(دعا زہرا کے بابا مہدی علی کاظمی کے نام) “وجود مٹی مٹی ہوجائے تب جا کر بنیاد بنتی ہے. جان لو خاک میں مل کے ہی تعمیر ہوتی ہے ” بوڑھے باپ نے مٹی بھرے ہاتھوں سے گارا اٹھایا. بھٹے← مزید پڑھیے
سوال مسخ شدہ، بد زیب،اُوپرا چہرہ بد وضعی، بد زیبی کی تزئین میں اجبک کل کا حسن مثالی آ ج کا بد ہیئت، بے ڈھنگا بول آ ئینے، کیا پیری کا یہی ہے چہرہ؟ جواب حجریات سے باہر نکلو، دیکھو← مزید پڑھیے
افسانے پر تبصرہ۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل اصحاب کہف گہری نیند سے جاگے اور کچھ خریدنے بازار گئے تو انہیں شہر کے لوگوں نے بتایا کہ ان کے سکے پرانے اور متروک ہو چکے ہیں۔یہ بات سن کر اصحاب کہف کو اندازہ← مزید پڑھیے
ہوناں ( Hunan ) صوبے سے مسٹر چھن ( Chen ) میرے واپس ایوو آنے کے بعد بھی رابطے میں رہے ۔ مسٹر چھن ( Chen ) کا پروگرام سردار صاحب کے مائننگ پروجیکٹ میں انوسمنٹ کرنے کا تھا ۔← مزید پڑھیے
بلال بلال جلدی اٹھو! میں نے پریشانی میں، بخار میں بے سدھ سوتے بلال کو بے اختیار جھنجوڑ دیا۔ بلال ہڑبڑا کر اٹھ تو گیا مگر کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔ میں نے اپنے آپ پر قابو رکھتے ہوئے← مزید پڑھیے
ایک ذاتی تاثر گذشتہ صدی کی ۱۹۵۰ء کی دہائی میں جب ابھی میں ایم اے (انگریزی ادبیات) کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا تو کئی بار یہ خیال ذہن میں جاگزیں ہوتا ہوا محسوس ہوتا تھا کہ انگریزی کی← مزید پڑھیے
سید محمد تقی اور رئیس امروہی کے تذکرے کے بغیر کراچی کی تہذیبی اور مجلسی زندگی کا ذکر نامکمل رہے گا۔لہذاا س موقع کی مناسبت سے اس احوال کو میں بیان کردینا چاہتا ہوں۔ وہ چار بھائی تھے۔ سب سے← مزید پڑھیے
وقت کا بوڑھا جِپسی یہ کہتا ہے مجھ سے لوگ جو اتنی چلدی بؤرھے ہو جاتے ہیں تو کیسے لگنے لگتے ہیں! رخساروں پر زردی۔۔۔آنکھوں کے نیچے بد رنگ گڑھے سے اورآنکھوں کے دائیں بائیں کسی پرندے کے پہنجے کے← مزید پڑھیے
مجھے نہیں معلوم ہو سکا کہ کہاں سے تھوڑے تھوڑے دنوں کے بعد میرے بیوی کی سہیلیوں کی لسٹ میں کوئی نہ کوئی نئی انٹری ہوتی رہتی اور مجھے اس کا علم بھی شام کو گھر پہنچ کر ہوتا کہ← مزید پڑھیے
اس دشت الفت میں جنوں کے رنگ بھرے شباب دیکھے۔ مدھ بھری آنکھوں میں ڈوبتے ابھرتے خواب دیکھے۔ بے برگ و ثمر چاہتوں کے سراب دیکھے۔ مخملی پیکر رعنائیاں جن کی ریشمی پوشاک کو شرمسار کریں ناگ منی منہ میں← مزید پڑھیے
ہمارے دماغ کے کئی پیچیدہ عوامل میں سے ایک ہمیں خوش فہمیوں میں مبتلا رکھنا بھی ہے۔ نفسیات کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جب آپ شیشہ دیکھتے ہیں یا اپنی تصویر دیکھتے ہیں تو آپ کا دماغ اسے حقیقت← مزید پڑھیے
پربت کی مخمور پون محسوس کرے ماٹی کا بدن تو کچے سے کچنار کنول کے ، پات پہ اترے چاند کی ،البیلی سی کرن تب من کا پپیہا ، بول اُٹھے الہڑ سا کوئی بے داغ سخن تب مست چناروں← مزید پڑھیے
سو برس کا میں کب تھا، منشی ِ وقت؟ کب نہیں تھے؟ ذرا بتاؤ تو تم یقیناً کہو گے، بچپن میں کھیلنے کودنے میں وقت کٹا جب شباب آیا تو ؟۔۔کہو، ہاں کہو کیا برومند، شیر مست ہوئے؟ کیا جفا← مزید پڑھیے
شاید اطالویوں سے پہلے بھی کسی نے ناول نماچیز لکھی ہو۔مگر باقاعدہ اس صنف کی داغ بیل کاسرا انہی کے سر باندھ دیا گیاہے۔اظہار ذات کے سوطریقے ہیں۔ناول اُن میں سے ایک ہے۔ہاں ادیب کااظہار بیاں صرف اُس کی ذات← مزید پڑھیے
چند سطریں ، کچھ جملے ،چند اک لفظ ہیں جو کہ بھنور بنے ہیں نظر دریچوں درزوں سے چھن چھن کر آتی جذبوں کی اک، تیز شعاع میں اندھی خواہش کے ذرّوں کو رینگتا اور مسلسل، اُڑتا ہردم شور مچاتا← مزید پڑھیے
لکھا کرے کوئی احکام ِ طالع ِ مولود کسے خبر ہے کہ واں جُنبش ِ قلم کیا ہے (غالب) —————— ستیہ پال آنند “لکھا کرے کوئی احکام ِ طالع ِ مولود” حضور، “کوئی” سے آخر مراد کیا ہے یہاں؟ مر← مزید پڑھیے
صبح اٹھے تو انگشت شہادت کے ساتھ والی درمیانی انگلی میں سوجن تھی۔ ساتھ میں ہلکا ہلکا درد بھی تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ چوٹ لگی ہے۔ اس سے پچھلی صبح ایسا ہی ہلکا درد داہنے ٹخنے میں بھی تھا← مزید پڑھیے
اعلان ہوا کہ شہر کو آزاد کرا لیا گیا ہے، دشمن کو مار بھگا دیا گیا ہے، بارودی سرنگیں شہر کا ہر کونہ ہر عمارت چھان چھان کر نکال دی گئیں ہیں۔ سخت جان مگر نرم چہرے کی حامل چالیس← مزید پڑھیے
مراکش سے عربی ترجمے میں پبلش ہونے والی یہ کتاب دراصل آج سے صدی پہلے کی یاد داشتیں ہیں, جو برطانوی صحافی و مصور لارنس ہیرس Lawrence Harris نے لکھی تھیں، اس کتاب کا نام تھا۔ With Mulai Hafid At← مزید پڑھیے
سنیے ، ذرا رکیے اور غور فرمائیے۔۔خدا نے انسان کی تخلیق اور پھر اسے پروان چڑھانے کے لیے کیا اسکیم اختیار کی ؟ اس اسکیم میں آپکا کردار کیا ہے ؟ اور کیا آپ یہ کردار صحیح معنوں میں ادا← مزید پڑھیے