’’خواب لے لو، مسکراہٹ لے لو، خوشیاں لے لو ‘‘ سورج کو گرہن لگ چکا تھا اور وہ اندھیرے میں سدا لگاتے چلا جا رہا تھا۔ تبھی اُسے ایک گاہک اپنی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا تو اُس کے دل← مزید پڑھیے
ذرا جھانک کر واپس چلے آئے قدم بھی غار کے اندر نہیں رکھا گھڑی بھر تو غور کرتے شتابی کیا تھی،ایسی منہ کی کھانے کی یہی نادانیاں آخر ہزیمت سے ملاتی ہیں اُدھر لات و منات و عزیٰ پل پل← مزید پڑھیے
یہ نشان ہیں محبتوں کے یہ نشان ہیں عظمتوں کے یہ نشان ہیں رفعتوں کے۔۔۔یہ نشان ہیں چاہتوں کے یہ نشان ہیں امانتوں کے۔۔یہ نشان ہیں دیانتوں کے یہ نشان ہیں عترتوں کے یہ نشان ہیں طہارتوں کے یہ نشان← مزید پڑھیے
شکیلہ رفیق ایک طویل عرصے سے اردو افسانہ نگاری کی شاہراہ پر چل رہی تھیں پھر نجانےان کے جی میں کیا آئی کہ وہ افسانوں کی شاہراہ چھوڑ کر شاعری کی پگڈنڈی پر چل پڑیں۔ انہوں نے کچھ غزلیں لکھیں← مزید پڑھیے
ہندوستان کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو میکلین میکنزی بحری جہاز میں بٹھا دیا گیا۔ پینتیس مرد اور خواتین بھی تاجدار ہند کے ساتھ تھے۔یہ جہاز ۱۷ اکتوبر ۱۸۵۸ کورنگون پہنچا۔ کیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا انچارج تھا۔ وہ← مزید پڑھیے
تمھیں پتا ہے تمھارے ہونٹوں پہ پھیلتی یہ خوشی کی خوشبو بہار کے سب گلوں کے غنچوں میں معتبر ہے تمھیں خبر ہے ؟ تمھارے گالوں پہ پڑتا چھوٹا سا ایک نکتہ ہمارے دل کو نگل گیا ہے تمام منظر← مزید پڑھیے
چُھٹکی کے لائٹ براؤن بال میرے چہرے پر بکھرے پڑے تھے۔میں اُس کے بالوں کی خوشبو اپنے اندر اُتارنے لگا۔مُجھ پر ایک عجیب سی مدھوشی طاری ہونے لگی۔چُھٹکی مُجھ سے لپٹ کر سورہی تھی۔اُس کی ایک ٹانگ میرے رانوں پر← مزید پڑھیے
1951میں جب میں پہلی باران سے ملا تومیری عمر پچیس برس تھی اور میں جانتا تھا کہ وہ مجھ سے سترہ برس بڑی ہیں اور ان کی عمر بیالیس کے لگ بھگ ہے۔ لیکن ان کے چہرے مہرے سے ان← مزید پڑھیے
سنا ہے کہ اِک خالی آنکھوں سے ‘نہ دکھنے والا کریہہ بے حقیقت سا جرثومہ ہی کر و فر سے زمانوں ‘جہانوں کی سب وسعتوں میں ہی ٹانگیں پسارے یونہی نسلِ آدم کی شہ رگ پہ بیٹھا عجب طنطنے سے’← مزید پڑھیے
مجھ پہ بہتان لگاؤ گے، چلے جاؤگے تم بھی طوفان اٹھاؤ گے، چلے جاؤگے تم جو آئے ہو تو آؤ گے ، چلے جاؤگے درد اس دل کا بڑھاؤ گے، چلے جاؤگے تم کو جانا ہی ضروری ہے کہاں سوچا← مزید پڑھیے
اس ناول کا پس منظر متحدہ پاکستان کی سر زمین ہے جو کبھی اپنی تھی۔اس میں سابق مشرقی پاکستان کی جھلکیاں یقیناً آ پ کو محظوظ کریں گی۔ یہ نچلے متوسط طبقے کی لڑکیوں کی نا آسودہ خواہشیں، حسرتیں، خوابوں← مزید پڑھیے
ویسے تو مومنین ہونے کے اعتبار سے ہمارے لیے پیغام ہے کہ ہمیں مسافروں کی طرح زندگی بسر کرنی چاہیے۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد میں مومن مسافروں کی کمی ہی نے دراصل اس ‘حیات الدنیا’ کو مسائلستان بنا دیا← مزید پڑھیے
میری ستیہ پال آنند جی سے اس وقت ملاقات ہوئی، جب وہ کتھا چار جنموں کی لکھ چکے تھے اور یہ کتاب اشاعت کے مرحلے میں تھی۔ اس حساب سے میں ان سے ان کے پانچویں جنم میں ملی اور← مزید پڑھیے
”میرے بابا نے مُجھے بتایاکہ مَیں کیا ہوں، کتنی حسِین ہوں، کِتنی دِل کَش ہوں۔ اُس نے میری تربیت کی ہے۔“ اُس کی ماں کو اُس کے باپ نے، اُس کی کم سِنی میں چھوڑ دیا تھا۔ ماں کی دوسری← مزید پڑھیے
شیکسپیئر شادی شدہ تھا۔ اس کی بیوی کا نام این ھیتھوے Anne Hathway تھا اور سولہویں صدی کی آخری دہائی اور سترھویں صدی کی پہلی دہائی کے بیس برسوں میں تحریر کیے گئے اور گلوب تھیئٹر میں اسٹیج کئے گئے← مزید پڑھیے
مجھ کو تنہائی میں ملو ایسے اپنی خوشبو سے مشکبار کرو ہاں مجھے آسمان چھونا ہے بادلوں پہ مجھے سوار کرو اپنی آغوش میں چھپالو تم میری دھڑکن کو بیقرار کرو شب ڈھلے آج یوں ملو مجھ سے بے خودی← مزید پڑھیے
پروفیسرمیاں انعام الرحمن صاحب کی کتاب ” سفر جمال ” مطالعہ میں رہی ۔ سیرت النبی ﷺ میں سے واقعہ ہجرت کی مختلف پرتوں کو انہوں نے ایسے انداز میں کھولا ہے جن پر اس اندازمیں بہت کم روشنی ڈالی← مزید پڑھیے
اردو غزل میں ‘سیاست اور غزل کے مابین اشارے کی صفتِ مشترک (۱۴) مزاحمتی بیانیے کے اظہار میں بہت ممدو ثابت ہوئی ہے ۔ لہذا نو آبادیاتی دور میں عتاب شاہی سے بچتے ہوئے شعرا نے بالخصوص غزلیہ کرداروں کی← مزید پڑھیے
برستی بارش میں ٹین کی چھت پہ گرتی بوندیں کچھ فاصلے پر سلگتی آنکھیں ۔۔۔ اک آوارہ بوند سر سے گزرتی ہے کمر کو چیر تی ۔۔ بدن کے صحرا میں گم ۔۔۔ بدن کو چھپانے کی کشمکش نظر کو← مزید پڑھیے
(کلیدی لفظیات اوراصطلاحات۔ سامراج،پس نو آبادیات، ثقافتی تسلط، ثقافتی سامراج، عالمگیریت اور اردو ادب) اب نو آبادیات، پس نوآبادیات، رد نوآبادت، نئی نو آبادیات کے بعد اپنی نئی فکری مباحث کے نئے آفاق میں داخل ہو رہی ہے اور بہت← مزید پڑھیے