ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 125 )

وادی نمل۔۔ربیعہ سلیم مرزا

آبادی سے پرے وسیع میدان میں مٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹیلےتھے۔جن میں لاکھوں کی تعداد میں چیونٹیوں نےاپنےبل بنائےتھے۔ان میں ہزاروں چیونٹیوں کی نسلیں آباد تھیں، انکا تعلق ایک کروڑ سینتیس لاکھ سال قبل موجود بھڑ اجداد سے تھا۔ان کی←  مزید پڑھیے

عورت۔۔ہما

ایرانی شاعرہ شارخ حیدری کی نظم “میں ایک شادی شدہ عورت ہوں” سے متاثر ہوکر لکھی گئی میری ایک نظم میں ایک عورت ہوں یہ میری مَہَد ہے اس سے مجھے میرے والد اٹھارہے ہیں انہوں نے غم، خوشی، فکر←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

کثرت آرائی ء وحدت ہے پرستاری ِ وہم کر دیا کافر ان اصنام ِ خیالی نے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند یوں تو یہ شعر ہے توحید حقیقی کا نقیب پر، حضور، اس میں ہے اک نکتہ ذرا بے ترتیب←  مزید پڑھیے

پاپی:خط کہانیاں،آج کی سچائیاں/ڈاکٹر خالد سہیل ۔مرزا یاسین بیگ(خط1)

خط نمبر ۱ کیا آپ وہی رضوانہ صدیقی ہیں؟ محترمہ و معظمہ جنابہ رضوانہ صدیقی صاحبہ ! زندگی دلچسپ بھی ہے اور پراسرار بھی کیونکہ وہ ایک حیرت کدہ ہے۔ آج میں ایک معمہ‘ ایک بجھارت اور ایک پہیلی لے←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

شب خمار ِ شوق ِ ساقی رستخیز اندازہ تھا تا محیط ِ بادہ صورت خانہ ٗ خمیازہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند بندہ پرور، پرسش ِ احوال ہے، بے جا ، مگر اہم کیوں ہے رات کا احوال نامہ ،←  مزید پڑھیے

بھوک کی کوکھ سے……۔۔۔۔ٹیبی شاہدہ

وہ صرف چند ماہ کے لیے ہمارے آفس اپنے کسی پروجیکٹ کے سلسلے میں آئی تھی ۔ وہ آئی اور چلی گئی لیکن میرے دل سے اس کی یاد نہیں گئی ۔ وہ ہمیشہ سر سبز ہی رہی ، بہار←  مزید پڑھیے

طوافِ آرزو۔۔نعیم اشرف

حال ہی میں اُردو ادب کے اُفق پر نمو دار ہونے والے افسانوں کا مجموعہ ”طوافِ آرزُو“ پڑھنے کو ملا۔کتاب کا عنوان اور سرورق دیکھ کر یہ شاعری کی کتاب لگی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے←  مزید پڑھیے

پانچ برس اُدھار کے۔۔شرافت ناز

جمیل الدین عالی،اخبار جنگ میں کالم لکھا کرتے تھے “نقار خانے میں”۔ ایک دفعہ ابنِ انشاء کا ایک واقعہ لکھا جو میں آپ کی نذر کرتا ہوں۔ انشاء جی کے آخری ایام میں کینسر کے مرض کے سلسلے میں ان←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

جوہر ِ دست ِ دعا آئینہ یعنی تاثیر یک طرف نازش ِ مژگاں و دگر سو غم بار ۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند میں سمجھ پایا نہیں مصرع ء  اولیٰ کو، حضور مر زا غالب ہاں ، بتاؤ  تو ذرا، کیا←  مزید پڑھیے

فائزہ کی قسمت نہیں بدلے گی۔۔سعید چیمہ

دو بچوں کی ماں،لمبے قد،گول چہرے اور دودھیا رنگ والی اٹھارہ انیس برس کی فائزہ(فرضی نام) شاید اُن لوگوں میں شامل تھی جن کی قسمت پر سیاہ رات ایسا اندھیرا ہمیشہ غالب رہتا ہے۔اُس کی گالوں کے سرخی مائل رنگ←  مزید پڑھیے

سایہ۔۔عمر قدیر اعوان

میرا نام رفعت ہے یا شاید شکُنتلا۔ پہلے 12 سال تک تو رفعت ہی تھا پھر کچھ دن کے لیے شکنتلا ہو گیا۔ پھر یہ معمول بن گیا کچھ دن رفعت تو کچھ دن شکنتلا. میرے پاس الفاظ بھی تھے←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط29)۔۔۔سلمیٰ اعوان

میں یہ شادی ضرور ایٹنڈ کروں گی۔ اُس نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔ آرام کرسُی میں دھنسے رحمان نے اُسے مسکرا کر دیکھا اور کہا۔ اگر میں اجازت نہ دوں تو……… اُس نے نٹنگ مشین روک کر بڑی شوخی←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

مر گیا صدمہ ء  یک جنبش لب سے غالبؔ ناتوانی سے حر یف ِ دم ِ عیسیٰ نہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند ذہن میں میرے ہے بیتاب اک عجبک سا سوال ہو اجازت تو میں پوچھ ہی لوں ،←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط28)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ایک ڈر پوک دبّو اور سہمے سہمے چہرے والی بیوی کی خواہش کبھی کبھار اُس کے سینے میں اُس وقت مچلتی تھی جب طاہرہ زندہ تھی اور کلب میں برج کھیلتے۔پینے پلانے یا اپنی کسی گرل فرینڈکے ساتھ کسی ہوٹل←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے شعلہ ء عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد ۔۔۔ ستیہ پال آنند شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے شعلہء  عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد پہلے←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

نہ حشر و نشر کا قائل، نہ کیش و ملت کا خدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے ۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند خدا کے واسطے‘‘ خود میں ہی اک قسم ہے، حضور تو کیا یہ نقص ہے یا←  مزید پڑھیے

دائروں کا سفر۔۔رؤف الحسن

ہم سب کہانیاں ہیں۔ کائنات میں پھیلی ہوئی لاتعداد کہانیاں۔ ان کہانیوں کے خالق نے اس بات کا خصوصی اہتمام کیا کہ کوئی کہانی دوسری کہانی سے مماثلت نہ رکھے۔ اسی لیے ہر کہانی کا آغاز جدا ہے, کردار الگ←  مزید پڑھیے

ڈاکٹر خالد سہیل : عجب مرد آزاد ہے وہ…..دعا عظیمی

اس سے پہلے میری معلومات فقط بت شکن تک محدود تھیں، جیسے کہ محمد بن قاسم اور سومنات میں رکھے بتوں کو توڑنے اور فتح کرنے والے محمود غزنوی جیسے فاتحین تک ،جنہیں اسلامی تاریخ کی کتابوں میں بت شکن←  مزید پڑھیے

وما ارسلنک الا رحمت اللعالمین۔۔ستیہ پال آنند

کئی برس پہلے جب امریکہ  میں اہل اسلام کے خلاف نفرت زوروں پر تھی تو یہ واقعہ پیش آیا کہ میں مسجد کے باہر کھڑا ایک شاعر دوست سے گفتگو میں مصروف تھا۔ قریب سے کار پر جاتے ہوئے دو←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

شور ش ِ باطن کے ہیں احباب منکر، ورنہ یاں دل ِ محیط ِ گریہ و لب آشنائے خندہ ہے ۔۔۔ ستیہ پال آنند اہل ِ فارس کی طرح، اے بندہ پرور، آپ بھی کچھ عجب اغلاط کے وہم و←  مزید پڑھیے