انتساب: کینیڈا اور امریکہ کے اصلی باشندوں کے بچوں کے نام ،جنہیں بیسوی صدی میں ’انسان ‘ بنانے کے لئے جبراً خصوصی رہائشی سکولوں میں رکھا گیا۔ “تم لوگ کہاں ہو؟ میری پکار کو کیوں نہیں سنتے ؟ اماں ،← مزید پڑھیے
(۱) تم بہت بے صبر ہو، واقف نہیں ہو ضابطوں سے زندگی کو چائے کے چمچوں میں بھر بھرکر تحمل، قاعدے سے لمحہ ، لمحہ ، مختصر وقفوں سے جینا ضابطہ ہے تم نہیں سمجھو گے ! بولا وہ نجومی← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط: حیدری اور نذیر مزار سے باہرٹھیلے والوں کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے اور چلغوزے خرید کر کھانے لگے۔ مزار پر پہنچتے ہی شمیم نے برقع اُتار دیا اور سر پر صرف چادر اوڑھ کر مسکراتے ہوئے← مزید پڑھیے
دیکھو ہمیں اب بیٹھ گئے پاس تمھارے کر آؤ منادی ،نہ ہمیں کوئی پکارے محفل کے یہ آداب کہیں دیکھے ہیں تم نے؟ کرتے ہو ہمیں دور سے آنکھوں کے اشارے ہر شکل میں توہے، تری خوشبو تری آواز جائیں← مزید پڑھیے
لافانی انگریز ڈرامہ نگار اور شاعر شیکسپئر نے کہا تھاکہ یہ دنیا ایک سٹیج ہے اور ہر انسان یہاں اپنے حصے کا کردار ادا کر رہا ہے۔آپ سب نے ضرور سنا بھی ہو گا اور دیکھا بھی ہو گا کہ← مزید پڑھیے
جب کوئی آہٹ سی ہوتی ہے جب کوئی کھٹکا سا ہوتا ہے اور اک سرسراہٹ سی ہوتی ہے تب کچھ ايسا لگتا ہے ميرے کندھوں پر کسی کا اک مضبوط ہاتھ ہے اور ميں پیچھے مڑ کر ديکھتا ہوں شاید← مزید پڑھیے
روضہ ء حضرت ابو ایوب انصاری پر حاضری جب سے محترم حافظ محمد ادریس صاحب کی حضرت ابو ایوب انصاری کے روضہ پر حاضری،اُن کے ترکی کے سفر نامہ،کا مطالعہ کیا تھا،اُسی روز سے یہ خواہش مچل رہی تھی کہ← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط: ’وہ دیکھو… اُس طرف! ہاں، وہ جو سیمنٹ سے بنی ہوئی صاف ستھری عمارت ہے نا، وہ ہمارے گوٹھ کی یونین کونسل ہے۔ کبھی بھول کر بھی اس کے قریب سے مت گزرنا۔ یونین کونسل کا چوکیدار شام← مزید پڑھیے
مِرا سخن جو تمھارے خیال تک پہنچا تو خستہ حال بھی اپنے کمال تک پہنچا نکھار اور بڑھا ہے گلاب کا تب سے یہ تیرے ہونٹوں کی جب سے مثال تک پہنچا خوشا نصیب کہ دل آ گیا ہے آنکھوں← مزید پڑھیے
کئی برس پہلےساؤتھ ایسٹرن یونیورسٹی ، واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوئے ایک سیمینار (جس میں اردو کوبھی شامل کیا گیا تھا) میں پیش کردہ راقم الحروف کے مقالے کا پہلا حصہ۔ اس مضمون سےطوالت کے خوف سے اشاریہ اور← مزید پڑھیے
ہائی سکول سون ٹوپہ کے عقب میں اَکثر اَدبی مجلسیں ہوا کرتی تھیں۔حسرت صاحب ا س کے روح ِرواں تھے۔ایک مرتبہ یہاں مشاعرہ ہوا۔مہمان خصوصی محمد کبیر خان (مزاح نگار)تھے۔ساقی صاحب نے غزل پڑھی اَور حسرت صاحب نے نظم۔کبیر صاحب← مزید پڑھیے
یادو کی چادر اوڑھ کر محبت کا ارادہ پہن لوں جذبات کا کنگن ہاتھوں میں پہن کر وعدوں کی بندی ماتھے پر سجا لوں امیدوں کا ہار گلے میں پہن کر مچلتے ارمانوں کی پائل بنا لوں تمہاری آواز کے← مزید پڑھیے
مجھے محروم رکھا ہے ہوا سے روشنی سے بھی نئے ر نگوں کی خوشبو چاشنی سے بھی تعلق دل کے رشتوں کا شجر ممنوعہ ٹھہرا ہے نہ میرے دامن دل میں نہ میری روح کے اطراف شفق رنگوں کا میلہ← مزید پڑھیے
استنبول ایکیوریم آج استنبول میں پانچواں اور آخری دن تھا،سارے گروپ کو میزا ب ٹریول ایجنسی کی طرف سے اجازت تھی کہ اپنی مرضی سے کسی بھی تفریح گاہ کا انتخاب کریں۔لاہور کے نوجوان خالد نے سارے گروپ سے رقم← مزید پڑھیے
زیوریخ- سویٹزر لینڈ سوئٹزر لینڈ آمد سے پہلے اس کا نقشہ کھنگال کر یہ پلان کرچکا تھا کہ یہاں صرف وہ مقامات دیکھنے ہیں جو باقی یورپ سے الگ ہیں۔ شہری علاقوں کی بجائے ہل سٹیشنز اور ان میں سے← مزید پڑھیے
گھنی بھنویں،کُشادہ پیشانی،بھرے بھرے گال،گول ناک اَور اُس کے دونوں طرف سیاہ،چمکتی جمی ہوئی مونچھیں،گندمی رنگ کاقدرے گول چہرہ۔اَگر سر پر تُرکی ٹوپی پہن رکھی ہو تو علامہ اقبال کی کوئی دُھندلی (بلیک اینڈ وائٹ)تصویر لگیں۔یہ تھے اَفطار حسین حسرت۔← مزید پڑھیے
نطشے کا مرزاغالب کو خط میرے عزیز! امید کرتا ہوں تم خیریت سے نہیں ہو گے جانتا ہوں خیریت و سکون تم پہ حرام ہے مگریہ بات باعث حیرت رہی کہ برصغیر جیسی سرزمین پہ کوئی ایسا شاعر ہے جو← مزید پڑھیے
معروف شاعرہ وادیبہ شگفتہ شفیق پاکستان اور بیرون ملک یعنی لندن،امریکہ، کینیڈا ، بھارت کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کی دنیا میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں ۔۔ ان کی چار کتا بیں اب تک پبلش ہو کر اردو← مزید پڑھیے
تقسیم ِ ہند کے تناظر میں كئی ناول لکھے گئے ہیں ۔۔جہاں آگ کا دریا،اداس نسلیں، خاک اور خون، عشق کا شین اور پنجر جیسے ناولوں میں ہجرت سے متعلق مسلمانوں کو درپیش مشکلات اور ان کی قربانیوں کا ذکر← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط: نذیر اور حیدری کو خدشہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو پکوڑافروش موالی اپنے گھر پہنچ کر اپنی بیوی سے اس ضمن میں بات کرنا بھول جائے۔ وہ اسے یہ بات یاد رکھنے لیے اپنی دوستی کے ساتھ← مزید پڑھیے