خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے نگاہ دل سے ترے سرمہ سا نکلتی ہے —– ستیہ پال آنند نگاہ دل سے نکلتی ہے؟ “سرمہ سا” بھی ہے؟ نظر کا “سرمہ سا ” ہونا تو قول ِ صالح ہے نظر کا← مزید پڑھیے
تیرا جب ذکر ، تیری بات ہوگی تو رنگ و نورکی،برسات ہوگی یہی گر تلخیِ حالات ، ہو گی تو پھر کیا خاک ،ان سےبات ہوگی غضب کی پیاس ، ہونٹوں پر جمی ہے ترے آنگن میں تو ، برسات← مزید پڑھیے
ترے لڑکپن کا شہد اے میرے سر میں بیٹھے ہوئے تشخّص جو قطرہ قطرہ ہی بنتا رہتا تھا میرے خلیوں کی پوٹلی میں نمود ِ عہد شباب کی صبح کا ستارہ وہ رزق سورج کا اب کہاں ہے؟ مجھے تو← مزید پڑھیے
ہے وہی بد مستی ٔ ہر ذرّہ کا خود عذر خواہ جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند عذر خواہی ۔۔۔ حیلہ جوئی۔۔۔ ادعا ۔۔۔ کچھ لیپا پوتی عذر ۔۔۔ ، عذر ِ لنگ← مزید پڑھیے
مارخور(isi کا ایجنٹ) کی عید صبح عید ہے میں گاؤں کے باہر ٹیلے پر کھڑا غروب ہوتے سورج کی لالی دیکھ رہا ہوں مہاجر پرندے بیلے کو اپنا مسکن بنا چکے ہیں گزشتہ سات دنوں سے “شامی” کی نامکمل نظم← مزید پڑھیے
نور کیا ہے۔۔ بھاپ سی اٹھتی ہے میرے ذہن کے تحت الثرا سے دھند کا محلول بادل الکحل کی نشہ آور گرم چادر سا مجھے چاروں طرف سے ڈھانپ کر للکارتا ہے گہری نا بینائی کے عالم میں آنکھوں کے← مزید پڑھیے
یہ شب وروز افسانوی سے،رُومانوی سے اور گلیمرس سے بھرے پُرے تھے۔ صبح جب وہ تیار ہوکر خود کو قد آدم آئینے میں دیکھتی تو وقتی طور پر سب کچھ بھول جاتی۔لباس کی خوبصورتی پر نظریں نہ ٹھہرتیں۔جوہرات کی چمک← مزید پڑھیے
(۱)اگر یہ کہا جائے کہ قاری اساس تنقید کی ایک جہت، یعنی ہئیتی جزو کی چھان بین کی بنیاد تو بیسویں صدی کے شروع میں ہی پڑ گئی تھی تو غلط نہ ہوگا۔ یعنی جب یہ کہا گیا کہ معنی← مزید پڑھیے
ایک اہم شعر جس کی اہمیت پر کسی بھی شار ح نے غور نہیں کیا۔ یہ خیا ل کہ غالب کو دیگر مذاہب میں دلچسپی نہیں تھی یا اس کو ہندوستان کے بین المذہبی ماضی کا علم نہیں تھا، غلط← مزید پڑھیے
وہ سرُخ عرُوسی لباس پہنے بیٹھی تھی۔ قیمتی طلائی زیورات بھی اُس کے بدن کی زینت بنے ہوئے تھے۔ خوبصورت ہیروں کا بریسلٹ کلائی کا حُسن بڑھا رہا تھا۔ نفاست اور عمدگی سے کئے گئے میک اَپ نے چہرے کو← مزید پڑھیے
ڈاکٹر حمیرا اشفاق آج کل اسلامیہ انٹر نیشنل یونیورسٹی ، اسلام آباد کے شعبہ اردو کی سربراہ کے طور پر فرائض ادا کر رہی ہیں ۔ میں انہیں تب سے جانتی ہوں جب ہائی سکول کی کلاس ششم میں میرا← مزید پڑھیے
قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجان ِ گلشن کو ۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند جو اک تصویر سی بنتی ہے، قبلہ، وہ فقط یہ ہے ۱) کہ مجبوری کا← مزید پڑھیے
موسمی نقادوں اور مبصروں نے عظیم، اہم، رجحان ساز، شاندار اور عمدہ ناول جیسی اصطلاحات کو ان کے بے موقع و بے محل کثرتِ استعمال سے بے وقعت اور حقیر کر دیا ہے۔ قارئین ان صاحبان کے جھوٹے تبصروں اور← مزید پڑھیے
آمد ِ سیلاب ِ طوفان ِ ِ صدائے آب ہے نقش ِ ِ پا جو کان میں رکھتا ہےانگلی جادہ ہے ستیہ پال آنند بندہ پرور، یہ کرم فرمائیں اس ناچیز پر عندیہ اس شعر کاکیا ہے ، کوئی لب← مزید پڑھیے
نور نے اپنی ماں کو ایک خط لکھا پھر اسے پھاڑ دیا۔ اگلی رات اپنی ماں کو دوسرا خط لکھا پھر اسے بھی پھاڑ دیا۔ نور نے تیسری رات اپنی ماں کو پھر ایک خط لکھا اور اسے بھی پرزے← مزید پڑھیے
دل و جگر میں پُر افشاں جو ایک موجہ ء خوں ہے ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے ستیہ پال آنند حضور، اس شعر کی تصویر یہ بنتی ہے ذہنوں میں کہ متموج ہے اک← مزید پڑھیے
ہوا میں خوشبو کس سفرکی ہے ہوامیں خوشبو کس سفر کی ہے ہواکا ڈھنگ بدلابدلا سا ہے ہوا کے سنگ حالات کے رقص قہقہے لگاتے ہیں جب پیڑوں کی زنجیریں در و دیوار سےہمکلام ہوتی ہیں درو دیوار اونچے محلوں← مزید پڑھیے
یہ جو بوجھ مجھ سے اٹھوائے جاتے ہیں کیا یہ سب میرے ہیں؟ کیایہ سب انسانوں کی کہانیاں جو عبرت کا نشان تھیں میری ہیں؟ یا وہ سب اصلاحی کہانیاں، وہ میری تھیں؟ وہ سب قصے میرے حوالے کیوں کیے← مزید پڑھیے
تغافل دوست ہوں میرا دماغ ِ عجز عالی ہے اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے ستیہ پال آنند حضور، اب کیا کہوں میں آپ کے اس ’’عجز‘‘ کے حق میں کہ ’’فارس‘‘ کی زباں میں آپ← مزید پڑھیے