یہ قصہ ایک الہام کی طرح مجھے معلوم ہوا، جب میں اُن ان گنت قبروں میں سے ایک پر اونگھ رہی تھی۔ اونگھ! ایک قبر پر، اللہ رحم! سونا تو ایک نہ ایک دن ہم سب کو ہی قبروں میں← مزید پڑھیے
ہم چار مینار پولس اسٹیشن کے قریب اس کے لوٹنے کا انتظار کر رہے تھے۔ برآمدے کے دوسری جانب کا پٹ کھلا ہوا تھا۔ لیکن میری نگاہیں اس کا جائزہ بھی نہ لے پائی تھیں کہ ایک پولس والے نے← مزید پڑھیے
کتابوں کی منڈی میں کیا ہو رہا ہے؟ سنا ہے یہاں کچھ نیا ہو رہا ہے زمانے سے ہٹ کر ، جدا ہو رہا ہے فریضہ مقدس ادا ہو رہا ہے ذرا غور سے دیکھنا ہو رہا ہے کتابوں کی← مزید پڑھیے
شام کے دھندلکے بڑھ رہے تھے, یہاں سارا سال ہی موسم بہت اچھا رہتا ہے مگر آج خنکی کچھ زیادہ ہی تھی, شمال سے آنے والی سرد ہوائیں بہت تیزی سے درجہ حرارت کو نقطہ انجماد کی طرف لے جا← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط: کہنے لگا کہ اس کے دوست شفقت کا چھوٹا چچا احمد نواز کاظم جو باوا جی سے مل چکا ہے وہ پہلے شیعہ ہوا،اب اسے دس بندوں کا حج کوٹہ ملا ہے، وہ چاہتا ہے کہ پہلی بار← مزید پڑھیے
دعا مانگنے کی رسم بہت پرانی ہے، مزاروں پر جلتے چراغ، مندروں کی گھنٹیاں، چرچ کو روشن کرتی موم بتیاں اور آسمان کی سمت پھیلی ہتھیلیاں دعاوں کا تسلسل بنائے رکھتی ہیں دعا کے لئے اٹھتے ہاتھ مسجد، مندر یا← مزید پڑھیے
تعارف ’ چہار درویشنیں ‘ از شفیق زادہ حالات کے بے رحم تھپیڑوں پر جیتے، خود ناراضی کا شکار اپنے آپ سے لڑتےایک ایسے شخص کی کہانی جس نے زندگی سے انتقام لینے کی ٹھانی ہوئی تھی، چاہے اِس کوشش← مزید پڑھیے
گزشتہ تحریر: ابھی میری خوشی اور خواہش ہے میرا بیٹا میری طرح لاہور کے سب سے اچھے کالج میں پڑھے،یہ گھر کے کام کاج وقار پہ چھوڑو،اس کے دو بڑے بیٹے ہیں بہوئیں ہیں بیٹیاں داماد ہیں ، تو میرا← مزید پڑھیے
ہوا یہ کہ جب ہم مرگئے تھے تو ہماری بیٹیاں یتیم خانے میں چلی گئی تھیں ہم دور اوپر سے دیکھ رہے تھے گاڑیاں آتی تھیں یتیم خانے کا دروازہ کھلتا تھا یتیم خانے کا دروازہ بند ہوتا تھا گاڑیاں← مزید پڑھیے
علامہ اقبال کے کلام میں کشمیر کا ذکر خصوصی اہمیت کا حامل ہے بلکہ ڈوگرہ راج کے حوالے سے توکشمیریوں کی مظلومیت کا ذکر بڑےہی اہتمام کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ تویہ ہے کہ علامہ ایک← مزید پڑھیے
عباس کا شکریہ کہ اُ س نے مزریبMzcireeb جھیل دکھائی۔ شہر سے کوئی دس بارہ میل پر بڑا خوبصورت تفریحی مقام تھا۔ بڑی رونق تھی یہاں خاندان کے خاندان پکنک منانے آئے ہوئے تھے۔ ریسٹورنٹ بھی تھا۔ کچھ کھانے کو← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط: باوا جی سٹپٹا گئے ۔ پوچھا ، اصغر کیا کہنا چاہتے ہو ؟ ۔ کہہ دو ۔۔ اصغر نے اتنا کہا ، ابا جی صوبیدار انکل نے دوسری شادی کر لی تھی ناں ۔ وہ آنٹی ان کے← مزید پڑھیے
اس کے پاؤں نیچے سے پھٹ چکے تھے، اور ان میں سے خون رس رہا تھا اور وہ جس رستے پر چل رہی تھی وہاں برف کی سفیدی ہی سفیدی تھی۔ منجمد اور شفاف برف۔۔جہاں اب کہیں کہیں اس کے← مزید پڑھیے
چلغوزوں کے مہنگا ہونے کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک فرما دیا کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں چلغوزوں کے درخت متاثر ہوگئے تھے۔ایک اور عالی مرتبت نے انکشاف کیا کہ صیہونی← مزید پڑھیے
پہلے دن باوا جی اور اکبر شاہ جیپ پر اصغر کے ساتھ ڈھوک پہ گئے، مزارعین کے سلام دعا کے ساتھ پورے کمپاؤنڈ کا چکر لگایا۔ یہاں بغیر کسی پلان کے جیسے ضرورت پڑتی کمرے ، برآمدے ، کھرلیاں، تھان← مزید پڑھیے
شام کے جنوبی حصوں کے حُسن اور وہا ں مختلف النوع تہذیبوں کے عروج زوال کی کہانیاں اور اُن کی پس ماندہ اور گم شدہ باقیات کے حُسن وجمال اور انوکھے پن کے قصوں کے تذکرے ایک دو سے نہیں← مزید پڑھیے
حالات کے بے رحم تھپیڑوں پر جیتے، خود ناراضی کا شکار اپنے آپ سے لڑتےایک ایسے شخص کی کہانی جس نے زندگی سے انتقام لینے کی ٹھانی ہوئی تھی، چاہے اِس کوشش میں چاہت اور چہیتے ہی کیوں نہ بھسم← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط: شام کو باپ بیٹا بی بی پاکدامن کے مزار پہ حاضری دینے گئے ۔ وہاں باوا جی نے چادر چڑھائی ، اصغر نے زائرین میں نیاز تقسیم کی ، باوا جی نے نوافل پڑھے، زیارت معصومین پڑھی تو← مزید پڑھیے
کوئی معمولی کام تو اس نے بھی نہ کیا۔ گراں ترین خرچہ برداشت کرتے ہوئے ابا جی کے مدرسہ کے لیے سولر پینل لگوا دیا۔ ابا جی کی خوشی اس روز دیدنی تھی۔ بجلی کی غیر حاضری نے گرمی کی← مزید پڑھیے
کہتے ہیں جب محبت پہلی نظر میں قربان ہونے کو تیار کر دیتی ہے۔.لیکن کبھی کبھی ہم نے کسی کے ساتھ برسوں رہ کر بھی وہ پہلی نظر اٹھا کر دیکھا ہی نہیں ہوتا۔۔۔ شاید عدنان کے ساتھ بھی یہی← مزید پڑھیے