الفاظ ۔ ایک استغاثہ رن آن سطور میں لکھی گئی ایک نظم مستغیث ایک میں الفاظ کا بخیہ گر ہوں، مجھے اچھا لگتا ہے حرف و سخن کا توازن مقفیٰ، مسّجع، وہ الفاظ جن سے ترنم کی چشمک ، تغزل← مزید پڑھیے
اعلیٰ پائے کے افسانہ نگار حامد سراج سے بات ہو رہی تھی تو انہوں نے ایک کام میرے ذمے لگایا کہ رابعہ الربا جن کا افسانہ نگاروں میں بڑا نام ہے کو ایک کتاب پہنچانی ہے۔ رابعہ الربا سے ملاقات← مزید پڑھیے
آئیےصاحب امن کی بات کرتےہیں ورنہ موجوں کا کیا ۔۔۔ قطرے بن کے شہر بہا لے جائیں گی شہر تیرا ہو یا میرا ہو، قطرے کو اس سے غرض نہیں جاناں، میری جاناں۔۔۔ آئیے امن کی بات کرتے ہیں ورنہ← مزید پڑھیے
اپوری جان لگا کر وہ جمپ لگاتا ” جیسے” ۔۔چاند پر ہو ،کششِ ثقل سے عاری زمین ،پیر بھی بڑے لمبے تھے اُسکے ۔۔ دھنسنے کے بعد باقی رہتے ،زمین پر قدم اُٹھاتا مگر ۔۔یہ گڑھے جو ہمیشہ اُس کے← مزید پڑھیے
ٹیکسات ! فیڈرل بورڈ آف ریونیو جب سی بی آر اور آج کل کا ان لینڈ ریونیو جب محکمہ اِنکم ٹیکس ہوتے تھے، تب سے ہمارا انکے ساتھ بطور مشیر اِنکم ٹیکس واسطہ اور رابطہ شروع ہوا۔ کیسے جغادری افسروں← مزید پڑھیے
ہم نے ایک نخلستان میں پڑاؤ ڈال رکھا تھا۔ ہم سفر ساتھی سو چکے تھے۔ سفید رنگت والا ایک دراز قد عرب، جو اونٹوں کی دیکھ بھال کرتا تھا، میرے پاس سے گزرا اور خواب گاہ کی طرف چلا گیا۔← مزید پڑھیے
کوہستان نمک کی گود میں پھیلی وادیوں پر مشتمل سطح مرتفع پوٹھوہار کا علاقہ اتنا خوبصورت ہے کہ بابر بادشاہ نے اسے کشمیر کا بچہ کہا تھا۔ آب و ہوا رومانس سے بھرپور ہے، روحانیت کا یہ عالم کہ ہر← مزید پڑھیے
ملک ندیم، سندھی تجریدی نظم کا اہم نام تاریخ پیدائش: آٹھ اپریل ۱۹۴۶ وفات: ۹ مارچ ۲۰۱۰ 1۔میری عمر کی عورتیں جو میں نے دیکھیں جو مجھ سے ملیں کس قدر حسین تھیں من موہنی تھیں جوانی کے شجر سے← مزید پڑھیے
ہم تین لوگ تھے تین لوگ تھے اور ایک کتاب تھی ایک کتاب تھی اور کتاب پہ تین تصویر یں تھیں تین مصنف تھے ایک تکون تھی۔۔ مگر کرسیاں چار تھیں میں نے اسے تحفہ عزت کے طور پر ایک← مزید پڑھیے
وصل کا نومولود احساس جب بغل گیر ہونے سے پہلے ہی مار دیا جائے تو ہجر کا سانپ بن بلائے مہمان کی طرح گود میں آ کر پناہ لے لیتا ہے۔جانتے ہو اس نومولود وصل کی لاش ٹھکانے لگانے کے← مزید پڑھیے
کیا یہی سوال نامی بستی ہے؟ آ جاؤ آ جاؤ کیا تمہیں بھی نکال دیا ہے؟ ہاں، انہوں نے مجھے شہر بدر کر دیا ہے۔ یہاں کچھ شہر سے نکالے ہوئے باسی رہتے ہیں ۔ لیکن تم تو ابھی بالکل← مزید پڑھیے
اسے جب اچھی طرح سے اندازہ ہوگیا کہ عظیم قوم بنانا ناممکن کام ہے تو اس نے ٹھانی کہ کیوں نہ ایک عظیم گروہ بنایا جائے۔ سب سے پہلے اس نے خود کو ٹھیک کر نے کا سوچا اور اچھی← مزید پڑھیے
میرے موسیٰ میں مثل خضر ہوں تیرے ساتھ زمانہ فرعون ہے اور وقت نہیں میرے پاس میرے موسیٰ تیرا جلال کہ روشنی کی رفتار ہے لفظوں کی کشتی بے اختیار ہے تجھے کس کا انتظار ہے میرے موسیٰ تجھے جلدی← مزید پڑھیے
پیکر ِ عشّاق ساز ِ طالع ِ ناساز ہے نالہ گویا گردش ِ سیارہ کی آواز ہے ستیہ پال آنند مت ہنسیں، اے بندہ پرور ، میرے استفسار پر جسم عاشق کا بھلا کیا اک سریلا ساز ہے جو کہ← مزید پڑھیے
آبشار کی غلطی : جاز بانڈہ پہنچ کر ادھر ادھر دیکھا تو کچھ ہوٹل اور ان کے پاس خیمے لگے ہوئے نظر آئے ، چلتے ہوئے بائیں ہاتھ پر پہلا ہوٹل آتا تھا جس کی طرف بے اختیار قدم بڑھ← مزید پڑھیے
میں صدارت کی کرسی پہ براجمان ہو چکا ہوں۔ پرنسپل کی سیٹ سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ میں کسی تقریب کی صدارت کر ریا ہوں۔ تمکنت میرے چہرے سے جھلکے یا نہ جھلکے مگر اُس کی پیدائش← مزید پڑھیے
اختری نے گھر کا کام ختم کیا اور سفید تکیہ پوش پر رنگ برنگے چھوٹے چھوٹے پھول کاڑ ھنے لگی – اس کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے ۔ اسے یہ کام جلدی مکمل کرنا تھا – اختری یتیم← مزید پڑھیے
حاجی صاحب بیڈ پہ لیٹے تھے۔ دھوتی لانگڑ متروک کر کے برمودا شارٹس کے اوپر بنیان البتہ موجود تھی، بڑھا ہوا پیٹ برہنہ تھا۔ ناف کے اوپر کی سلوٹ پہ آئی پیڈ ٹکا کر اس پہ رومانوی کہانی ٹائپ کرنےمیں← مزید پڑھیے
اے شہر ِخاموشاں اے ہمارے خمیر کے گھر ہم تجھ سے کتنا دور دور بہت دور مگر اے شہر ِخاموشاں یوں تھا جیسے تو نے روک لیا تھا آسمان بھی تو رو پڑا تھا اے شہر ِخاموشاں رُکی سانسو ں← مزید پڑھیے
کل سے بہت سوچا کہ کس موضوع پر قلم اٹھاؤں۔ اپنی ذات کا تعارف کرواؤں‘مٹی کی محبت میں کچھ لکھوں‘ انسانیت کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر جن منافقانہ رویوں کا سامنا ہے اس کا دکھ بیان کروں‘ سیاست بازی← مزید پڑھیے