ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 128 )

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے نگاہ دل سے ترے سرمہ سا نکلتی ہے —– ستیہ پال آنند نگاہ دل سے نکلتی ہے؟ “سرمہ سا” بھی ہے؟ نظر کا “سرمہ سا ” ہونا تو قول ِ صالح ہے نظر کا←  مزید پڑھیے

غزل۔۔ڈاکٹر صابرہ شاہین

تیرا جب ذکر ، تیری بات ہوگی تو رنگ و نورکی،برسات ہوگی یہی گر تلخیِ حالات ، ہو گی تو پھر کیا خاک ،ان سےبات ہوگی غضب کی پیاس ، ہونٹوں پر جمی ہے ترے آنگن میں تو ، برسات←  مزید پڑھیے

یہ نچلا حصّہ مرے بدن کا(ایک منظوم مکالمہ)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ترے لڑکپن کا شہد اے میرے سر میں بیٹھے ہوئے تشخّص جو قطرہ قطرہ ہی بنتا رہتا تھا میرے خلیوں کی پوٹلی میں نمود ِ عہد شباب کی صبح کا ستارہ وہ رزق سورج کا اب کہاں ہے؟ مجھے تو←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

ہے وہی بد مستی ٔ ہر ذرّہ کا خود عذر خواہ جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند عذر خواہی ۔۔۔ حیلہ جوئی۔۔۔ ادعا ۔۔۔ کچھ لیپا پوتی عذر ۔۔۔ ، عذر ِ لنگ←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

بہ طوفاں گاہ ِ جوش ِ اضطراب ِ شام ِ تنہائی شعاع ِ آفتاب ِ صبح ِ محشر تار ِ بستر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند اگر بد گو نہ سمجھیں، محترم، مجھ کو، تو یہ پوچھوں کہ تنہائی ہے،←  مزید پڑھیے

مارخورکی عید۔۔عدنان چوہدری

مارخور(isi کا ایجنٹ) کی عید صبح عید ہے میں گاؤں کے باہر ٹیلے پر کھڑا غروب ہوتے سورج کی لالی دیکھ رہا ہوں مہاجر پرندے بیلے کو اپنا مسکن بنا چکے ہیں گزشتہ سات دنوں سے “شامی” کی نامکمل نظم←  مزید پڑھیے

فرید الدین عطار سے خوشہ چینی(نور کیا ہے)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

نور کیا ہے۔۔ بھاپ سی اٹھتی ہے میرے ذہن کے تحت الثرا سے دھند کا محلول بادل الکحل کی نشہ آور گرم چادر سا مجھے چاروں طرف سے ڈھانپ کر للکارتا ہے گہری نا بینائی کے عالم میں آنکھوں کے←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط23)۔۔۔سلمیٰ اعوان

یہ شب وروز افسانوی سے،رُومانوی سے اور گلیمرس سے بھرے پُرے تھے۔ صبح جب وہ تیار ہوکر خود کو قد آدم آئینے میں دیکھتی تو وقتی طور پر سب کچھ بھول جاتی۔لباس کی خوبصورتی پر نظریں نہ ٹھہرتیں۔جوہرات کی چمک←  مزید پڑھیے

قاری اساس تنقید کے ضمن میں Virtual Textual analysis کی تکنیک پر ایک وضاحتی نو ٹ(حصّہ اوّل)۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(۱)اگر یہ کہا جائے کہ قاری اساس تنقید کی ایک جہت، یعنی ہئیتی جزو کی چھان بین کی بنیاد تو بیسویں صدی کے شروع میں ہی پڑ گئی تھی تو غلط نہ ہوگا۔ یعنی جب یہ کہا گیا کہ معنی←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

ایک اہم شعر جس کی اہمیت پر کسی بھی شار ح نے غور نہیں کیا۔ یہ خیا ل کہ غالب کو دیگر مذاہب میں دلچسپی نہیں تھی یا اس کو ہندوستان کے بین المذہبی ماضی کا علم نہیں تھا، غلط←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط22)۔۔۔سلمیٰ اعوان

