آج قلم اور کاغذ لے کر بیٹھا ہوں تو زندگی میں کبھی اتنے فکری انتشار کا شکار نہیں ہوا جتنا اس وقت ہوں۔یاد داشتوں کا ایک سمندر ہے جس میں غوطہ زن ہوں اور مسلسل ڈوب رہا ہوں, ایک جست← مزید پڑھیے
اپنے شکستہ جسم سے کہتا ہوں میں جھک کر باغ ِ ارم ہے، ایک خیاباں ہے یہ جہاں تو مرغزار زیست کا وہ مرزبان ہے جو ذوق وشوق و تاب وتواں میں تھا مستعد جس میں قرار تھا نہ تعطل← مزید پڑھیے
غمِ دوراں بھی منا کر دیکھوں رنگ میں بھنگ مِلا کر دیکھوں آنکھ مِلتے ہی مِلالوں دل بھی ہاتھ پہ سرسوں جما کر دیکھوں پیار گرچہ ہے مکمل اپنا جسم بھی اِس میں مِلا کر دیکھوں ؟ وہ بھی شاید← مزید پڑھیے
وقت کی تنگی نہیں تھی کہ میں جو کہنا چاہتی تھی کہہ نہ پائی یا ٹھیک سے کہہ نہ پائی مگر حالات ضرور تنگ ہو گئے تھے۔ یہ قصہ ہے میری کتاب” گمشدہ سائے “کی تقریب ِ رونمائی کا۔ رونمائی← مزید پڑھیے
ایک پل پار کیا،مڑے تو چوکی پر رکے،چوکی کے چوکی دار نے کہا بھائی صاحب!انٹری کرانی ہوگا۔چوکی سے بالکل جڑ کر،بائیں ہاتھ نشیب میں ایک ہوٹل تھا۔وقاص جمیل نے کہا کھانا کھا لیتے ہیں،آگے ممکن ہے کھانا نہ ملے۔گاڑی نیچے← مزید پڑھیے
نہیں، نہیں، مجھے جانا نہیں، ابھی اے مرگ ابھی سراپا عمل ہوں، مجھے ہیں کام بہت ابھی تو میری رگوں میں ہے تیز گام لہو ابھی تو معرکہ آرا ہوں ، بر سر ِ پیکار یہ ذوق و شوق ،← مزید پڑھیے
کہہ نہیں سکتی یہ گھاؤ کب سے میرے سینے میں ہے۔ تکلیف کے ساتھ شروع ہوا ہو ،یہ بھی یاد نہیں۔ نہ کوئی پھوڑا یا چھالا تھا جو پھوٹ کر ناسور بن گیا ہو، نہ ہی کوئی چوٹ تھی جو← مزید پڑھیے
فوجی سدا کا مسافر ہوتا ہے- بلوچستان کی بے آب و گیاہ وادیاں ہوں یا سیاچین کی برف پوش پہاڑیاں ، اس کی مسافت ہمیشہ جاری رہتی ہے- زمانہء امن میں ہمارے تحفظ کےلئے وہ در بدر اپنی جان اٹھائے← مزید پڑھیے
کانوائے کی تمام گاڑیاں بیک کورڈ ہونگی, صرف ایک ڈرائیور ہوگا جو گاڑی چلا رہا ہو ،اس کے علاوہ گاڑی میں کوئی آدمی نہ ہو۔ ہر دو گاڑیوں کے درمیاں کم از کم دو میٹر کا فاصلہ ہونا چاہیے۔ اگر← مزید پڑھیے
عورت ایک ایسی پہیلی ہے جسے صدیوں سے ہر قوم ’ ملک اور عہد کے ادیب ’ شاعر اور دانشور بوجھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن جونہی وہ پہیلی بوجھنے کے قریب ہوتے ہیں اس پہیلی کی کوکھ سے← مزید پڑھیے
پیر جھنڈو آمد: اس عظیم الشان لائبریری کے بارے میں شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زیدمجدھم رقم طراز ہیں: “یہ ہمارے لیے نعمت عظمیٰ سے کم نہیں جو نادر کتب، مخطوطات اس شخصی کتب خانے میں موجود ہیں،← مزید پڑھیے
کل نَفسِ ذَائَقہ اُلمَوت (سورۃ ، ال عمران آ ئۃ 581، حصہ اولیٰ) میں چلا جاؤں گا ، میں جانتا ہوں میں چلا جاؤں گا، اس سے بہت پہلے کہ ہوا برف کی الکحل جلباب ا تارے سر سے بھورے← مزید پڑھیے
کڑوی مسری۔۔۔اسے سب اسی نام سے بلاتے تھے۔ سچ مچ وہ تھی بھی بالکل ویسی۔ گوری تو اس کے اتنے خاندان بھر میں کوئی لڑکی نہیں تھی۔ بھورے بھورے، ہلکے گھونگرالے بال، اس کے پان جیسے چہرے کو گھیرے رہتے۔← مزید پڑھیے
پیر جھنڈو آمد: سندھ کا بہت مشہور راشدی خاندان جو سید محمد راشد روضے دھنی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے۔ ان کا نسب چھتیس پشتوں کے بعد امیر المؤمنین سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے جا← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط: خاصی کشادہ جگہ میں خوبصورت فرشی گاؤ تکیے اور بعض جگہ آرام دہ صوفے اور کرسیاں رکھی گئی تھیں،حُقے سے لطف اندوز ہونے کے لیے خوبصورت شیشے کے حُقے جن پر قدرے بڑی ٹوپیاں تھیں،کچھ نوجوان حُقے کی← مزید پڑھیے
اتنا غصہ اسے اپنے اوپر کبھی نہیں آیا تھا۔ زندگی میں کئی بار اس نے غلط فیصلے لیے تھے اور ان کا نتیجہ بھگتنے کے ساتھ ساتھ اپنی بیوقوفی اور ناسمجھی پر غصہ بھی آیا تھا۔ لیکن اتنا کہ اپنا← مزید پڑھیے
EXIT کے کچھ دیر بعد ہوٹل تک جانے کے لیے متعلقہ ایجنسی کا کوئی آدمی نظر نہ آیا۔زبان کی ناواقفیت،ہوٹل تک رسائی کی لاعلمی،وقتی پریشانی ہوئی،ترکی کے شاندار اور وسیع ائیرپورٹ عملہ کی تیز رفتاری سامان کے حصول میں سہولت،اور← مزید پڑھیے
محی الدین ابن العربی کا جبہ پہنے میں ماؤنٹ قاسم کی چوٹی سے نیچے اترتا ہوں شہر کے بچوں کے لیے آڑو،انار اور سیب کا حلوہ لیے اور عورتوں کے لیے فیروزے کے ہار اور محبت بھری نظمیں لیے میں← مزید پڑھیے
بیکن نے کیا خوبصورت بات کہی تھی ”کچھ کتابیں چکھنے کے لیے ہوتی ہیں،کچھ نگلنے کے لیے اور ان میں کچھ کتابیں چبا کر ہضم کرلینے کے قابل ہوتی ہیں“آج جس کتاب کا تعارف کرواؤں گاوہ چبا کر ہضم کر← مزید پڑھیے