ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 121 )

غالب کمرہء جماعت میں (سیریز۔9)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم ِ سماع ٍ گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں ——– طالبعلم ایک “جاں”اور ” دم ِسماع”ہیں اسماءالصفات “چنگ و ربا ب ” ہیں مگر اشیاء کے اسم ِخاص ان←  مزید پڑھیے

غالب کمرہء جماعت میں (سیریز۔8)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

پئے نظر ِ کرم تحفہ ہے شرم ِ نا رسائی کا بخوں غلطیدہ ء صد رنگ دعویٰ  پارسائی کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ استاد ستیہ پال آنند عزیزو ، پہلے میں ہی پوچھتا ہوں کچھ سوال اپنے یہ تحفہ کیا ہے جو نظر←  مزید پڑھیے

غالب کمرہء جماعت میں (سیریز۔7)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

یک قدم وحشت سے درس ِ دفتر ِ امکاں کھُلا جادہ اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔ طالبعلم ایک ـ’’یک قدم وحشتـ ‘‘؟ فقط اک ہی قدم کیا، اور بس؟ سر حد ِ قائم مزاجی سے پر ے←  مزید پڑھیے

خالد جاوید کا ناول ” موت کی کتاب”: ایذا رسانی کی کتاب(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔فیصل اقبال اعوان

اس کتاب میں ایک بہت ہی رکیک اور بساندھ مارتی زندگی پیش کی گئی ہے۔ بیان بے حد مریضانہ اور کراہت انگیز ہے۔ اگر اس کی علامتی یا تمثیلی تعبیر کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ زندگی←  مزید پڑھیے

ثمرِ محبوب: ہان کینگ (ترجمہ: عاصم بخشی)آخری قسط،5

اسٹیتھو اسکوپ پر اپنی انگلی سے بار بار ضرب لگاتا عمر رسیدہ ڈاکٹر بڑبڑا رہا تھا کہ میرے سینے میں کسی قبر کی سی خاموشی تھی۔ بس دور ہوا کے جھکڑوں جیسی کچھ آوازیں تھیں۔ اس نے اسٹیتھو اسکوپ واپس←  مزید پڑھیے

خالد جاوید کا ناول ” موت کی کتاب”: ایذا رسانی کی کتاب(حصّہ اوّل)۔۔فیصل اقبال اعوان

خالد جاوید کا ناول” موت کی کتاب” پڑھ کر امریکی ادیب سٹیفن کنگ کا یہ قول شدت سے یاد آتا ہے: ” بری تحریر، زبان و کلام کی خرابی اور مشاہدے کے عیوب ہی سے پیدا نہیں ہوتی؛ بری تحریر،←  مزید پڑھیے

ثمرِ محبوب: ہان کینگ (ترجمہ: عاصم بخشی)قسط4

لفٹ کے دروازے کھڑاک سے کھل گئے۔ اپنا بے ڈھب سوٹ کیس اٹھائے اندھیری راہداری میں چلتے ہوئے میں آخر کار دروازے تک پہنچا اور گھنٹی بجائی۔کوئی جواب نہیں آیاْ۔ میں نے اپنا کان دروازے کے برفیلے فولاد سے لگاتے←  مزید پڑھیے

غالب کمرہء جماعت میں (سیریز۔6)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

​دل حسرت زدہ تھا مائدہ لذتِ درد کام یاروں کا بقدر لب و دنداں نکلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طالبعلم ایک دیکھیں حسرت زدہ ” آزردہ “کے معنی میں اگر اور پھر “مائدہ” ۔۔۔۔”آمادہ” یا” راضی” سمجھیں “لذت ِ در د” کو لیں←  مزید پڑھیے

محبت کے رنگ۔۔ رابعہ الرباء

اس نے مجھے محبت کے ایسے رنگ سیکھائے ہیں دشمن بھی میرے لوٹ کے پھر سے آئے ہیں اس نے میری بغض کی راہوں میں پانی سے گلزار بنائے ہیں اس نے مجھے محبت کے وہ ڈھنگ سیکھائے ہیں امن←  مزید پڑھیے

ثمرِ محبوب: ہان کینگ (ترجمہ: عاصم بخشی)قسط3

اگلی شام فلیٹ میں قدم رکھتے ہی میں نے اپنی بیوی کو دروازے پر خوش آمدید کے لیے موجود پایا، شاید اس نے برآمدے سے آتی میرے قدموں کی چاپ سن لی تھی۔ پاؤں ننگے تھے اور شاذ ونادر کترے←  مزید پڑھیے

