ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 122 )

تِل ۔۔۔(قسط3)نجم السحر

” ہاں اچھا سوری تم کہو ” خالہ نے خاموش ہوتے ہوئے کہا تو عبیر نے اپنی کہانی پھر شروع کی۔۔۔۔ اس کے بعد جیسے یہ سلسلہ چل پڑا۔ صدف نے کچھ  سکیچ بکس خریدیں ۔ اور تصاویر بنانا شروع←  مزید پڑھیے

تِل ۔۔۔(قسط2)نجم السحر

” سلمان ۔۔۔۔ !! ٹیچر میں صرف بچوں کے لیے سو آپ صرف سلمان کہیے ” سلمان نے بہت سنجیدگی سے جواب دیتے ہوئے جیسے اپنا بدلہ اتارا ۔ ” بے حد معذرت سلمان صاحب دراصل اس دن میشال کا←  مزید پڑھیے

تِل۔۔۔(قسط1)نجم السحر

کہانیاں خیال کے دروازے پر دھیرے دھیرے دستک دیتیں کہانیاں۔ جو ہاتھ جوڑ کر کھڑی رہتی ہیں اور کہتی ہیں مجھے تحریر کر اے تخلیق کار مجھے تحریر کر۔  مگر لکھنے والا ان کو لکھنے سے ہاتھ بچالیتا ہے اور←  مزید پڑھیے

غالب کمرہء جماعت میں (سیریز۔1)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

یک قدم وحشت سے درس ِ دفتر ِ امکاں کھلا جادہ اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا طالبعلم -ایک یک قدم وحشت؟ فقط اک ہی قدم کیا ؟ اک قدم ہی سرحد ِ قائم مزاجی سے پرے؟ اک قدم←  مزید پڑھیے

ظلمت سے نور کا سفر(قسط3)۔۔۔محمد جمیل آصف ،سیدہ فاطمہ کی مشترکہ کاوش

(ایگزئیٹی، ڈیپرشن اور ڈیتھ فوبیاز کی آگاہی کے لیے لکھی گی مشترکہ تحریر) آساں نہیں ہے کشمکشِ  ذات کا سفر ہے آگہی ے بعد غمِ آگہی بہت آہ! ہسپتال کا منظر، اس پر جھکیں نرسیں، چیک کرتا ڈاکٹر ، ہاتھوں←  مزید پڑھیے

یہ ایلچی گری لفظوں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

یہ ایلچی گری لفظوں کی (ایک) یہ ایلچی گری مجھ سے نہیں ہوتی، مولا یہ ایلچی گری لفظوں کی جلتی مشعل سی میں کتنے برسوں سے اس کو اٹھائے پھرتا ہوں شروع ِ عمر سے اب تک بلند و بالا←  مزید پڑھیے

ڈاکٹر خالد سہیل کے “آدرش “۔۔۔دعا عظیمی کے تاثرات

؎ رات تاریک ہوئی جاتی ہے ایک مہتاب سلامت رکھنا راستے تنگ ہوئے جاتے ہیں دل میں اک باب سلامت رکھنا وہ تمہیں دار پہ لے جائیں گے آنکھ میں خواب سلامت رکھنا خالدسہیل! اس دنیا میں نہ شاعروں کی←  مزید پڑھیے

خوابوں سے بھرا کوڑا دان : دھندلا دی گئی شناختوں کے دور کی شاعری – عامر حسینی

ایک محمود درویش تھے، جب صہیونی سامراجیت ان کی شناخت کو مٹانے کے درپے تھی تو انہوں نے “سجل انی عربي۔۔۔۔” جیسی شہرہ آفاق نظم لکھ کر اپنی شناخت امر کردی تھی اور کیا مصرعے کہے تھے جن میں شناختی←  مزید پڑھیے

لاوارث۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

​(سمتھسونین انسٹیٹیوٹ واشنگٹن ڈی سی میں منعقد کی گئی قدیم ہندوستانی نوادر کی ایک نمائش دیکھنے کے بعد) چھ ہزار برسوں کی جاگتی ہوئی آنکھیں اس گپھا کے اندر تک میرا پیچھا کرتی ہیں مجھ سے پوچھتی ہیں کچھ اس←  مزید پڑھیے

​ فَا عتَبِرُوُ یا اولی اَلبصار۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کیسی بینائی، کہاں کی پیش بینی؟ جانتے بھی ہیں کہ دشمن کون ہے لیکن سبھی پنبہ دہن ہیں دائیں بائیں دیکھتے سب ہیں مگر یہ سوچنا اک چیستاں ہے کون مار آستیں ہے؟ کس نے پھن کاڑھا ہواہے؟ دور بیں←  مزید پڑھیے

