شاعر:عامر سہیل ( بہاول نگر ، پاکستان) عامر سہیل ایک دور افتادہ اور چھوٹی سی جگہ پر رہ کر بھی بڑا کام کرنے کا متمنی رہا ہے اور اس کی دُھن دیکھیے کہ اس نے محض ایک ڈیڑھ عشرے کے← مزید پڑھیے
“The Story of an Hour” Kate Chopin (1894) اس امر سے واقفیت کے باوجود کہ مسز میلارڈ دل کے عارضہ میں مبتلا ہیں،ا ن کے شوہر کی وفات کی خبر انہیں بمشکل تمام پہنچائی گئی۔’’مسز میلارڈ‘‘ کی بہن جوزیفین نے← مزید پڑھیے
امراؤ جان کے دلچسپ اور خیال انگیز نثری متن کو شعری اظہار کا محور بنانا اور اس کی تخلیقی دبازت کو ایک نئے حسی تناطر میں منقلب کرنا بہت دشوار گزار عمل ہے مگر مقام مسرت ہے کہ ایک ایسے← مزید پڑھیے
پیش لفظ! اسلام آباد چالیس سال پہلے ایسا نہ تھا۔ صاف ستھرا اور دی بیوٹی فُل سٹی تھا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کسی ملک کو فتح کرنا ہو تو اس کے دارالحکومت پر قبضہ کر لو۔ تو یہاں اقتدار← مزید پڑھیے
صوفی کسی خاص حلیے کا نام نہیں یہ تو ایک کیفیت روحانی ہے ،جو انسان کو اس کے اپنے اصل سے پہچان اور اسے اپنے خالق تک رسائی کا ذریعہ بہم پہنچاتی ہے۔ ہر صوفی دولتِ علم کا متلاشی ہی← مزید پڑھیے
(لکهتے ہوئے ٹوٹتے گهنگهروں کی صدا کانوں میں بجتی رہی، اگر آپ بهی سن پائیں تو۔۔۔۔۔) مجهے رقص سیکھنا تھا۔۔ اور وہ خود سراپا رقص تهی، اک ایسی اپسرا۔۔جسے دیوتاؤں نےکسی تپسوی کی تپسیا بهنگ کرنے کے لیے سورگ سے← مزید پڑھیے
پس منظر۔ کہانی یا داستان لکھنے والے کا مقام جنم دینے والی ماں کا ہوتا ہے تو پڑھنے والے کا رتبہ جنم دلانے والی دائی کا ہے۔ قارئین کا رد عمل اور تعداد لکھاری کے جذبات کو انگیخت دیتے ہیں۔← مزید پڑھیے
میں کون ہوں؟ کہاں سے آیا ہوں؟ کہاں جا رہا ہوں؟ میں کس دنیا میں رہتا ہوں؟ میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں میرا ایک شعر ہے ؎ اپنی ذات سے غافل ہوں آنکھیں ہیں اور اندھا ہوں جوں جوں← مزید پڑھیے
بانو بھی گاؤں کی بہت سی عورتوں جیسی ایک سادہ سی عورت تھی جو نوعمری ہی سے گھر گرہستی کے جھمیلوں میں الجھی تھی۔ لیکن جانے کیا تھا کہ چالیسواں سال لگتے ہی ایسا لگا جیسے اس کے اندر برسوں← مزید پڑھیے
وہ نوجوانی کے دن ہی تھے جب میں خالی ہاتھ پردیس آیا۔۔۔ پیارے محترم بڑے بھائی صاحب نے یہاں لانے، اپنے گھر رکھنے اور ہر طرح سے خیال رکھنے میں مکمل تعاون کیا۔ انھوں نے ہی تعلیم کا سارا خرچہ← مزید پڑھیے
دانیال نئی نسل کے ان چند شعرا میں شامل ہیں جنہوں نے غزل کو اپنی تنقیدی صلاحیتوں کی تجربہ گاہ بنایا اور قاری کو متاثر بھی کیا۔ دانیال کے ہاں مروّج غزل کے تمام ترعناصر موجُود ہو نے کے ساتھ← مزید پڑھیے
آج سفر کی ہی بات کرتے ہیں، منزلوں کو پھر کبھی اپنا موضوع بنائیں گے۔ کبھی کبھی سفر منزل سے زیادہ بھا جاتا ہے، اگر راستے پر فطرت کے رنگ بکھرے ہوں تو نظارے اپنی فرحت بخشی سے ایک قرار← مزید پڑھیے
خوف( fear ) کا سب سے مفصل تجزیہ علامہ اقبال نے اسرار خودی میں کیا ہے خوف ام الخبائث ہے۔ مرگ را سامان ز قطع آرزوست زندگانی محکم از لاتقنطوا ست (نا امیدی موت کاسامان ہے امید سے زندگی کو← مزید پڑھیے
پہاڑ بھی گواہ ہیں ایک قوم اور اُس کی صدیوں پرانی تہذیب کی تباہی پر بچے ابھی تک یتیم بن رہے ہیں ایک جابر آمر کے ہاتھوں میں اُس وقت تک مسکراؤں گا نہیں اور نہ ہی کوئی خوشی محسوس← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط: ہوٹل ، دعوت نامے بھیجنے اور گفٹس کی تقسیم جو تین اہم ترین کام تھے دونوں فرسٹ سیکرٹریز کی نگرانی میں کیے گئےاور لیڈی سیکرٹری معاون بنائی گئی۔ اخبارات میں ضمیمے اور ٹی وی ڈاکیومنٹری عربی مترجم اسکی← مزید پڑھیے
یوں تو بھارتیا سینما کو ایک سے ایک یگانہ روزگار ملا، لیکن فلمی موسیقی کا ذکر ہو، اور کوئی پوچھے، کہ کون ہے جو سب سے الگ سی پہچان لیے ہوئے ہے، تو میں کہوں گا، وہ جس کا نام← مزید پڑھیے
پھولوں کے جھرمٹ میں روز کچھ تتلیاں ایک پھول سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے پھول پر منڈلاتی پھرتی تھیں۔ صبح صادق کا وقت بڑا پُرسکون ہوتا تھا۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ سے پورا باغ گونج رہا ہوتا۔ شہد کی مکھیاں،← مزید پڑھیے
گھنٹی بہت دیر تک بجتی رہی۔۔۔۔۔۔ کسی نے بھی فون اٹینڈ نہیں کیا۔میں نے مایوس ہو کر ریسیور واپس رکھ دیا۔ آپ “بھابھی” کو فون لگائیں نا۔۔۔۔ہماری ایک بےتکلف مہمان دوست نے مشورہ دیا! کون سی بھابھی میں نے مشورہ← مزید پڑھیے
وہ صبح سویرے پانچ بجے اپنے شہر کے بس اسٹینڈ سے راوی بس سروس کی بس میں سوار ہوا تھا اور ڈہائی گھنٹے میں ڈھائی سو روپے دیکر بہاولپور بس اسٹینڈ پہ اترگیا تھا۔ وہاں سے اس نے کوٹ مٹھن← مزید پڑھیے
Shakespeare’s Sonnet میرے محبوب کا حسن اور وقت Devouring Time, blunt thou the lion’s paws, اے خونریز وقت! پنجہ شیر کو کند کردینے والے ظالم! And make the earth devour her own sweet brood; دھرتی کی اولاد اس میں دفن← مزید پڑھیے