ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 154 )

درمیاں فہم محبت۔۔۔ماریہ خان خٹک/قسط2

درمیاں فہم محبت۔۔۔۔(قسط 1) ماریہ خٹک امی۔۔۔۔ امی۔۔۔۔ وہ اپنے ایک بچے کو گود میں لئے اور دوسرے کو انگلی سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے گھر میں داخل ہوئی تھی ۔ تھکی ماندی  یہ دوشیزہ بمشکل پچیس سال تک کی←  مزید پڑھیے

خسارا۔۔۔نادیہ عنبر لودھی

وہ تصویر سوشل میڈیا کے توسط سے اس تک پہنچی تھی ۔۔ ماتھے پر بندیا، گلے میں منگل سوتر ،مانگ میں سندور ،تن پر ساڑھی اور پہلو میں کالا بھجنگ ہندو شوہر ۔۔ وہ حیران رہ گئی ۔ سیما کا←  مزید پڑھیے

اے چاند بھٹائی سے کہنا۔۔۔انور پیر زادو/ترجمہ:مشتاق علی شان

اے چاند بھٹائی سے کہنا! جس رات میں تو نے شعر کہے وہ رات ابھی تک جاری ہے سورج کی تمازت ہے ویسی صحرا میں سفر وہ جاری ہے میں کس سے اپنا درد کہوں؟ اے چاند بھٹائی سے کہنا←  مزید پڑھیے

تھر کا سفر۔۔۔ محمد احمد/2

تھر کا سفر۔۔۔محمد احمد/قسط1 تاریخی اور قدیمی صحراء تھر پاکستان کے جنوب مشرق اور بھارت کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ 22 ہزار مربع کلو میٹر ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا اور دنیا کا نویں نمبر←  مزید پڑھیے

خس و خاشاک زمانے۔۔مستنصر حسین تارڑ/تبصرہ۔ ۔بلال حسن بھٹی

مستنصر حسین تارڑ عہد حاضر میں اردو ادب کا ایک بڑا نام ہیں۔ وہ اس خطے میں داستان گوئی کی قدیم روایت کے سچے پیروکاروں میں سے ہیں۔ بلکہ انہوں نے داستان گوئی کی قدیم روایت کو نئی بلندی سے←  مزید پڑھیے

سفر نامہ: شام امن سے جنگ تک۔ حمص کا ابو حارث کیا سُناتا ہے/سلمیٰ اعوان۔۔قسط23

شام میں اقتصادی بحران نے اپنا منحوس سایہ حمص کے متوسط طبقے کے لوگوں پر ڈالا،جو کہ آسمان کو چھوتی قیمتوں،ٹیکسوں کی بلند شرح اور کم آمدنی کی صورت میں زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کررہے تھے۔یہ کتنا بڑا المیہ←  مزید پڑھیے

کَٹ۔۔۔(9)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

CUT لینز* پہ کچھ منظر تیزی سے ابھر رہے ہیں پہلا منظر بیل ہانکتے بل کے پھل پر پاؤں رکھے اس دہقان کا ہے، جو اپنا کھیت جوت کر فصل اُگانے کی امید میں خون پسینہ ایک کرتا ہے دوسرا←  مزید پڑھیے

بقائن۔۔۔محمد خان چوہدری/پانچویں ،آخری قسط

اس کہانی کا باعث تحریر شکیلہ کی غیر متوقعہ زچگی تھی، جس کی طبی، نفسیاتی، اور جذباتی توجیح میں ہمارا رول تھا، ذاتی تجربے کو ضبط تحریر میں لانا ازحد مشکل ہوتا ہے، دبے لفظوں میں پچھلے پیش لفظ میں←  مزید پڑھیے

بلیک میلر۔۔۔عنبر عابر

آج پھر اس کا فون آیا تھا۔اس کا دل کانپ رہا تھا اور وہ چور نظروں سے آس پاس دیکھتے ہوئے مدھم لہجے میں بلیک میلر سے بات کر رہی تھی۔وہ بول رہا تھا۔۔ “دیکھو شہزی! آج میری طرف سے←  مزید پڑھیے

خاب وستیاں۔۔۔۔حمید رازی/تبصرہ۔آدم شیر

حمید رازی کی کتاب خاب وستیاں ہالینڈ، رومانیا، اٹلی، بلجیم اور فرانس کے تاریخی شہروں کا پنجابی میں لکھا گیا سفرنامہ ہے۔ یہ سفرنامہ دراصل ایک سرکاری معلوماتی دورے کا نتیجہ ہے جو حمید رازی اور ان کے دوستوں کو←  مزید پڑھیے

