ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 168 )

سفر نامہ: شام امن سے جنگ تک۔اعظم پیلس میں ڈاکٹر ہدا سے ملنا/سلمیٰ اعوان/قسط8

شام ثقافتی طور پر کتنا مالدار ہے اس کا اندازہ اس کی سیاحت کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا۔ ہاں پر اب جب میں لکھ رہی ہوں تو ایک طرف اگر اُن یادوں اور منظروں کی یلغار ہے۔ تو دوسری←  مزید پڑھیے

ڈاکٹر خالد سہیل کی نظم کے حوالے سے ایک استفسار۔۔۔فیصل فارانی

ڈاکٹر صاحب ! آپ کی نظم پڑھی اور ماں کی محبت اور قربانیوں کے حوالے سے یہ نظم بہت پسند آئی ۔۔۔ دلی داد قبول کیجئے ! لیکن ایک ماں نے اپنی محبت اور قربانیوں سے اپنی اولاد کے پاؤں←  مزید پڑھیے

بخت بانو ۔۔۔۔ محمدخان چوہدری

ایک لرزہ خیز حکایت ۔۔ بی بی بخت بانو ایک ہی وقت خوش بخت ترین یا بد نصیب ترین خاتون تھی یا نہیں ۔۔اس کا فیصلہ آپ اس کی کہانی پڑھ کر کیجیئے گا، وڈا پنڈ چھوٹی دو پہاڑیوں پہ ←  مزید پڑھیے

آنکھیں۔ایک انوکھی کتھا۔۔۔۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

گہرے کالے رنگ اور گھنگریلے بالوں والا عاشر گاوں میں وہ واحد نوجوان تھا جِس کی طرف کسی نے نگاہِ اُلفت سے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یوں تو گاوں میں اور بھی بہت سے لوگ رنگ و صورت سے اتنے←  مزید پڑھیے

پیج ندی کا مچھیرا۔۔۔صادقہ نواب سحر/تبصرہ :عمران عراقی

پیج ندی کا مچھیرا‘‘ صادقہ نواب سحر کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے۔ اس سے قبل ۲۰۱۳ میں ’’خلش بے نام سی‘‘ کے عنوان سے ایک افسانوی مجموعہ  منظرعام پر آ چکا ہے۔ دو ناول ’کہانی کوئی سناؤ متاشا‘ اور ’جس←  مزید پڑھیے

نازؔ خیالوی :ایک تجزیہ۔۔۔۔۔ڈاکٹر فرحانہ قاضی/دوسرا ،آخری حصہ

(۳۱) جب سے دستارِ فضیلت پائی ہے دربار میں جانے کیوں شانوں پہ اپنا سر نہیں لگتا مجھے (۳۲) یار وسائل سے نواز اُن کو یا غیرت دے دے بیچ دیتے ہیں ضرورت میں جو ایمانوں کو (۳۳) یاروں کسی←  مزید پڑھیے

بُدھ کا دوسرا چیلا(ایک ذاتی تا ثر)۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گزشتہ صدی کے آخری برس میں میرے لاہور کے ایک ہفتے کے قیام کے دوران انتظار حسین صاحب نے میری تتھا گت نظموں کے حوالے سے مجھے کہا تھا :اگر آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ آپ مہاتما بدھ کے←  مزید پڑھیے

اپنی والدہ کے نام ایک نظم”بوڑھی آنکھیں”۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل

میری ماں کی بوڑھی آنکھیں ان آنکھوں میں جب بھی جھانکا خوابوں کے ویرانے دیکھے ویرانے بھی ایسے جن میں ہر اک حسرت خار بنی تھی ہر اک خواہش سوکھی ٹہنی برسوں کی معصوم امنگیں پژمردہ مرجھائی کلیاں امیدوں کے←  مزید پڑھیے

غالب خامہ بدست سیریز(۱) قاری اساس منظوم تنقید۔ ۔۔ستیہ پال آنند

وفا داری، بشکل ِ استواری، اصل ِ ایماں ہے مرے بُتخانہ میں تو کعبہ میں گاڑو براہمن کووفاداری؟ وفا کیشی، کھرا پن، کلمہ ؑ حق ہے مگر اک شرط ہے یہ حق شعاری مستقل ہو ۔۔۔ پائداری،استقامت، جاری و ساری←  مزید پڑھیے

بھائیا افضل خان ۔۔۔۔محمدخان چوہدری

عشق کی مثال اُس مٹی کے دیے  کی طرح ہے، جو سارا تیل اپنے اندر جذب کر لیتا ہے،پھر ساری زندگی جب بھی یاد کی دیا سلائی  سے جلایا جائے  تو وہ اپنے آپ کو نچوڑ کے جیوٹ کو تر←  مزید پڑھیے

