دروازہ کی دھڑ دھڑ اور”کواڑ کھولو” کی مسلسل اور ضدی چیخیں اس کے دماغ میں اس طرح گونجیں جیسے گہرے تاریک کنوئیں میں ڈول کے گرنے کی طویل، گرجتی ہوئی آواز۔ اس کی پر خواب او نیم رضا مند آنکھیں← مزید پڑھیے
اے سی کی ٹھنڈک بھی اسے سکون نہیں دے رہی تھی۔ وہ بے چینی سے بار بار موبائل کو اور ایک نظر ساتھ سو ئی ہوئی بیوی کو دیکھ رہا تھا، ڈریم لائٹ کی روشنی میں اس نے غور سے← مزید پڑھیے
شروع شروع میں سونیا کو نعمان بہت بُرا لگتا تھا۔ پھر وہ اس سے اتنا متاثر ہوئی کہ اسی کے بارے میں دن رات سوچنے لگ گئی تھی۔ جب نعمان نے سونیا کو بتایا کہ وہ شادی شدہ ہے اور← مزید پڑھیے
صبح سویرے باوا جی نماز تسبیح اور زیارت پڑھ کر فارغ ہوئے تو منشی مانا سائیکل پر چک سے نائی ساتھ لے کے آ گیا۔ شروع سے جب باوا جی یہاں آتے تو ان کے ذاتی کام منشی ہی کرتا۔← مزید پڑھیے
میں کون ہوں اور کیا چاہتا ہوں۔سوال اہم ہے،جواب نہیں۔۔۔ سوچ کے دروازے پر دستک ضروری ہے۔دروازہ کھلنے کا انتظارکچھ معنی نہیں رکھتا،جس کو وسعتِ ادراک حاصل ہے،صرف وہی ہم راز اور بہی خواں بننے کا حقدار ہے،تڑپ خود بخود← مزید پڑھیے
عصمت نے نہ صرف زبان پر پدری اجارہ داری کو توڑا بلکہ اپنی مخصوص زبان اور لفظیات سے ایک ایسی دنیا تشکیل دی جہاں عورت،انسان بھی ہے اور آزادی سے سانس بھی لیتی ہے، زنجیروں کو توڑتی بھی ہے؛ دکھ← مزید پڑھیے
پہاڑوں سے گِھری گلپوش وادی تھی وہ ننھا سا نگر وادی کی مشفق گود میں بیٹھا ہوا لگتا تھا جیسے ننھا بچہ سو رہا ہو (اوں غوں کرتا ہوا اِک*” پالنے” میں (*پنگھوڑا) کچھ مکاں پکے تھے ،اینٹوں سے بنے← مزید پڑھیے
دوستوں اور عزیزوں کے خطوط بالعموم مکتوب الیہ کے لئے خوشی اور مسرت کے پیامبر بن کر آتے ہیں چنانچہ خط یا مکتوب نثری ادب میں سب سے زیادہ دلچسپی کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں۔ خط اصلاًنجی ہوتے ہیں۔ اس← مزید پڑھیے
پنجاب کے کلچر میں ہر بڑے پیر، زمیندار، جاگیردار، نواب کی جان ،طوطے کی طرح کے ایک ملازم میں ہوتی ہے۔۔باوا وقار شاہ کا وہ طوطا منشی تھا، اس کا ملیار خاندان سادات فیملی کے جدّی پشتی مزارعے تھے۔وہ بچپن← مزید پڑھیے
گزشتہ سے پیوستہ باوا جی تو یہ سب اکاؤنٹنگ دیکھ کے ششدر رہ گئے، منشی اپنی جگہ پریشان ۔ خیر باوا جی نے اٹھ کے بیٹے کو گلے لگایا ،پیار کیا، آنسو روکتے ، بھرائی آواز میں توجہ بدلنے کو← مزید پڑھیے
حیوان در انسان ترے لڑکپن کا شہد اے میرے سر میں بیٹھے ہوئے تشخص جو قطرہ قطرہ بنتا رہا تھا خلیوں کی پوٹلی میں نمود ِ عہد شباب کی صبح کا ستارہ وہ رزق سورج کا اب کہاں ہے؟ پاسبان← مزید پڑھیے
تم میرے بارے میں کچھ نہیں جانتے میں تمہارے بارے میں بہت کچھ جانتی ہوں ہمارا رشتہ ایک غائبانہ رشتہ ہے میں انٹرنیٹ پر تمہارے کالم پڑھتی ہوں تمہاری کتابوں کا مطالعہ کرتی ہوں تمہارے انٹرویو سنتی ہوں تمہاری تحریریں← مزید پڑھیے
بھارتی سرکار نے 2013ء میں پانچ سو روپے کا ٹکٹ جاری کیا جس پہ شکیل بدایونی کی تصویر کندہ کی گئی تھی۔ نوشاد، روی، ہیمنت کمار، ایس ڈی برمن اور سی رام چندر جیسے ممتاز موسیقاروں کی دُھنوں پر سوا← مزید پڑھیے
باوا جی سید وقار حسین شاہ کو جس چک میں مربعہ الاٹ ہوا تھا وہاں قدیمی قصبہ شاہ پور والی تھا۔ ملتان سے قریب اور اس علاقے میں مرکز تھا، نہری نظام جب قائم ہو رہا تھا تو یہ ٹرانزٹ← مزید پڑھیے
تم اچھی لڑکی ہو اس چھمک چھلو کے ساتھ تمہاری دوستی بڑھتی جارہی ہے۔عدنان کے لفظوں میں طنز کے زہر کے ساتھ تضحیک نمایاں تھی جبری مسکان ہونٹوں پہ سجاتے ہوئے کہنے لگا ، پتہ نہیں سمجھتی کیا ہے خود← مزید پڑھیے
ضروری سامان اور سبزی لینے کے بعد میری متلاشی نگاہیں بغیر سواری کے رکشہ کی تلاش میں تھیں، سامنے سڑک پر بہت سے رکشے آ جا رہے تھے، کچھ سواریوں کے انتظار میں رک جاتے کچھ مایوس ہوکر چل پڑتے،← مزید پڑھیے
اس دھرتی کے سارے موسم دوغلے ہیں اور میرے پاس سارے پھول یک رنگے اسی لئے تو شاید یہاں میری ذات کی کلیاں پنپ نہیں رہیں چہروں سے بھرے اس شہر میں بس ایک چہرہ ڈھونڈتی ہوں فقط ایک چہرہ← مزید پڑھیے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا.. ابو صلاح عمر 45 سال، 22سال رومانیہ میں گزرے۔شام کسی معشوق کی طرح ہمیشہ بڑا محبوب رہا۔کِسی جگمگاتے فانوس کی طرح نہاں خانہ دل میں جگمگاتا رہا۔ اس وقت سے← مزید پڑھیے
شاعر: آ ،انٹیگنی، آپس میں کچھ بات کریں تم کہتی ہو ، تم نے اپنے اندر کی آواز کو سن کر ملک میں نافذ اس قانون کو توڑا ہے، جو اند ر کی آواز سے میل نہیں کھاتا تھا تم← مزید پڑھیے
قصہ سا ہوں کوئی نصف صدی کا میں چاندنی جب بالوں میں جگمگاتی ہے آنکھ تاروں کے گرد جب بادل آ سے جاتے ہیں حادثے اپنا مفہوم بدل لیتے ہیں جب سانحے نیا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں پل پل جب← مزید پڑھیے