معجزہ نا گفتنی تھا۔۔۔(8)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آج کل مَیں دست کش رہتا ہوں دُخت رز کی بد پرہیزیوں سے سارا ’کٹناپا‘ مرا ، ادمات ساری بے حیائی اب تو ماضی کی حکایت بن چکے ہیں فیثا غورث*کی رواقیت سے میر ی پہلے کب یوں دوستی تھی؟←  مزید پڑھیے

بقائن۔۔۔قسط4/محمد خان چوہدری

پیش لفظ:ماضی کے ایسے کھنڈرات دیکھ کے، بچپن میں سُنی کہانیاں تصور میں لا کے، واپس اسی زمانے میں جا کے، اس وقت کے واقعات کی منظر کشی لکھنے کی سعادت کسی بھی لکھاری کے لئے ، بیک وقت ایک←  مزید پڑھیے

سر منڈی ہوئی عورت۔۔۔(7)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

The Woman With Shaved Head یہ نظم پہلے انگریزی میں اسی عنوان سے لکھی گئی اور شاعر کی انگریزی نظموں کی کتاب میں شامل ہے۔ The Sunset Strands ……………………….. وہ بھی چپ رہتی تھی اکثر میں بھی باتونی نہیں تھا←  مزید پڑھیے

طوفان سے پہلے۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل

ایک وہ دور تھا جب وہ خاموش رہتی تھی اپنے خاندان‘اپنے مذہب‘ اپنے کلچر کے سارے غم’سارے دکھ’ سارے ظلم’ سارے جبر چپکے سے سہتی تھی کچھ نہ کہتی تھی وہ سوچا کرتی تھی ایک دن اس کے خاندان والے←  مزید پڑھیے

تھر کا سفر۔۔۔محمد احمد/قسط1

کہتے ہیں “سفر وسیلہ ظفر ہے”کے مقصد کے پیش نظر سفر کامیابی وکامرانی کا ایک اہم راز ہے ہی لیکن تفریح طبع کے لیے بھی خالی از فائدہ نہیں۔طبیعت میں ہشاشت بشاشت، تجربات اور خدا تعالی کی قدرت کے مظہر←  مزید پڑھیے

کشمیر کتھا، کا دوسرا افسانہ ” تقریروں کے سائے تلے سسکتے کشمیری”۔۔۔رمشا تبسم

کمرے میں اندھیرا تھا۔فجر کی  آنکھ کھلی، اسے سمجھ نہیں آیا ،ابھی دن ہے یا رات۔اور وہ کہاں ہے؟ اس نے آہستہ آواز میں ماں , باپ کو پکارا۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی اور اٹھ کر زمین پر گھٹنوں←  مزید پڑھیے

تمہارے لئے نہیں ہیں۔۔۔رابعہ الرَبّاء

میری کہانیاں ،میری نظمیں، میرے لفظ، میرے حرف تمہارے لئے نہیں ہیں، اگر تمہیں نہیں پتا “گبیریلا” نے کیوں لکھا اگر تمہیں نہیں پتا” ہرمن ہیس” پہ “سدھارت” کے ساتھ نیم موت راج کرتی رہی اگر تمہیں نہیں پتا “سدھارتا←  مزید پڑھیے

دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم۔۔۔سریندر پرکاش

سمندر پھلانگ کر ہم نے جب میدان عبور کیے  تو دیکھا کہ پگڈنڈیاں ہاتھ کی انگلیوں کی طرح پہاڑوں پر پھیل گئیں۔ میں اک ذرا رُکا اور ان پر نظر ڈالی جو بوجھل سر جھکائے ایک دوسرے کے پیچھے چلے←  مزید پڑھیے

نوشی بٹ کا ڈاکٹر خالد سہیل کے نام خط اور ان کا جواب/چھٹی ،آخری قسط

نوشی بٹ کا خالد سہیل کو آٹھواں خط خالد سہیل کو انسان دوست نوشی کا آداب ! سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ آپ کا شکریہ کہ آپ اتنی محبت سے خط کا جواب دیتے ہیں۔میں ان دنوں کچھ مصروف ہوں←  مزید پڑھیے

سفر نامہ: شام امن سے جنگ تک, جنگ کی تصویریں/سلمیٰ اعوان۔۔قسط22

اپنی میز پر پڑی ہدیٰ کی میل دیکھ کر میں بیتا بانہ انداز میں اُس کی طرف بڑھتی ہوں۔ کرسی پر بیٹھنا جیسے گویا میں بھول ہی گئی ہوں۔ کاغذ میرے ہاتھ میں اور نگاہیں حروف پر سرپٹ بھاگتی تھیں۔←  مزید پڑھیے