بدن میں ایک آنکھیں تھیں جو حرکت میں رہتیں ، باقی سارا بدن تو بس بدن رہتا۔۔ خالی۔۔۔بس اک خالی بدن۔۔ اب وہ تصورات میں بچوں کی مفلسی دیکھ رہا ہے، ڈر رہا ہے، بدن ساکت ہے ۔ اک نہ← مزید پڑھیے
پوسٹ آفس کے پچھواڑے والی عمارت کے لمبے کمرے میں خاصی چہل پہل دکھائی دے رہی تھی۔ آج چٹھی رسانوں کے علاقے بدلے گئے تھے۔ چٹھی رساں گلاب دین کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ کرم الٰہی نے اکرام سے پوچھا← مزید پڑھیے
اس مجموعے میں شامل تراجم شاعر کی تخلیقی دبازت اور فنی ہنر مندی کا اس طرح نقش پیش کرتے ہیں کہ ہر نظم ایک جیتے جاگتے تجربے کی طرح حواس پر وارد ہوتی ہے جس کے لیے سکریتا پال اور← مزید پڑھیے
دونوں میں دوستی ناگزیر تھی۔ دونوں جوان تھے‘ خوبرو تھے ۔ بلاکے ذہین اور ایک سی سوچ رکھنے والے۔ گھنٹوں گپ شپ کرتے ‘ بحثیں کرتے اور فلسفے جھاڑتے رہتے۔ وہ اسے کبھی کبھار چھیڑ کر ’’ فلسفیہ‘‘ بھی کہہ← مزید پڑھیے
عبداللہ مزاری کی عمر ساٹھ کے پیٹے میں ہو گی، یہ دھیما دھیما بولنے والا بلوچ میرے پاس دوسری مرتبہ آیا ہے۔ رات کو زور زور سے چیختا ہے، بلبلاتا ہے، دھاڑیں مارتا ہے، ایک بار چارپائی سے اٹھ کر← مزید پڑھیے
گزشتہ سے پیوستہ: ہاں ہماری ایک بات آن ریکارڈ مانی گئی کہ سانڈ بارہ کی بجائے چھ اور بھینسیں چوبیس کر دی گئیں ۔ہماری باقی لکھی تفصیلات کو بھی سراہا گیا۔ تو جناب پیلس سے توصیفی خط بزبان عربی اور← مزید پڑھیے
ناشتہ بہت لذیز تھا۔ کھانے پینے کی چیزوں سے زیادہ ماحول کے حُسن نے مزہ دیا۔ قدامت کا حُسن دامن دل کو بار بار آنکھیں لڑانے پر مائل کرتا تھا۔ تاہم آنکھوں نے دونوں کام کیے۔ شامی پنیر اور دہی← مزید پڑھیے
جو کہا سب نے وہی ہم بھی کہا کرتے ہیں اُس پہ یہ زعم سُخن سب سے جدا کرتے ہیں وہ جو ,اُس دن نہیں برسا تھا ترے جانے سے لے کے آنکھوں میں وہی ابر پھِرا کرتے ہیں یاد← مزید پڑھیے
اُس وقت میری پیٹھ پر خوابوں سے بھرا ایک بستہ تھا۔۔۔ اس بستے میں۔۔۔ ماں باپ کے خواب ،سماج کے خواب او ر بہت ساری آرزؤں کا بوجھ لَدا ہوا تھا – میں اپنے ننھے ننھے قدم اٹھا تا ہوا← مزید پڑھیے
کہیں کچھ نہیں ہے کوئی نقش و پیکر ، کوئی شکل و تیور نہیں ہے نہ رخسار و لب ہیں ، نہ اُن کی دمک نہ قامت قیامت ، نہ رُت میں کشش ۔ ۔ ۔ نہیں کچھ نہیں ہے← مزید پڑھیے
“اک تارا اک چاند اور میں” جناب دانش عزیز کا پہلا مجموعہ کلام جس کا پہلا ایڈیشن 2013 میں شائع ہوا اور اس نے ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی حاصل کی، یہی وجہ ہے کہ اب 2019 میں اس مجموعہ ← مزید پڑھیے
قنوطیت pessimism یہ ایک مزاج ، رویے اور worldview کا نام ہے خو دایک فلسفہ بھی ہے اور کسی فلسفے کا نتیجہ بھی ۔ یوں ہم کہ سکتے ہیں کہ ایک نفسیاتی اور مریضانہ pathological قنوطیت ہوتی ہے اور دوسری← مزید پڑھیے
کل شام جب میں نے سُوکھے پتوں پر پاؤں رکھا۔۔ پتوں کی آواز نے عجیب سی کیفیت طاری کردی! مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی مختصر زندگی گزار کر۔۔ موت کی آغوش میں چلا گیا ہو۔۔ بہاریں جب خزاؤں کو خوش← مزید پڑھیے
ڈائننگ ہال نقرئی لباسوں سے چمک رہا تھا، سریلے قہقہے چاروں طرف گونج رہے تھے۔ شعراء حضرات اپنے اپنے مداحو ں میں ِگھرے کسی کو آٹوگراف دے رہے تھے تو کہیں اپنے اپنے تجربات شئیر کر رہے تھے۔ ایک طرف← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط: لیکن یہ عجیب خیال آیا کہ تم نے پرائی مرسیڈیز چند دن چلائی اب یہ اتنی اچھی کار ہے۔۔پر وہ ڈرائیو نہیں ۔کمفرٹ نہیں وہ بات ہی نہیں ، اسی طرح فرحی کے بعد ۔۔۔۔ ہم نے پوری← مزید پڑھیے
جناب محترم خالد سہیل صاحب ! آداب کے بعد عرض ہے کہ میں گل رحمٰن بہت ہی کم عرصے میں آپ کی شخصیت ، ادبی اور علمی قابلیت ، آپ کے اخلاق اور دوست احباب سے معاملات سے متاثر ہوئی← مزید پڑھیے
عالمی ادب کی تاریخ میں خواتین لکھنے والیوں کا ذکر, اٹھاویں صدی عیسویں سے قبل خال خال ہی ملتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ ایک بہت لمبی اور پیچیدہ داستان ہے۔ امرِ واقعہ یہی ہے کہ یونان کی سیفو, ہندوستان← مزید پڑھیے
(کم نہ زیادہ، پورے سو لفظوں کی کہانی) جب بے روزگاری کو چھ ماہ ہو گئے اور گھر کا سارا سامان بک چکا تو میں نے بھکاری بننے کا فیصلہ کیا۔ اب ایک کشکول کی ضرورت تھی۔ میں نے راہ← مزید پڑھیے
#Ode_to_a_Nightingale_by_JOHN_KEATS My heart aches, and a drowsy numbness pains My sense, as though of hemlock I had drunk, Or emptied some dull opiate to the drains One minute past, and Lethe-wards had sunk: ‘Tis not through envy of thy happy← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط: کڑی چُپ چاپ چھوڑ دی اب گاڑی بھی مانگتا ہے کمینہ کہیں کا ۔۔ پتہ نہیں کدھر سے نازل ہو گیا۔ ۔مردود ۔۔ وہ بائیک سٹارٹ کر کے چلا گیا۔ ہم کافی دیر کھڑے سوچتے رہے کہ یہ← مزید پڑھیے