ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 120 )

بن مانس(ایک فینٹسی)۔۔ستیہ پال آنند

​سوال لکھا ایک فیس بک عزیز نے “اگر کوئی ناگہانی آفت دنیا کی ساری  آبادی کو ہلاک کر دے اور ہزراوں برسوں تک برباد رہنے کے بعد دنیا میں ایک نئی اُپج کا ظہور ہو ، اور چوپائیوں سے ترقی←  مزید پڑھیے

 شیشہ دل پر مرہمِ زنگار….احمد رضوان

انسانی یادداشت بھی بڑے عجیب و غریب طریقے سے کام کرتی ہے۔ کبھی کبھار تو کوئی ایسی بات حافظے میں محفوظ رہ جاتی ہےجو بظاہر اہم نہیں ہوتی  اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ ہم بہت اہم باتیں بھول جاتے←  مزید پڑھیے

مٹھاس۔۔ربیعہ سلیم مرزا

شام ہوتے ہی باورچی خانے کے روشندان سے آتی روشنی گہری ہونے لگی ۔دھند نمی میں بدل رہی تھی۔گھر کی خاموشی میں صرف کڑاہی میں گرم ہوتے تیل کی گنگناہٹ سنائی دے رہی تھی ۔ فون کی میسج ٹون نے←  مزید پڑھیے

کیا بنگلہ دیش کا وجود دو قومی نظریے کی نفی ہے؟۔۔نوید شریف

سقوط ڈھاکہ کے وقت اندرا گاندھی نے کہا کہ “آج ہم نے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا۔”بنگلہ دیش کے وجود کو پاکستان مخالف قوتیں دوقومی نظریے کے خلاف بطور دلیل پیش کرتی ہیں۔ دعوی کرتی ہیں←  مزید پڑھیے

ایک متنازعہ مراٹھی نظم (سرکاری طور پہ ضبط شدہ نظم)۔۔۔وسنت دتا تریہ گرُجر/ترجمہ:یقعوب راہی(انتخاب :احمد نعیم)

وسنت دتا تریہ گرُجر کا نام مراٹھی ادب کا اہم نام ہے۔زیر نظر نظم وسنت دتا تریہ گرُجر کی ایک ایسی نظم ہے، جو 1980میں شائع ہوئی لیکن وسنت گرُجر پر حکومت مہاراشٹر نے 1995میں اِس وقت مقدمہ دائر کیا←  مزید پڑھیے

​گیارہواں طاعون۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کہا جاتا ہے کہ فرعون ِ مصر نے ایک پیش بین کی آنکھیں ، جس نے طاعون کے نازل ہونے کی پیشین گوئی کی تھی، گرم سلائیوں سے اندھی کروا دی تھیں! ۔۔۔۔۔۔ میری آنکھوں کو اندھا کرنے کی خاطر←  مزید پڑھیے

کالا جادو۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ایک کہانی جس کے تین کلائمیکس ممکن تھے۔۔۔ ایک کالے جا دو گر کی بیٹی، کالی جادو گرنی جس نے اپنے کالے دل کے بدلے میں میر ا یہ گورا چِٹا دِل لینے کی اکھڑ ضد کی تھی برسو ں←  مزید پڑھیے

ملفوف آئینے: خورخے لوئیس بورخیس(ترجمہ: عاصم بخشی)

اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ قیامت کے ناقابلِ اپیل دن جانداروں کی شبیہیں بنانے کے مرتکب سب لوگ اپنے اپنے فن پاروں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے اور حکم ہو گا کہ ان میں زندگی پھونکیں،وہ ناکام ہوں گے اور←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

​ لیتا ہوں مکتب ِ غم ِدل سے سبق ہنوز لیکن یہی کہ ’رفت‘ گیا ، اور ’بود‘ تھا ۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند لیتے ہیں ـ’’مکتب غم ِ دل‘‘ سے، حضور ، آپ کیا کیا سبق جو نکبت و ادبار←  مزید پڑھیے

شہزادہ احمد الکمال۔۔تحریر : واشنگٹن ارونگ /ترجمہ : عاطف ملک

نوٹ:یہ ترجمہ لفظ بہ لفظ نہیں بلکہ مترجم نے “کچھ بڑھا بھی دیتے ہیں زیبِ داستاں کے لیے”    کا استعمال  اس ترجمے میں مختلف مقامات پر کیا ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ غرناطہ کے اندلسی حکمران کا←  مزید پڑھیے

غالب کمرہء جماعت میں (سیریز۔12)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

