ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 169 )

سفر نامہ: شام امن سے جنگ تک۔۔۔سلمیٰ اعوان/قسط7

شام میں انقلاب کے لئے آخری حدوں تک جانے والی جی دار خاتون 2008ء کے اُن دنوں جب میں دمشق میں تھی۔ ایک گرم سی صبح عرب رائٹرز یونین کے مزہ Mezzehمیں واقع دفترشامی لکھاریوں سے ملنے لگی۔ مزہ Mezzeh←  مزید پڑھیے

ہیرا منڈی سے بلال گنج۔۔۔محمد خان چوہدری

اس کہانی کا لاہور کے موجودہ سیاسی خانوادوں سے تعلق نہیں، مماثلت اتفاقیہ  ہو گی! جنرل ایوب خان کے دور میں ہیرا منڈی میں جسم فروشی پر پابندی لگی تھی،اور ناچ گانے کے اوقات بھی نصف شب تک محدود ہو←  مزید پڑھیے

عالی جاہ!مجھے نہ کر وداع۔۔۔۔۔ستیہ پال آنند

(اس برس میں نے آخری دو کورس بھی جو آن لائن پڑھا رہا تھا، ترک کر دیے۔۔۔۔۔ جامعات کی سطح پر درس و تدریس میں 65 برس پورے ہوئے۔ کیا کھویا ، کیا پایا میں نے اس عرصے میں ،اس←  مزید پڑھیے

مرگ مفاجات یا مکافات۔۔۔۔محمد خان چوہدری

غربت ایک ایسا ناسور ہے کہ بندہ ایک دفعہ غریب ہو جائے پھر غریبی سے جان چھڑا بھی لے، تو بھی غربت کا ٹیکا اس کے ماتھے سے چمٹا رہتا ہے، تقسیم سے پہلے خلیل خان جالندھر اور امرتسر کے←  مزید پڑھیے

بلیک ہول ( گمشدہ افراد)۔۔۔۔بنت الہدیٰ

بلیک ہول کی دریافت مشکل نہیں تھی اس تک رسائی مشکل ہے جذبات اور احساس سے عاری بلیک ہول۔۔ روشنی کی ہر کرن نگلتا جارہا ہے اور کئی زندگیاں زندہ رہتے ہوئے اس پراسرار دائرے میں جکڑی جاچکی ہیں بلیک←  مزید پڑھیے

فرسٹریشن ۔۔۔۔ سردار علی خان

زیر سمندر واقع اس شاپنگ آرکیڈ کو عالمی شہرت حاصل تھی جہاں تک رسائی آبدوزوں کے ذریعے ممکن تھی۔ اس شاپنگ آرکیڈ میں ملبوسات کے مختلف النوع کے نمونے موجود تھے جبکہ بچوں اور نوجوانوں کی دلچسپی کی اشیاء کے←  مزید پڑھیے

باباجی، چاچا جی تے میں۔۔ مدثر بشیر/بُک ریویو

معاشرے میں بکھری ہوئی کہانیوں اور باتوں کو ایک لڑی میں پرونا بہت بڑا فن ہے، بظاہر یہ کچھ مشکل دکھائی نہیں دیتا مگر ان کہانیوں اور باتوں کو تحریر کی شکل دینا کچھ اتنا آسان بھی نہیں، خاص طور←  مزید پڑھیے

یومِ مزدورسپیشل۔۔۔۔نا قابل تحریر/محمد خان چوہدری

فارم ایریا میں دن طلوع آفتاب سے بھی پہلے شروع ہو جاتا ہے،شہر میں جب لوگ ناشتہ کرتے ہیں تو یہاں دوپہر کے کھانے کا وقت ہوتا ہے،گرمیوں میں تو دس گیارہ بجے تک لوگ اور مویشی کسی درخت کے←  مزید پڑھیے

سائیاں وے۔۔۔۔ محمد افضل حیدر

دِن کا پہلا پہر ماحول کے طول و عرض پر اپنی آمریت مسلط کر چکا تھا۔ گرمیوں کا سورج دِن کے آغاز سے ہی اپنے تیور دکھا رہا تھا۔دِتاّ کھیتوں کے بیچوں بیچ سے ہوتا ہوا منشی رب نواز کے←  مزید پڑھیے

ریلوے سٹیشن۔۔۔۔ محمد جمیل اختر

“جناب , یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رکی ہے ؟” جب پانچ منٹ انتظار کے بعد گاڑی نہ چلی تو میں نے ریلوے سٹیشن پہ اترتے ہی ایک ٹکٹ چیکر سے یہ سوال کیا تھا۔ “او جناب پیچھے ایک جگہ←  مزید پڑھیے