کیسی ماں ہے وہ۔۔۔۔رمشا تبسم

موسم خوشگوار تھا  شاید بارش  ہونے والی تھی۔اس نے آسمان کو طرف دیکھا جیسے وہ آسمان والے سے کچھ التجا کر  رہا تھا۔ جب ایک دم گجرے والے نے آواز لگائی یہ لے دو گجرے اس نے آسمان سے نظر←  مزید پڑھیے

نازؔ خیالوی :ایک تجزیہ۔۔۔۔۔ڈاکٹر فرحانہ قاضی/حصہ اول

ABSTRACT Naz Khialvi [1947-2010], a broadcaster by profession is less known yet endowed and versatile poet of Urdu language. His poetry book, Lahoe ky Phool [Flowers of Blood] available at Internet Archive, but is so far unpublished in paper form.←  مزید پڑھیے

ادھوری کہانی۔۔۔۔محمد خان قلندر

لڑکی حسین، ذہین، اور بذلہ سنج ہو تو سہ آتشہ ہوتی ہے۔۔۔صوفیہ نور العین،ایسی ہی تھی اسے صوفی بُلایا جاتا تھا۔ ہمارے ایک سینئر  دوست کی بیٹی زیب کی دوست تھی، اس سے ایم ایس میں ایک سمسٹر پیچھے تھی،←  مزید پڑھیے

مجھے وسوسوں کے سانپ ڈستے ہیں۔۔۔۔ ظفر عمران

کیا آپ ایسے خواب دیکھتے ہیں، جن کی ممکنہ تعبیر آپ کو ڈرا دیتی ہو؟ میرے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔ ماہر نفسیات کہے گا، یہ خواب نہیں وہم ہوتے ہیں۔ چلیں وسوسے سہی۔ یہ پتنگے عموما ًًً کھلی آنکھوں میں←  مزید پڑھیے

مِٹی کے انسان۔۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

پہلا منظر۔ چلتی بس میں خاصا ہجوم تھا سیٹوں پر مرد اور عورتیں جیسے اپنی زندگی کی تھکن اُتار رہے تھے ہر ایک کے چہرے سے گرمی کی شِدت ٹپک رہی تھی کچھ کے تو پسینہ  بہہ بہہ  کر اُن←  مزید پڑھیے

ہائے ۔۔لنگڑی قسمت۔۔۔۔۔رمشا تبسم

لوہے کی ٹرے میں  گولیاں,ٹافیاں بسکٹ برش، کنگھی رکھتے ہوئے بارہ سالہ جنید بار بار آج پیچھے مُڑ کر دیکھ رہا تھا جہاں اسکی ماں شبانہ  اسکے پانچ سالہ بھائی اکرم اور ایک سالہ بہن سلمہ کو روٹی کے نوالے←  مزید پڑھیے

صنفِ لطیف۔۔۔۔محمد خان قلندر

شازی عجیب طرح دار عورت ہے، اپنے گھر میں پیشہ کرتی ہے،شام کو چار پانچ بندوں کو ون بائی  ون ٹائم دیتی ہے،اس کا ملازم دس ہزار ایڈوانس وصول کر کے بندے کو اس کے کمرے میں چھوڑ جاتا ہے،وہ←  مزید پڑھیے

خامہ بدست غالب ۔۔ نیو سیریز۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

دیکھ کر در پردہ گرم ِ دامن افشانی مجھے کر گئی وابستہؑ تن میری عریانی مجھے ستیہ پال آنند پوچھتا ہے۔۔ بے لباسی من کی تھی یا تن کی؟ غالب، کچھ کہیں تو کیسی عریانی تھی یہ؟ سرمدؔ کی سی؟←  مزید پڑھیے

گھٹیا افسانہ نمبر 26۔۔ ۔کامریڈ فاروق بلوچ

میں افتخار صاحب کی بیٹھک میں بیٹھا ہوں. ہم کوئی چھ سے سات افراد ہیں. میں آج پہلی مرتبہ اُن کے ہاں آیا ہوا ہوں. افتخار صاحب کے دونوں صاحبزادے بھی وہیں دستیاب ہیں. ایک تو عبدالباری ہےجس سے صدیقہ←  مزید پڑھیے

خامہ بدست غالب (جناب ستیہ پال آنند کی کتاب)۔۔۔۔۔فیصل عظیم

ستیہ پال صاحب کی کتاب ’’خامہ بدست غالب ‘‘ میری نظر میں اردو تنقید کے حوالے سے ایک اہم کتاب ہے۔ ہے تو یہ نظموں کا مجموعہ، مگر اس کا محور تخلیقی تنقید یا تنقیدی تخلیق ہے اور اس میں←  مزید پڑھیے