علی اکبر ناطؔق کا نام پہلے پہل ہم نے قاضی زکریا کی دیوار گریہ پر ٹنگا ہوا دیکھا، قاضی صاحب لکھنؤ میں ایک کتب خانہ چلاتے ہیں، خامنہ ای کو اپنا رہبر مانتے ہیں اور ان پر اپنی جان بھی← مزید پڑھیے
اچانک اُسے یاد آیا کہ وہ تو اپنے ” بھول جانے “ کی عادت کی انگلی تھام کر جوان ہوا تھا ۔ ایامِ شباب میں اسی سبب وہ ” بھولے بادشاہ “ کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا ۔← مزید پڑھیے
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی شخصیت اور کام کسی تعارف کا محتاج نہیں ،اقبالیات میں آپ کی گراں قدر خدمات کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جا چکاہے،پاکستان کے تمام اہم ادبی اداروں اور جامعات میں آپ کے خطبات اور← مزید پڑھیے
تخلیق مشکل اور کٹھن راستہ ہے جس پر چلنے والے بہت کم لوگ ہوتے ہیں اور خاص طور پر تو ایسے روگ کو پالنے سے لوگ گریزاں ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس میدان میں مقصدیت کی راہ ہموار کرنے کے لئے← مزید پڑھیے
‘‘پاتھی گورس’’ نے اگر کر سٹوفر کو لمبس کے دل میں دنیا کی حقیقتیں جاننے کی لگن پید اکی تھی تو میرے بچپن کے وہ دن بھی ‘‘گورس’’ کی کتاب جیسے ہی تھے کہ جس کے ہر صفحے پر گلگت← مزید پڑھیے
پاؤں پالنے سے باہر نکالتے ہی اندازہ ہوا کہ جانور تو ہر خطے میں پائے جاتے ہیں چاہے دو پاؤں والے ہوں یا چوپائے۔ بس رویہ اور ذائقہ تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ چند دعوتیں اور اچھی خاصی نیند اُڑالی۔ میزبان← مزید پڑھیے
حين التقى المسيحيون بالمسلمين أول مرة جب عیسائی پہلی بار مسلمانوں سے ملے تصنیف: مائیکل فلپ بین یہ اسلام کے بارے میں قدیم ترین سریانی تحریروں کے لیے ایک حوالہ کتاب ہے جسے ایک مسیحی مائیکل فلپ پین نے لکھا← مزید پڑھیے
۱۵۵۷ء میں چھاپے خانے کی ایجاد کے بعد پوپ چہارم نے ممنوعہ کتب کا اشاریہ (Index Prohibitorum) مرتّب کرایا تھا،جس پر مسلسل نظر ثانی کی جاتی رہی۔ یہ سلسلہ بیسویں صدی کے نصف میں بھی جاری رہا۔ اس اشاریے میں← مزید پڑھیے
کون ہو تم؟ تمہارا نام کیا ہے؟ کہاں سے آئے ہو؟ کہاں جا رہے ہو؟ تم نے ٹکٹ خریدا ہے؟ اس کے پیسے ہیں تمہارے پاس؟ نیم شب ٹھٹھرتی رات کی گہری تاریکی میں یک طرفہ میرے اتنے زیادہ سوالات← مزید پڑھیے
“فن پارے کا بنیادی سچ یہ ہے کہ وہ اپنی کلیت میں یکہ وتنہا ہے۔وہ کسی کی ہو بہو نقل ہے نہ کسی کے مثل ہے۔ لیکن فن پارے کی سچائی کا ادراک آسان نہیں ہے۔ تم بہت سے لوگوں← مزید پڑھیے
“تأملات امرأة” عورت کے مظاہر فلسطینی مصنفہ: ثناء ابو شرار کی کتاب پر تبصرہ فلسطینی مصنفہ ثناء ابو شرار کی یہ کتاب “عورت کی عکاسی” میں خواتین، سیاست، مذہب، قانون، محبت، استعمال، عصری زندگی، پردہ، شناخت اور آخر میں عورت← مزید پڑھیے
تانیثی ادب سے مراد وہ ادب ہے جس میں خواتین کے سیاسی، معاشی، معاشرتی و دیگر جملہ حقوق کے متعلق اظہارِ خیال کیا گیا ہو۔ تانیثی ادب کا آغاز سب سے پہلے مغرب میں انقلاب فرانس اور صنعتی انقلاب کے← مزید پڑھیے
آج سے سو برس پہلے، سنہء 1923 میں جبران خلیل جبران نے اپنی تصنیف “The Prophet” (النبی) کا مخطوطہ چھاپنے کے لیے پبلشر Alfred Knoph کو بھیجا تھا، اس لمحے سے لے کر آج تک دنیا بھر کے اشاعتی ادارے← مزید پڑھیے
انسان شکار کے دور سے نکل کر کاشتکاری کے دور میں داخل ہوا تو اسے رہنے کےلیے مستقل ٹھکانہ تعمیر کرنا پڑا ۔ خاندان بنے اور پھر قبیلے ۔ آپس میں خیالات کے تبادلے کےلیے زبان وجود میں آئی۔ قابل← مزید پڑھیے
بہت دن بعد خدا خدا کر کے اسے راضی کیا کہ کہیں ملتے ہیں جب وہ آئی تو ایک تازہ ہوا کا جھونکا اس کے بدن سے لپٹی خوشبو مجھ تک پہلے لے آیا ۔۔ میں یہ سوچ رہا تھا← مزید پڑھیے
فلسطین کا معروف شاعر محمود درویش کہتا ہے کہ ’’جو ناول لکھتا ہے وہ اس کی سرزمین کا وارث ہوتا ہے۔‘‘ اگر آپ فلسطین کی تاریخ کو اور حالات کو کسی ناول کی شکل میں دیکھنا چاہیں، جو آپ کو← مزید پڑھیے
وہ ایک اندھیری رات تھی شاید چاند کی آخری راتیں تھیں۔ کمپنی کا فنکشن ختم ہوتے ہوتے رات کے اڑھائی بج چکے تھے، جس وقت میں رائل پام کلب سے نکلا۔ نہر والی سڑک پر گورا قبرستان کراس کرتے ہی← مزید پڑھیے
ہاسٹل کی زندگی عجب داستان ساز ہوتی ہے ۔ آنکھوں میں مستقبل کے خواب بھرے ملک کے مختلف کونوں، کناروں سے آۓ ہوۓ بے شمار نئے چہرے ۔کشادہ پیشانی والے سندھی ، سرخ و سفید کشمیری ،نیلی آنکھوں اور پتلی← مزید پڑھیے
Dying Is an art, like everything else. I do it exceptionally well. دو تین روز قبل حسیب بھائی کی ڈپریشن پرپوسٹ دیکھی اور اگلے روز اتفاق سے سلویہ پلاتھ کی سطور کا ترجمہ؛ “موت کس قدر خُوب صُورت ہو گی← مزید پڑھیے
یہ 90 کی دہائی تھی ۔فلم “چڑھتا سورج” کا سیٹ لگا ہوا تھا ۔ اپنے وقت کے مشہور فلم ڈائریکٹر کی کہانی تھی, جس نے انڈسٹری کو لازوال فلمیں اور کئی سال تک راج کرنے والے اداکار دیے تھے۔ ایک← مزید پڑھیے