وہ سرُخ عرُوسی لباس پہنے بیٹھی تھی۔ قیمتی طلائی زیورات بھی اُس کے بدن کی زینت بنے ہوئے تھے۔ خوبصورت ہیروں کا بریسلٹ کلائی کا حُسن بڑھا رہا تھا۔ نفاست اور عمدگی سے کئے گئے میک اَپ نے چہرے کو←  مزید پڑھیے

کتبوں کے درمیان : تعارف و تبصرہ۔۔شمائلہ حسین

ڈاکٹر حمیرا اشفاق آج کل اسلامیہ انٹر نیشنل یونیورسٹی ، اسلام آباد کے شعبہ اردو کی سربراہ کے طور پر فرائض ادا کر رہی ہیں ۔ میں انہیں تب سے جانتی ہوں جب ہائی سکول کی کلاس ششم میں میرا←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجان ِ گلشن کو ۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند جو اک تصویر سی بنتی ہے، قبلہ، وہ فقط یہ ہے ۱) کہ مجبوری کا←  مزید پڑھیے

آمنہ مفتی کا ناول “پانی مر رہا ہے” : اردو ناول مر رہا ہے ۔۔فیصل اقبال اعوان

موسمی نقادوں اور مبصروں نے عظیم، اہم، رجحان ساز، شاندار اور عمدہ ناول جیسی اصطلاحات کو ان کے بے موقع و بے محل کثرتِ استعمال سے بے وقعت اور حقیر کر دیا ہے۔ قارئین ان صاحبان کے جھوٹے تبصروں اور←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

آمد ِ سیلاب ِ طوفان ِ ِ صدائے آب ہے نقش ِ ِ پا جو کان میں رکھتا ہےانگلی جادہ ہے ستیہ پال آنند بندہ پرور، یہ کرم فرمائیں اس ناچیز پر عندیہ اس شعر کاکیا ہے ، کوئی لب←  مزید پڑھیے

جنّت سے رہائی ۔۔حبیب شیخ

نور نے اپنی ماں کو ایک خط لکھا پھر اسے پھاڑ دیا۔ اگلی رات اپنی ماں کو دوسرا خط لکھا پھر اسے بھی پھاڑ دیا۔ نور نے تیسری رات اپنی ماں کو پھر ایک خط لکھا اور اسے بھی  پرزے←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

دل و جگر میں پُر افشاں جو ایک موجہ ء  خوں ہے ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے ستیہ پال آنند حضور، اس شعر کی تصویر یہ بنتی ہے ذہنوں میں کہ متموج ہے اک←  مزید پڑھیے

یہ بغاوتوں کی رونمائی ہے۔۔رابعہ الرّباء

ہوا میں خوشبو کس سفرکی ہے ہوامیں خوشبو کس سفر کی ہے ہواکا ڈھنگ بدلابدلا سا ہے ہوا کے سنگ حالات کے رقص قہقہے لگاتے ہیں جب پیڑوں کی زنجیریں در و دیوار سےہمکلام ہوتی ہیں درو دیوار اونچے محلوں←  مزید پڑھیے

انسان کی فریاد۔۔روبینہ فیصل

یہ جو بوجھ مجھ سے اٹھوائے جاتے ہیں کیا یہ سب میرے ہیں؟ کیایہ سب انسانوں کی کہانیاں جو عبرت کا نشان تھیں میری ہیں؟ یا وہ سب اصلاحی کہانیاں، وہ میری تھیں؟ وہ سب قصے میرے حوالے کیوں کیے←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

تغافل دوست ہوں میرا دماغ ِ عجز عالی ہے اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے ستیہ پال آنند حضور، اب کیا کہوں میں آپ کے اس ’’عجز‘‘ کے حق میں کہ ’’فارس‘‘ کی زباں میں آپ←  مزید پڑھیے