ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 129 )

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

آمد ِ خط سے ہو ا ہے سر د جو بازار ِ دوست دود ِ شمع کشتہ تھا شاید خط ِ رخسار ِ دوست ستیہ پال آنند بندہ پرور، آپ سے پوچھوں ، بصد عجز و نیاز کیا نہیں اس←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط21)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ماں کوئی گھنٹہ بھر سے وقفے وقفے سے اُسے آوازیں دئیے جا رہی تھی۔ ”اُٹھ نا پُتر۔ تیرے انتظار میں کب سے بیٹھی ہوں تو ناشتہ کرے تو کسی اور کام میں لگوں۔ ابھی مجھے ہانڈی لینے بازار بھی جانا←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

کف ِ سیلاب باقی ہے برنگ ِپنبہ روزن میں ٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌ ستیہ پال آنند یقیناً کچھ سبب تو ہے ،حضور اس گریہ زاری کا کہ یہ مضمون، یعنی خانہ ویرانی پہ جزع فزع کئی اشعار میں ملتی ہے گویا اک حقیقت←  مزید پڑھیے

محبت اب نہیں ہوگی۔۔ربیعہ سلیم مرزا

ہاتھوں کی کٹوری بہتے پانی کے نیچے رکھی تو قسمت والی زندگی کی سبھی لکیریں مٹیالی لگنے لگیں ۔ ایسے لگا جیسے پانی چہرہ چھوئے بناپلٹ گیا ہو ۔ بس آنکھیں  ہی تو بھیگی ہیں ۔۔ ہسپتال سے چارسال بعد←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

فنا تعلیمِ درسِ ِ بےخودی ہوں اس زمانے سے کہ مجنوں لام الِف لکھتا تھا دیوار ِ دبستاں پر ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند ’’فنا تعلیم ، درس ِ بے خودی‘‘ کو غور سے دیکھیں توسمجھیں گے کہ یہ پہلی←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط20)۔۔۔سلمیٰ اعوان

دوپہر اِس قدر ہنگامہ خیز ہوگی۔ اُس کے گمان میں بھی ایسا ہونے کا کوئی امکان دُور دُور تک نہ تھا۔ اُس کا طوفانی انداز اُسے اندر باہر سے ہلاکر رکھ دے گا۔ یہ تو اُس کے تصّورمیں بھی نہ←  مزید پڑھیے

تمہیں خدا پر بھروسہ نہیں۔۔حبیب شیخ

نیلے شلوار قمیض میں ملبوس درمیانے قد اور موٹے خد و خال کا حامل امجد کافی عرصے سے موقع کی تلاش میں عتیق صدیقی کی طرف دیکھ رہا تھا لیکن وہ اخبار پڑھنے میں گم  تھا۔ ’کیا بات ہے امجد؟ ←  مزید پڑھیے

زاہدہ حنا!رقصِ بسمل کے آئینے میں۔۔دیپک بُدکی

”عورت ہونا، کہانیاں لکھنا، اختلاف کرنا , یہ ہمارے معاشرے کی تین خرابیاں ہیں۔ اور میں ان کا مجموعہ ہوں۔“ (زاہدہ حنا) افسانہ نگار، ناول نگار، مضمون نگار اور کالم نگار زاہدہ حنا کی نگارشات عصری حسیت کی آئینہ دار←  مزید پڑھیے

کتابیں، کتابوں کے اُوپرکتابیں۔۔ادریس آزاد

کسی خشک لکڑی کےکیڑے نےکرمِ کتابی سے پوچھا تمہاری نظر میں یہ سارے شجر کتنے عرصے میں سوُکھیں گے؟ کتنی بہاریں ابھی میرے رستے کو روکھے کھڑی ہیں؟ وہ رستے جہاں سے جہنم کا ساقی مجھے آملے گا؟ وہ کرمِ←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

عرض نازِ شوخی ِِدنداں برائے خندہ ہے دعوی ٗ جمعیت ِ احباب جائے خندہ ہے ستیہ پال آ نند یہ اضافت کی توالی؟ اور مطلع میں؟ حضور گویا اس خامی کی غایت پیشگی مطلوب ہو کیا کہیں گے،بندہ پر ور،←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