بے وقتی آپا نسیم۔۔۔۔۔۔۔۔محمد خان چوہدری

مغرب کے بعد اگر آپ ان کی گلی سے گزرتے اور آپ کو جھاڑُو دینے کی آواز  سنائی  دیتی تو یقیناً یہ اس کے گھر سے ہی آتی، وہ عجیب مزاج کی لڑکی تھی۔۔۔میٹرک کے امتحان آئے  تو سکول چھوڑ←  مزید پڑھیے

شام امن سے جنگ تک:آ عندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں ۔۔۔سلمیٰ اعوان/قسط6

یہ 2012  ہے۔ جولائی کے دن ہیں۔چار سال ہوتے ہیں۔اپنے ملک اپنے شہر اپنے گھر میں بیٹھی اپنے ملک کو خون میں نہاتے دیکھتی ہوں۔ تو آہوں اور آنسوؤں کے سیلاب میں بہتے بہتے معلوم ہوتا ہے کہ جس پر←  مزید پڑھیے

سویرے والی گاڑی۔۔۔محمد افضل حیدر

شادی کے محض چار سال بعد ہی دونوں میاں بیوی کے درمیان نوبت طلاق تک پہنچ گئی تھی۔ تلخ کلامی اور رویوں میں سرد مہری اب آئے روز کا معمول تھا۔ارشد نے اسی برس چھوٹی عید کے دوسرے روز ایک←  مزید پڑھیے

افغانستان کا معاصر افسانوی منظرنامہ اور معاشرہ۔۔۔۔شافع قدوائی

تشدد کے لرزہ خیز واقعات ، خود کش بم دھماکے ، قتل اور غارت گری، زندگی کے تمام گوشوں پر گہری مذہبی انتہا پسندی کے لرزاں سائے اور جمہوری اور سیکولر اقدار سے بے زاری، یہی وہ حوالے ہیں جن←  مزید پڑھیے

جناب ستیہ پال آنند صاحب کے جنم دن پر۔۔۔۔۔۔۔طیبہ ژویک

شہنشاہ اسوهء حسنہ۔۔ آپ بندہ ستیہ پال آنند۔۔ غیر مسلم ضرور ہے لیکن۔۔ یہ اجازت تو دیں مجهے سرکار۔۔ دهیان میں گم زمیں کو بوسہ دوں۔۔ اور باقی کی عمر اے آقا۔۔ یوں ہی ٹھہرا رہوں جهکائے ہوئے۔۔ در ِشاہِ ←  مزید پڑھیے

ورق در ورق: خیام شناسی۔۔۔۔شافع قدوائی

کتاب کے آخر میں پروفیسر اخلاق احمد نے عمرخیام کی رباعیات کا انتخاب مع اردو تراجم کے شامل کیا ہے۔ تراجم منظوم نہیں ہیں تاہم سلاست زبان اور محاورے کا خاص لحاظ رکھا گیا ہے۔ ایڈورڈ فٹزجیرالڈنے گیارھویں صدی کے←  مزید پڑھیے

گھٹیا افسانہ نمبر 25۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

دو سال پہلے بھی تو ایران نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جب پاکستان نے ایران کا جاسوس  ڈرون گرایا تھا۔ بلکہ انہی دنوں ایرانی فوجیوں نے سرحد پہ بلاجواز فائرنگ بھی کی تھی۔ یہ جناب پتہ نہیں←  مزید پڑھیے

عینی آپا،کچھ یادیں ،کچھ باتیں ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

نومبر انیس سو چھہتر, بمبئی. عینی آپا سے پہلی ملاقات ان کے رسالے Imprint کے دفتر میں ہوئی. میں اپنے ہم زلف کے گھر سے (جہاں میں ٹھہرا ہوا تھا) تین بسیں بدل بدل کر بمشکل تمام پہنچا۔مجھے عینی آپا←  مزید پڑھیے

تھیٹر کی دنیا کےکرم یوگی تھے حبیب تنویر

ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوکہ وہ لوگ جو کبھی اسکول نہیں گئے، بالکل ناخواندہ اور حد تو یہ کہ ٹھیک سے ہندی بھی نہیں بول سکتے تھے ایسے اداکاروں کو حبیب تنویر اسٹیج←  مزید پڑھیے

ہدایت نامہ ء زوج۔۔۔محمد خان چوہدری

تم ایک کال گرل کے لئے مجھے اس طرح ذلیل نہیں  کر سکتے” زینی کے یہ الفاظ اس وادی نما مقام پر  واقع ریسٹ ہاؤس  کے لان میں گونج کی وجہ سے دہرائے جا رہے تھے۔۔۔ اور سر وقار آرام←  مزید پڑھیے