سی دلہن ڈھونڈھی ہے میں نے۔اُچی لمی، اب مانتی ہو نا،” بوا اٹھلا کر چار چوفیرے بیٹھی عورتوں سے بولی۔ “سویرے کھراچڑھائی← مزید پڑھیے
اس حبس سے بھرے ہوئے بدبو دار سیل میں سہیل مسیح اونگھ رہا تھا ہمیشہ کی طرح۔ گال پچکے ہوئے اور آنکھیں اندر دھنسی ہوئیں۔ اگر کبھی اس کی آنکھ لگ بھی جاتی تو جلّاد کی شکل، پھانسی کا پھندہ،← مزید پڑھیے
میر جملہ ہیں جناب ، آپ ولی نعمت ہیں اور میں آپ کی بندہ ہوں، رعایا ہوں ، فقط باج گذار آپ کے خیل و حشم میں ہوں ، مرے ان داتا دیکھیے میری طرف ، عالی جاہ (جیسا کہ← مزید پڑھیے
منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر گزشتہ چند روز میں ایک بڑی تبدیلی اس کی ذات میں آ رہی تھی ۔وہ تھی بہت زیادہ سوچنا ۔ یہ سوال اس← مزید پڑھیے
یہ ایلچی گری مجھ سے نہیں ہوتی، مولا یہ ایلچی گری لفظوں کی جلتی مشعل سی میں کتنے برسوں سے اس کو اٹھائے پھرتا ہوں شروع ِ عمر سے اب تک بلند و بالا رکھے میں تھک گیا ہوں اس← مزید پڑھیے
دونوں میں بہت پیار تھا۔ دونوں چالیس کے پیٹے میں تھے۔ ان کی شادی کو پندرہ سال گزر گئے تھے۔کوئی اولاد نہ ہونے کے باوجود آج بھی ان کے بیچ ایسی محبت تھی،کہ دیکھنے والے رشک اور حسد سے جل← مزید پڑھیے
اجنبی ملکوں میں کسی کی راہنمائی، کسی کا حُسن، کسی کے میٹھے بول اور محبت آپ کے لئے بیش قیمت اثاثے کی مانند ہوتی ہے۔ انہی جذبات واحساسات کو لفظوں کا پیرہن پہنایا ہے۔ صد آفرین اُن پر ہے اجنبیت← مزید پڑھیے
باد ِ صر صر کو بھی یہ لوگ صبا کہتے ہیں گرد کی آندھی کو گھنگھور گھٹا کہتے ہیں شاعروں کو اگر قبروں کا دیا کہتے ہیں لوگ بے وجہ نہیں کہتے، بجا کہتے ہیں آئینہ مصلحت ِ وقت کا← مزید پڑھیے
چل آ، آنندؔ، کر خود احتسابی ترے بھی لڑکھڑائے ہیں قدم کیا؟ ہزاروں گُم ہوئے دشت سخن میں تری بھی رک گئی نوک ِ قلم کیا؟ (ق) جو کچھ میں لکھ چکا ہوں،لکھ چکا ہوں یہ رزق ِ شعر ہے← مزید پڑھیے
دونوں کی گاڑیاں آپس میں کیا ٹکرائیں، وہ بیچ سڑک پر ہی آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔ پہلے ایک دوسرے کا گریبان نوچا، پھر خوب گلا پھاڑ کر شور مچایا، پھر راہ بند کر کے راہ گیروں سے بےشمار← مزید پڑھیے
بول کر سب کو سنا، اے ستیہ پال آنند! بول اپنی رامائن کتھا، اے ستیہ پال آنند ! بول تو کہ کامل تھا کبھی، اب نصف سے کم رہ گیا دیکھ اپنا آئینہ ، اے ستیہ پال آنند ! بول← مزید پڑھیے
بھارت کے مسلمانو!چلوآؤ ملیں، مل کر چلیں کشمیر میں ،کشمیریوں کا حال تو پوچھیں سنا ہے کہہ رہے ہیں وہ مسلماں تم ،مسلماں ہم تو پھر یہ بے حسی کیسی؟ تمہیں کہتے ہوئے ہر روز سنتے ہیں اٹوٹ انگ ہم← مزید پڑھیے
ڈاکٹر خالد سہیل پیشے کے اعتبار سے ایک مستند سائیکیٹرسٹ ہیں اور تیشےکے استعارے سےوہ فرہاد جو شیریں سخن ہیں ۔ خود کو ہیومنسٹ قرار دیتے ہیں یہاں تک کہ اپنی گاڑی کی نمبر پلیٹ پر بھی یہی لکھوا رکھا← مزید پڑھیے
غزل پلس تھی ازل سے نہاں اولاً ثانیاً اک صــــدا، کُن فِکاں، اولاً ثانیاًا ایک نا سُوت تھا، ایک لاہُوت تھا یہ جہاں، وُہ جہـاں، اولاً ثانیاً جسم تھا، جان تھی،روح تھی، جوع تھی لا مکاں۔ ۔۔۔۔ لا زماں۔۔ ۔۔۔۔اولاً← مزید پڑھیے
کبھی تو سن مِری فریاد، اے بہرے خدائے جسم کہ اب تو تھک گئی ہے روتے روتے یہ صدائے جسم یقیناً لطف لیں گے ہم بھی ان کی سوندھی خوشبو کا ذرا آرام تو کر لیں پسینے میں نہائے جسم← مزید پڑھیے
ساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہم نالہ آتا ہےاگر لب پر تو معذور ہیں ہم “اولاد اللہ کی نعمت، قدرت کی سب سے بڑی خوبصورت نشانی ۔ ۔پھر اس کی بے قدری کیوں؟ ” وہ خود سے ہی← مزید پڑھیے
کون ہیں یہ دو جَنمے اِنساں ؟ مَیں اور مَیں ایکــ اکَہرے’ پھر بھی جُڑواں ‘ مَیں اور مَیں تُو اور تُو تو شاید بُوڑھے ہو بھی چکے دیکھ کہ اِس پیری میں جواں ہیں ‘ مَیں اور میں مَیں← مزید پڑھیے
کتاب پڑھنے بیٹھتی ہوں تو ماضی کے اوراق سامنے آکھڑے ہوتے ہیں پہلے صفحے پر لکھے نظر آنے لگتے ہیں گزرے لمحے ،گمشدہ لوگ ، بکھری منزلیں اور ناتمام خواہشیں ۔ صفحہ پلٹتے پلٹتے تھک کر چور ہو جاتی ہوں← مزید پڑھیے
سردیاں تخلیقات ، فضولیات ، واہیات اور مباشریات کی ماں ہوتی ہیں ۔ اس موسم میں بھی کام ہوتے ہیں اور وہ بھی بڑے بڑے ، شادی شدہ اس موسم میں انسانی بقاء کے عظیم کام کو سرانجام دینے میں← مزید پڑھیے