یک الف بیش نہیں صیقل ، آئینہ، ہنوز چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا طالبعلم ایک یک الف بیش نہیں؟ کیا ہے الف کا مطلب؟ طالبعلم دو ہے کوئی رمز یہ آئینے کو چمکانے کی ؟ یا←  مزید پڑھیے

جنگل کہانی۔ سو الفاظ کی کہانی۔۔۔سیف الرحمن ادیؔب

پورے کے پورے جنگل کا نظام الٹ گیا تھا۔ ہرن چیتے کا پیچھا کر رہا تھا اور چیتا خوف کے مارے چیخ رہا تھا۔ کبوتر عقاب کا شکار کر کے دعوت اڑا رہے تھے۔ بھیڑیے سبزیاں چبا رہے تھے اور←  مزید پڑھیے

کچھ نظمیں جو آپ تک پہنچنی ضر وری سمجھی گئیں۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

چوہے دانوں کی مخلوق (ایک غصیلی نظم) بد صورت، مکروہ چڑیلوں کی مانند گلا پھاڑتی، بال نوچتی ؂۱ دھاڑیں مارتی، چھاتی پیٹتی باہر ایک غصیلی آندھی پتے، شاخیں، کوڑ کباڑ، کتابیں اپنے ساتھ اڑاتی ؂۲ مُردہ گِدھوں کے پنجوں سے←  مزید پڑھیے

گڑیا۔۔۔ معاذ بن محمود

آج سب کو بناؤ سنگھار کی تاکید تھی۔ ابا کا حکم جو تھا۔ لڑکے والوں نے آج لڑکی دیکھنے آنا تھا۔ لڑکی اچھی لگی تو شادی ہوگی۔ خوب دھوم دھام ہوگی۔ رسمیں ہوں گی۔ خوشیاں ہوں گی۔ شہنائیاں ہوں گی۔ باجے ہوں گے۔ بارات ہوگی۔←  مزید پڑھیے

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا۔۔عارف خٹک

آج اس کی  شلوار پھر  پھٹی ہوئی تھی۔ سر سے بھی خون رس رہا تھا۔ ہونٹ زخمی تھے۔ ننگے پیر گاؤں کی کچی سڑک پر بیٹھا ہوا اپنے گندگی سے لتھڑے بالوں میں بار بار انگلیوں  سے خارش کرکے وہ←  مزید پڑھیے

چارپائی۔۔حبیب شیخ

امجد کی بات سن کر ٹھیکے دار کا منہ غصہ سے لال ہو گیا لیکن اس نے ضبط کے ساتھ کہا۔ تو پھر اس کو نکال باہر کیوں نہیں کرتے۔ میرے پاس دوڑے دوڑے آنے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ←  مزید پڑھیے

ظلمت سے نور کا سفر(قسط4)۔۔۔محمد جمیل آصف ،سیدہ فاطمہ کی مشترکہ کاوش

میں اپنی ہی الجھی ہوئی راہوں کا تماشا جاتے ہیں جدھر سب میں اُدھر کیوں نہیں جاتا وہ خواب جو برسوں سے نہ چہرہ نہ بدن ہے وہ خواب ہواؤں میں بکھر کیوں نہیں جاتا مسکن ادویات کے زیر اثر←  مزید پڑھیے

غالب کمرہء جماعت میں (سیریز۔11)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کس پردے میں ہےآئینہ پرداز ، اے خدا رحمت کہ عذر خواہ لب ِ بے سوال ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طالبعلم ایک تسلیم، “عذر خواہ لب ِ بے سوال” ہے لیکن یہ عذر کیا ہے جو لب سے بعید ہے؟ طالبعلم دو←  مزید پڑھیے

افلالوط کی حمد۔۔۔۔۔علی محمد فرشی

افلاطون کے بعد سب سے بڑا دماغ افلالوط کو ملا اُس نے سمندروں کے آگے بند باندھے کا راز دریافت کیا اسی نے معلوم کیاتھا کہ وقت اندھا ہوتا ہے اور بہرا بھی پھر اُس نے وقت کا بایاں بازو←  مزید پڑھیے

غالب کمرہء جماعت میں (سیریز۔10)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

محفلیں بر ہم کر ے ہے گنجفہ بازِ خیال ہیں ورق گردانیء نیر نگ ِ یک بت خانہ ہم — استاد ستیہ پال آنند میں بتاؤں، نوجوانو، خوشنما، عمدہ طریقہ بحث کا؟ خود سے پوچھو، پوچھتے جاؤ، سوال اندر سوال←  مزید پڑھیے