۲۴ مئی ۲۰۱۹ طبیبِ مہرباں، دانائے راز محترم جناب خالد سہیل صاحب آداب! جناب جوش نے پیرِ اشتراکیت کارل مارکس کو دانائے راز اور حکیمِ نو کا خطاب دیا تھا, آج بانو بھی آپ کو ویسے ہی احترام سے پکار← مزید پڑھیے
گزشتہ سے پیوستہ لڑکھڑاتی زبان اور قدرے اونچی آواز میں جب یہ کہا کہ وہ جانے اور اس کے گھر والے ، تم خدائی خدمت گار ! اُس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، پلیٹ اور گلاس سامنے سے← مزید پڑھیے
وہ مجھے کہہ رہی تھیں کہ تم جانتی ہو، کہ میں نے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی” اور میں یہ سوچ رہی تھی کہ اگر انہوں نے نہیں کی۔۔۔تو کس نے کی؟ میری ماں نے، باپ نے ، بھائی← مزید پڑھیے
یورپ میں آمد اور پہلی رات کو روم شہر کی سیر سے واضح ہوچکا تھا کہ یہاں دسمبر میں آنا کسی اور خطے کے باسیوں کے لئے تو شاید اچھا فیصلہ ہو لیکن 14 سال سے دبئی کے گرم موسم← مزید پڑھیے
اس کا اصل نام شاید رضیہ تھا۔ وہ منظر عام پر جب آئی تو جھیو کے نام سے متعارف ہوئی۔ اپنی ماں کے ساتھ، سبزی منڈی سے ملحقہ ایک کمپاؤنڈ میں وہ سبزی کی کھاری لگاتی تھی، اپنے گاؤں سے← مزید پڑھیے
اس رات ہونے والی طوفانی بارش نے مٹھو ہوٹل والے کی فکر میں بے حد اضافہ کر دیا تھا۔ اسے اپنے گھر اورچھپر ہوٹل کی فکر کھائے جا رہی تھی،پچھلی بارش پر بھی اس کے گھر کی سر کنڈوں سے← مزید پڑھیے
جس سمت بھی کروٹ لوں سامنے تم ہی ہوتے ہو۔۔۔اتنے قریب کہ ہاتھ بڑھاؤں اور چھو لوں۔لیکن میں ایسا نہیں کرتی۔۔کہ آنکھیں اجازت نہیں دیتیں۔ جس طرح میری بینائی تمہیں جذب کرتی ہے ہاتھ شاید نہ کرپائیں۔۔لیکن اس کا مطلب← مزید پڑھیے
کنگ سی میں اُس عظیم الشان عمارت کے سامنے کھڑی تھی جو مدرسہ جکمکیہ(Jaqmaqiya) تھا۔ یہ کس قدر خوبصورت فن تعمیر کا حامل تھا۔ یہ مملوک خاندان کے سلطان جکمک کی یادگار ہے۔ داخلی دروازے کی شان نرالی تھی۔ بلندوبالا۔← مزید پڑھیے
“ یار آپ کے جاننے والی کوئی گائنی کی ڈاکٹر ، لیڈی ہیلتھ وزیٹر، مڈ وائف یا دائی ہے جو رازداری کے ساتھ ابارشن کرتی ہو، مناسب فیس بے شک لیتی ہو لیکن پردہ رکھنے کی گارنٹی ہو ؟۔۔“ خالد← مزید پڑھیے
بانو کا پہلا ادب نامہ طبیبِ من! آداب! آپ کا ہدیہ خلوص ”درویشوں کا ڈیرہ“ موصول ہوا۔ ہمارے ایک ساتھی کا کہنا ہے کہ ”کتاب، کسی شعور کی برتی ہوئی مصفا اطلاع ہے۔ “ میں ممنون ہوں کہ آپ نے← مزید پڑھیے
دُزد ِ شعر دیدہ بودم، دُزد شاعر نہ دیدہ بودم سرقہ، توارد اور بین المتونیت کے بارے میں ایک مختصر نوٹ “If we steal thoughts from the moderns, it will be cried down as plagiarism, if from the ancients, it← مزید پڑھیے
ہمارے لئے یادِ ماضی کی صورت کبھی عذاب جیسی نہیں رہی ہاں البتہ ہلکی ہلکی کسک سے انکار نہیں۔ بہت سے قصے ہیں جنہیں یاد کریں تو نشہ سا چھانے لگتا ہے اور کچھ ایسے بھی کہ خود پہ ہی← مزید پڑھیے
تیرا انداز ِ سخن شانہ ٔ زلف ِ الہام (ایہام) تیری رفتار ِ قلم ، جُنبش ِ بال ِ جبریل مقطع ٔ فخریہ یا شعر فقط اپنے لیے؟ جس سے ہو اپنی ، (فقط اپنی ) بڑائی مقصود خودہی ہو← مزید پڑھیے
فیصل فارانی کا دوسرا ادبی محبت نامہ موصول ہوا۔ انہیں شاید اپنے سوال کا تسلی بخش جواب نہیں ملا۔انہوں نے میری نظم کے چار مصرعے نقل کیے ہیں میری ماں کی اندھی محبت میرے پاوں کی زنجیر بنی تھی میں← مزید پڑھیے
اُس کو مرے ہوئے دو گھنٹے گزر چکے تھے۔۔ اسپتال کی ایمرجنسی سے ملحق ایک اسٹور نما کمرے میں اسٹریچر پر پڑی اس کی لاش کے اردگر د ایک نرس کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔نرس ہاتھ میں ایک رجسٹر← مزید پڑھیے
ڈاکٹر خالد سہیل اور اُن کی تخلیقات کے ساتھ میری عقیدت کا رشتہ گزشتہ ستائیس سال پرانا ہے اتنا پرانا کہ جب پہلی بار اُن کا ایک افسانہ “ اپنے دور کے یوسف کی ماں “ انڈیا سے شائع ہونے← مزید پڑھیے
اٹلی کا سفر! موجودہ اٹلی اور سابقہ رومن ایمپائر کے دارلحکومت روم سے آغاز کرنے کا چار مقاصد تھے کہ یہ کھوج لگایا جائے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو کیوں بانسری بجا رہا تھا اور روم اگر← مزید پڑھیے
میں اُس کو غور سے حیرت سے سُنتی ہوں بڑے سے ہر سہولت سے سجے گھر میں وہ اپنے ساتھ رہتی ہے وہ کہتی ہے “کسی بھی شام کے بھیگے اندھیرے میں وہ اپنی شدت پسند جذبات سے بہکی ہوئی← مزید پڑھیے
محترمی رضوان صاحب ! اپنے انٹرنیٹ میگزین ‘ مکالمہ’ میں میری نظم ‘ بوڑھی آنکھیں’ چھاپنے کا اور مجھے فیصل فارانی کا محبت بھرا استفسار بھیجنے کا شکریہ۔یہ میری نظم کی خوش بختی ہے کہ اس نے فیصل فارانی کو← مزید پڑھیے
مرا وجود مری روح میری جان ہے ماں غموں کی دھوپ میں خوشیوں کی سائبان ہے ماں مرے وجود کے لہجے میں گفتگو اس کی مری زمین تخیل پہ آسمان ہے ماں اسی کا لمس حقیقت ہے استخوانوں میں مرے← مزید پڑھیے