وینٹی لیٹر پر مشکل سے سانسوں کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے شخص کی آنکھیں آہستہ سے کھلیں مگر کمزوری کا ایسا حملہ ہوا کہ اس نے زبردستی زور سے آنکھیں بھینچ لیں۔ اکھڑتی سانسوں کے ساتھ سب سے آسان حل← مزید پڑھیے
آذر بائیجان کاکیشیاممالک میں سے ایک ہے جو یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع ہے ۔ کاکیشیا کے باقی ممالک میں آرمینیا، جیورجیا، اور یوکرین شامل ہیں۔ کاکیشیا در اصل ایشیا اور یورپ کے درمیان پہاڑی سلسلے کا نام← مزید پڑھیے
پائیدار یاری اور دوستی تو طالب علمی کے زمانے کی ہوتی ہے، نہ کوئی غرض نہ مفاد بس ہم آہنگی، یکجا رہنے کی خواہش۔ ہم طالب علمی کا دور گزارنے کے بعد لاہور سے پنڈی آ گئے ۔ ہارلے سٹریٹ← مزید پڑھیے
۱۹۵۶ کے لگ بھگ میں بھی کچھ برسوں کے لیے جدیدیت کے ریلے میں بہہ گیا تھا ، میں نے بھی ایک نظم لکھی تھی ۔ میں نے جب اسے کناٹ پلاس میں کافی ہاؤس میں پڑھا، تو سریندر پرکاش← مزید پڑھیے
ماں جی کہا کرتی تھیں قیامت کے روز سُورج سوا نیز ے پر آ جائے گا۔ پر مجھے تو یہ آج ہی سوا نیز ے پر آیا ہوا لگتا ہے۔ جُون کی چلچلاتی دوپہر میں جب زمین بھٹی میں دانوں← مزید پڑھیے
سیاست کو گھر سے باہر رہنا چاہیے ،مگرعموماً سیاست گھروں کے اندر بھی ہوتی رہتی ہے ۔عوامی سیاست سے صرف عوام کی جان جاتی ہے مگر خانگی سیاست ، دل اور جان دونوں کی بَلی لیتی ہے ۔گھر پہ زیاده← مزید پڑھیے
عورت کی کوکھ سے نکلے حوروں کے پستان ناپتے مولوی بدکردار حاکموں کو نیکی کی سند بانٹتے مولوی ہمارے لباس سے ہمارے کردار جانچتے مولوی درباری مولوی، پیشہ ور مولوی جن کی زبان ہلتی نہیں بھوک سے بلکتےانسان دیکھ کر← مزید پڑھیے
ستیہ پال صاحب کی خودنوشت ’’کتھا چار جنموں کی‘‘ پڑھنے کے بعد میں نے اس پر ایک مضمون لکھنا شروع کیا تھامگر وہ اتفاق سے مکمل نہیں ہوسکا۔ ستیہ پال صاحب کی ۸۹ ویں سالگرہ پہ مبارکباد کے ساتھ کچھ← مزید پڑھیے
گنہگاروں کی بستی میں شام اتر آئی تھی۔بے داغ اور گناہوں سے پاک شام،جو ہر روز اس بستی پر اپنے پَر پھیلاتی اور اپنا ذرّہ ذرّہ گناہوں میں بھر کر ندامت سے سر جھکائے وہاں چلی جاتی، جہاں بہت سی← مزید پڑھیے
کسی نے پیر پر ٹھڈا مارا اور کہا، ” اٹھ عثمان اٹھ، باقی لوگ پہنچ رہے ہیں، اٹھ ابھی اگلا سفر پڑا ہے، اور دیکھ سڑک کے ایک طرف ہو کر لیٹا کر، کسی گاڑی کے نیچے آکر مارا جائے← مزید پڑھیے
دھوپ سے جھلسی ہوئی ویراں گلی میں وقت اپنی سانس رو کے چپ کھڑا ہے انتظار آنکھوں میں کنکر بھر گیا ہے بس ابھی نٹ کھٹ ادھر سے کھلکھلاتا آئے گا اور اس کی پشت پر چابک لگائے گا کہانی← مزید پڑھیے
اباسین آرٹس کونسل پشاور کی چھوٹی سی لائبریری میں ایک بڑی ادبی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھاجسے تقریب بہر ملاقات کہنا زیادہ مناسب ہو گا،کیونکہ یہ تقریب امریکہ میں مقیم اردو،پنجابی ،ہندی اور انگریزی زبان کے ممتاز شاعر، افسانہ← مزید پڑھیے
سمندر نے کروٹ بدل کر کہا: کن گمانوں کی لہروں پہ چلتے،مچلتے ہوئے جارہے تھے یہاں میرے قدموں میں گرنے سے پہلے! نمک چکھ لیا تم نے میرے بدن کا تو کہنے لگے ہو: ’’نہیں ، میں نے ایسا تو← مزید پڑھیے
میرا خیال تھا کہ شادی ایک مکمل ذمہ داری اور سنجیدہ لوگوں کا کام ہے ۔لہذا 32سال کی عمر تک میں سنجیدگی سے اس ذمہ داری سے بھاگتا رہا ۔ میری ماں، بہت ذہین نہیں تھی مگر میری نفسیات سمجھتی← مزید پڑھیے
اسلام نے چار شادیوں کی اجازت دےکر مسلمان مردوں کو بڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ ایک طرف چار بیویوں کا لالچ جس کے آسرے میں کئی عورتوں کی محبت بھری نظریں ہر وقت دل پر تیر چلاتی رہتی ہیں← مزید پڑھیے
سمندر مجھ سے ملنے کو بے قرار ہے مگر ساحل کنارے بچھی ریت میرے استقبال کو تیار نہ تھی۔ پاؤں رکھے ہی تھے کہ دھنسنے لگے۔ “ریت پہ چلنا اتنا مشکل کیوں ہے؟ ” بہت دِقت سے میں نے اگلا← مزید پڑھیے
چوبیس اپریل کو مجھے 89 برس کا ہو جانا ہے۔ کتنے دن ، مہینے، سال آج کے بعد زندہ رہوں گا، اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن اس دن کے لیے میں گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے ایک بچے کی طرح← مزید پڑھیے
آج کل کالم لکھنے کا مرض انتہائی عام ہوتا جارہا ہے ۔ خادم رضوی جو زبان اپنی تقریروں میں استعمال کرتے ہیں اس سے ملتے جلتے جملے اب کالم نگاروں کی شفقت کا حصہ بننے لگے ہیں ۔ کالم کو← مزید پڑھیے
”میں کیاچاہتا ہوں۔“ اُس وقت جب منگولیا کے پُھولوں کی خُوشبو فضا میں تیرتی پھر رہی تھی۔ کیلے کے درختوں کی شاخیں ہواؤں کے بوجھ سے یوں جُھکی پڑتی تھیں جیسے ابھی ٹوٹ کر زمین پر گر جائیں گی۔ دکنی← مزید پڑھیے
بہار اب کے برس جب آنکھ کھولے گی مِلیں گی اُس کو اپنے گرد فصلیں زرد موسم کی وہ دیکھے گی کہ مجذوبی میں اُس پر کیسی شامِ غم اُترتی ہے جو فرقت کی قیامت ایک عالم پر گزرتی ہے← مزید پڑھیے