پاپی:خط کہانیاں،جنت بی بی اورگناہ و ثواب/ڈاکٹر خالد سہیل ۔مرزا یاسین بیگ(خط13,14)

خط۔ نمبر 13 ڈئیررضوانہ ! مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ تمہارے اندر ایک مولانی ایک جنت بی بی چھپی بیٹھی ہے جو میری محبت کی کہانی پڑھ کر باہر آ جائے گی اور میری رومانوی زندگی کو مذہبی اور←  مزید پڑھیے

کفن کی جیب کہاں ہے؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

یہ تین دن بہت بھاری ہیں مجھ پہ جانتا ہوں مجھے یہ علم ہے، تم اپنے اختیارات کے تحت مری حیات کا اعمال نامہ پرکھو گے برائیوں کا، گناہوں کا جائزہ لو گے میں جانتا ہوں فرشتو کہ مجھ پہ←  مزید پڑھیے

آسماں کی چھت کہاں ہے؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آسماں کی چھت کہاں ہے؟ وَجَعَلُنَا اُلسََُمَاّئ سَقَّفَا مَحّفوظَا سورۃ النبیا (۳۲) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے گھر کے صحن میں یوں ششدرو حیراں کھڑا ہوں جیسے رستہ کھو گیا ہو دھیرے دھیرے پاؤں میرے صحن کے کیچڑ میں دھنستے جا رہے ہیں←  مزید پڑھیے

ہسٹیریا کی ہسٹری۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

وہ نیک لڑکی تھی ۔۔ صلح کُل، پاکباز، بے داغ، بھولی بھالی وہ اپنی معصوم نیک چلنی میں لپٹی،لپٹائی، باکرہ تھی غریب گھر کی کنواری کنیا نجانے کیسے ذرا سے اونچے، امیر گھرمیں بیاہی آئی تو اپنےشوہر کے لڑ لگی←  مزید پڑھیے

وبا کے دنوں میں بیٹی کا خط

اماں! فضا میں موت رقص کر رہی ہے، چہرے پہ مکروہ ہنسی سجائے، دانت نکوسے زندگی پر جھپٹنے کی کمینی خوشی موت کے بھیانک ہیولے میں چھپائے نہیں چھپتی۔ جان لیوا موسیقی کی آواز تیز ہوتی ہے، وہ گھومتی ہے←  مزید پڑھیے

کپاس کا کتا۔۔ربیعہ سلیم مرزا

چالیس سال کا خصم جب بیس بیس سال کی لڑکیوں کے ساتھ ٹی ٹونٹی کھیل رہا ہو تو کیا ضرورت ہے گھر کے آنگن میں چئیر لیڈر بننے کی ۔؟ اس نے تو سدھرنا نہیں ۔ شور مچانے سے بچوں←  مزید پڑھیے

سفر ِمحبت۔۔رؤف الحسن

محبت کی کتاب میں سبھی باب تیرے نام کے تھے محبت کے عہد میں سبھی خواب تیرے نام کے تھے ہر اک حرف تیری آہٹ کا ترجماں شاید مضمون گویا تیری زلف پریشاں شاید الفاظ تیرے خیالوں میں گرداں شاید←  مزید پڑھیے

نسل کا آخری نمائندہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

​PANDEMIC POEMS. یہ نطمیں پہلے انگریزی میں لکھی گئیں۔ نسل کا آخری نمائندہ وہ جو ہر روز اپنی کھڑکی سے جھانکتا ہے کہ دور سے کوئی راہرو آئے اور وہ اس کو گھر میں مدعو کرے، محبت سے بیٹھ کر←  مزید پڑھیے

کرم غائب ہو، حضور؟۔۔محمد علی

جانِ من، تمہاری دید کے بغیر بہار، خزاں میں ڈھل گئی تھی، اور تمہارے بوسے کے بِنا، نرم گرم موسم کی جگہ شدید سردی نے لے لی ہے۔ اور ہم، ہم کہ محرومِ تماشا، ہم سرد مِہری کے ستائے ہوئے،←  مزید پڑھیے

ٹورسٹ گائیڈ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

میں بھی ٹورسٹ گائیڈ ہوں میں آپ کو اے صاحبو یہ گنبد و مینار یہ اونچی فصیلیں لال قلعے سنگ مرمر کے جھروکے بیگموں کے حوض خاص و عام کے دیوان تخت و تاج کلغی جبہّ و دستار بڑھتے لشکر←  مزید پڑھیے