غالب کمرہء جماعت میں (سیریز۔5)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

​ اصل و شہود و شاہد و مشہو د ایک ہے حیران ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں (اس نظم میں دو بحور کا اشتمال اور اشتراک روا رکھا گیا) طالبعلم ایک ہے”اصل ” سے مراد کیا بنیاد، بیخ،←  مزید پڑھیے

ريت کا ٹیلہ (سچے واقعات پہ مبنی کہانی)۔۔حبیب شیخ

کراچی  شہر ہر طرف جھنڈوں اور جھنڈيوں سے سجا ہوا تھا۔ پچاسواں یومِ آزادی بہت جوش و خروش سے منایا جا رہا تھا۔ اصغر اس ماحول سے بےنیاز اپنی بیوی اور تین بچوں کے ہمراہ ایک موٹر وین میں  منزل←  مزید پڑھیے

ثمرِ محبوب: ہان کینگ (ترجمہ: عاصم بخشی)قسط2

اس کے باوجود مجھ میں خواہش کی ہلکی سی گدگداہٹ بھی نہ تھی۔ نہ صرف اس کے کولہوں بلکہ پنڈلیوں اور پسلیوں ، یہاں تک کہ  رانوں کی اندرونی سفیدی تک کو داغدار کرتی زردی مائل سبز خراشیں دیکھ کر←  مزید پڑھیے

ثمرِ محبوب: ہان کینگ (ترجمہ: عاصم بخشی)قسط1

مئی کے آخری دنوں کی بات ہے جب مجھے پہلی بار اپنی بیوی کے جسم پر خراشیں نظر آئیں۔ ڈیوڑھی بان کے کمرے کے باہر کیاریوں میں گُلِ یاس کی ارغوانی پتیاں یوں نظر آتی تھیں جیسے باہر نکلی زخمی←  مزید پڑھیے

غالب کمرہء جماعت میں (سیریز۔4)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

​تھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدر بے تکلف ہوں وہ مشت ِخس کہ گلخن میں نہیں ۔۔۔۔۔ طالبعلم ایک پہلے دیکھیں کیا وطن غالب کا ہے ہندوستاں؟ اور پھر پوچھیں وطن سے ہے فقط دِـلی←  مزید پڑھیے

غالب کمرہء جماعت میں (سیریز۔3)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

​ نہ حشر و نشرکاقائل، نہ کیش و ملت کا خدا کے واسطے، ایسے کی پھر قسم کیا ہے طالبعلم ایک ذرا جو غور سے دیکھا تو یہ نظر آیا “خدا کے واسطے” خود میں ہی اک قسم ہے، جناب←  مزید پڑھیے

غالب کمرہء جماعت میں (سیریز۔2)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اسد ؔ بزم ِ تماشا میں تغافِل پردہ دار ی ہے اگر ڈھانپے توُ آنکھیں ڈھانپ، ہم تصویر ِ عر یاں ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ طالبعلم ایک اسد خود سے مخاطب تو نہیں اس شعر میں شاید یہ کوئی اورہی ہے جو←  مزید پڑھیے

تِل ۔۔۔( 5،آخری قسط)نجم السحر

” ہاں میں ۔۔۔ جھوٹی عورت ۔۔۔ دھوکے باز رنڈی ۔۔۔ ” اس نے پہلے صدف کے بال اپنے دونوں ہاتھوں سے نوچ کر اس کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا پھر اس کے چہرے کو چانٹے مار مار کر لال←  مزید پڑھیے

تِل ۔۔۔(قسط4)نجم السحر

سلمان وہ فولڈر لے کے اپنے گھر آگیا اس نے صدف کی بنائی ہوئی پینٹنگ دیکھی تو حیران رہ گیا۔ صدف نے اپنی پینٹنگ میں دکھایا تھا کہ اس نے اپنا خول اتار کے رکھ دیا ہے۔  بے انتہا خوبصورت←  مزید پڑھیے

کچی پگ ڈنڈیوں پر کھیلتے بچے از، فرانز کافکا۔۔۔ ترجم/ محمد فیصل

میں نے باغ میں لگی ہوئی باڑ میں سے شور مچاتی اور گرج پیدا کرتی رینگتی ہوئی ویگنوں کو گزرتے ہوئے سنا اور دیکھا۔ یہاں تک کہ بعض اوقات میں نے ان کو سرسبز و شاداب خوب صورت گھاس پر←  مزید پڑھیے