سنو تو، سابقون و اوّلوں کا وِرد جاری ہو گیا ہے الِف ابجد کی آمد ہے، قلم کا پیَر بھاری ہو گیا ہے ذرا سوچو، ضمیمہ، تمت، مقطع کیا ہیں مرنے کے برادر اکھڑتے سانس، بچتا نرخرہ، اخراج طاری ہو← مزید پڑھیے
محبت دیالو ہوتی ہے کرنے والے چپکے سے کرتے چلے جاتے ہیں ہمارے گرد پھول اسی لئے کھلتے ہیں کہ محبت ابھی ہے بارش اسی لئے ہوتی ہے کہ محبت ابھی ہے سیپ میں موتی محبت آسماں پہ قوس قزح← مزید پڑھیے
ہم نے ڈاکٹر کو غور سے دیکھا تو اس نے جلدی سے “نیکسٹ” کی ہانک لگائی اور ہم پرچی تھامے کبھی ڈاکٹر کو اور کبھی اس کی کمپاؤنڈرنی کو حیرت سے دیکھنے کے علاوہ کر بھی کیا سکتے تھے۔ ڈاکٹر← مزید پڑھیے
جب پورے پاکستان میں مکمل لاک ڈاؤن تھا۔ سڑکیں سنسان، بازاروں میں ہُو کا عالم تھا۔ حتی ٰ کراچی کی سنسان سڑکوں پر صبح کے وقت جاگنگ کرنے کے جرم میں گلشن اقبال پولیس نے پکڑ کر دفعہ 124 کے← مزید پڑھیے
فجر روز بیٹے کو طعنے دیتی کہ اس کو باپ سے محبت نہیں ہے ورنہ وہ مکان بیچ کر اس کا علاج کرواتا۔ وہ مکان جو باپ نے عمر بھر ایک ایک پیسہ جمع کر کے کھڑا کیا تھا اور← مزید پڑھیے
خستگی اپنی جلا دے، اے مئے مرد افگن ِ عشق کر کے خود سوزی دکھا دے، اے مئے مرد افگن ِ عشق سرمد و منصور کی تلمیذ بھی ہے وصف تیرا خود کو ابجد خواں بنا دے ، اے مئے← مزید پڑھیے
وہ مرکزہ تھا کہ شاید سبب تھا اےآنند کہ اختتام بھی جس کا غضب تھا اے آنند جنم جنم سے ترا ایک ہی مقدر ہے تو ایک موتی درون ِ صدف تھا اے آنند وہ رنگ اب بھی مرے دل← مزید پڑھیے
وہ تو اب بھی خواب ہے، بیدار بینائی کا خواب زندگی خواب میں اس کے گزار آیا تو کیا ” کتاب کو ہاتھ لگائے گی تو؟ تیرا باپ کما کر نہیں لاتا ،تو خواب دیکھتی ہے پڑھنے کے،میں کہاں سے← مزید پڑھیے
عامر روز دفتر جاتا ہے۔ڈریس پینٹ اور شرٹ مع ٹائی کے۔ایک جیسے کپڑے، ایک جیسے چہرے۔ وہ یہ سوچتا ہے اور سڑک کنارے دفتری گاڑی کا انتظار کرتا ہے۔ ’’ایک جیسے کپڑے ایک جیسے چہرے‘‘، یہ بات وہ روز سوچتا← مزید پڑھیے
نو آبادکار پھولوں کے بارے میں لکھ رہے ہیں، میں آپ سے کہتی ہوں کہ گل داؤدی بننے سے کچھ سکینڈ پہلے بچے اسرائیلی ٹینکوں پر پتھر پھینک رہے ہیں، میں ان شاعروں کی طرح بننا چاہتی ہوں جو چاند← مزید پڑھیے
کرسمس(1979) واشنگٹن کی سڑکیں چکا چوندھ کرسمس کی۔۔۔۔جیسے آسمان کے تارے دھرتی پر اترے ہوں “مال”۔۔۔پلازے سجے ہوئے سب رہرو جوڑے ، بغل گیر، جیسے جُڑواں ہوں مشروبوں کے پروں پہ اُڑتے یا آتی جاتی خلقت کی نظروں سے بے← مزید پڑھیے
ضروری نوٹ چین میں ایغور اور قازق مسلمان چینی باشندوں کو ان کے صدیوں پرانے گھروں سے اکھاڑ کر “تربیتی کیمپوں” میں بھرتی کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں اسلامی روایات (نماز، روزہ، وغیرہ) کی پیروی نہیں کرنے دی جاتی← مزید پڑھیے
آدھا ادھوراشخص(bi-polar)یعنی دو متضاد شخصیتوں میں منقسم ایک مریض کا قصہ ——————- ہمارا روز کا معمول تھا، سونے سے پہلے باتیں کرنے اور جھگڑنے کا گلے شکوے کہ جن میں اگلی پچھلی ساری باتیں یاد کر کے روتے دھوتے تھے← مزید پڑھیے
اللہ ہمت دے مولا طاقت دے بخش ہمیں وہ جرات جس سے ہم صف آرا ہوں مل کر مار بھگائیں اس دشمن کو اللہ ہمت دے مولا طاقت دے ہم پا مرد ہیں، ڈٹے ہوئے ہیں حرب و ضرب میں← مزید پڑھیے
انور مقصود خوش قسمت ہیں کہ اردو ادب، تحریک پاکستان اور دوسری شخصیات سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ہم نے سوچا ہم بھی ایک آدھا خط لکھ دیں شاید جواب آجائے۔ سوچنے لگے کہ کس سے خط و کتابت کی← مزید پڑھیے
یہ دعا کل رات نیم بیداری کی کیفت میں موزوں ہوئی۔ نیند کھلنے پر میں نے اسے نوٹ کر لیا اور رد و بدل کے بعد آج آپ کی خدمت میں پیش کر ر ہا ہوں۔ اسے پڑھیں گے تو← مزید پڑھیے
ارشد لون ایک سنجیدہ طالبعلم تھا۔ اُس کےزندگی کے تجربے اپنے ہم جماعتوں سے فرق تھے۔ اُس نے اپنی توجہ پڑھائی پر مرکوز رکھی۔ ایف ایس سی بورڈ میں پوزیشن لی اور پھر غلام اسحاق خان انسٹیٹوٹ میں الیکٹرونکس انجینرنگ← مزید پڑھیے
“آئیے مل کر پڑھتے ہیں درودِ پاک، اللھم صلی اللہ”، اُس کے سامنے بیٹھے شخص نے کہا۔ وہ ہنس پڑا۔ اس کے ذہن میں سوچ آئی کہ یہ سامنے بیٹھا شخص مجھے کتنا بڑا بیوقوف سمجھتا ہے۔ وہ ہنس پڑا← مزید پڑھیے
وہ بے چینی سے اپنی انگلیاں چٹخانے لگیں۔ اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ اندرونی طور پر شدید بے چینی کی شکار ہے۔ پارک میں کچھ بچے فٹ بال کیساتھ کھیل رہے تھے۔ یہ روز کا معمول← مزید پڑھیے