نہ جانوں کیوں کہ مٹے داغ طعن ِ بد عہدی تجھے کہ آئینہ بھی ورطہ ٗ ملامت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند حضور، مجھ کو تو جو کچھ سمجھ میں آیا ہے اگر کہیں تو میں منجملہ اس کو پیش←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط19)۔۔۔سلمیٰ اعوان

چاندنی فسوں خیز تھی اور ماحول سحر زدہ۔دھان منڈی کے غربی حصّے میں واقع شاندار گھر کی بیرونی منڈیر پر وہ چُپ چاپ بیٹھی تھی۔اُس کے پاس ہی وہ بھی بیٹھا ہو ابائیں ٹانگ کو ہولے ہولے ہلا رہا تھا۔اُس←  مزید پڑھیے

آئینہ در آئینہ ۔۔ ایک اقتباس(تخلیقی گریہ)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کیا واقعی تخلیقی عمل درد ِ زہ کی طرح تکلیف دہ ہے؟ سوال : تخلیقی گریہ میں آنکھوں کی خوبصورتی کا بند وبست کیسے کرتے ہیں ؟ آپ کثیر گریہ گزار( بطور شاعر) ہیں ، رونا عادت تو نہیں بن←  مزید پڑھیے

شہیدِ ملت۔۔عظمت شہزاد عزمیؔ

پہاڑی لوگ سخت جان ہوا کرتے ہیں، وہ اکثر مسکراتے ہوئے کہا کرتا تھا۔اسلام آباد کی یخ بستہ سرد راتوں میں وہ ہاسٹل میں چائے بناتے ہوئے جب کوئی پہاڑی گیت گنگناتا تھا تو لحافوں میں دبکے ہوئے لڑکے اس←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط18)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اب یہ کہیں ممکن تھا کہ جادُو اور وہ بھی عشق کا بھلا سر چڑھ کر نہ بولے گا تو پھر کیا قدموں میں آہ وزاریاں کرتا پھرے گا۔ وہ اِس میدان کی کوئی تجربہ کار کھلاڑی تو تھی نہیں←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آ ٓرائیاں لیکن اب نقش و نگار ِ طاق ِ نسیاں ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آ نند یاد ، یعنی حافظہ، رفت و گذشت و بے خودی یہ سبھی کچھ تھا←  مزید پڑھیے

ستیہ پال آنند ۔۔مداوا

لڑکی تھی چھ سات برس کی دُبلی ، پتلی، َادھ مریل سی پھٹا پرانا کرتا پہنے، اک میلی سی چادر اوڑھے سوکھے بالوں پچکے گالوں بہتی ناک سے سوں سوں کرتی سڑک کے موڑ پہ دو کھمبوں کے بیچ میں←  مزید پڑھیے

نظم : حسیں مطربہ۔۔۔صدیق انجم

پوچھتے ہو کیا یارو ! مُغَنّیہ کے بارے میں اُس حسیں پری زادی مطربہ کے بارے میں وہ پری تو جیسے اک ساز کا سراپا ہے نغمۂ مجسم ہے، رشک ہائے مینا ہے،   وہ سراسوتی دیوی راگ جب لگاتی←  مزید پڑھیے

آغا جی” سید امجد حسین”(حصّہ اوّل)۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ان گنت خوبیوں کے مالک، لا تعداد گُنوں کی گُتھلی، بے مثال انسان اور بندہ پرور دوست، ڈاکٹر سید امجد حسین شاعر نہیں ہیں، افسانہ نگار نہیں ہیں، انشائیے نہیں لکھتے، لیکن جو کچھ بھی وہ لکھتے ہیں ان میں←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

​رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلـف سے تکلف بر طرف، تھا ایک انداز ِ جنوں وہ بھی ———— ستیہ پال آنند بناوٹ پر تھی مبنی آپ کی آزردگی ، غالبؔ؟ جنوں کیا اس بناوٹ کی تھی واضح آشکارائی؟←  مزید پڑھیے