ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 79 )

بغاوت سے پچھتاوے تک(دوم،آخری حصّہ)۔۔افتخار بلوچ

کنول کے لیے اپنے خاوند کو برداشت کرنا بہت مشکل ہو گیا اور اس کا دل آصف کی باتوں میں لگنے لگا۔ آصف بھی ہر سوچ کے پردے پر کنول کو خوش کرنے کے کردار تخلیق کرتا رہتا۔ یوں زندگی←  مزید پڑھیے

بہاؤ(مستنصر حسین تارڑ)-تبصرہ/ظفر اقبال وٹو

کیا یہ ممکن ہے کہ ایک گرم رات کو آپ سائیڈ ٹیبل پر پڑے گلاس کو پانی پینے کے لئے ہاتھ لگائیں اور گلاس کی ٹھنڈک کے نشان سے یہ احساس ہو کہ بیرونی حصے میں پانی کی ٹھنڈ یا←  مزید پڑھیے

غالب پر ایک نظر ثانی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گر بہ معنی نہ رسی جلوہ ٔ صورت چہ کم است خم ِ زلف و شکن طرف ِ کلاہے دریاب غالبؔ کی نیک روح سے معذرت کے ساتھ کہ اس نظم میں اس کمترین شاعر ستیہ پال آنند نے غالبؔ←  مزید پڑھیے

بغاوت سے پچھتاوے تک(حصّہ اوّل)۔۔افتخار بلوچ

“یار کم از کم اتنا تو سوچو کہ اگر کنول نے موبائل دیکھ لیا تو تمہارے گھر قیامت آ جائے گی اور میں تمہیں پریشان نہیں دیکھ سکتی” سیما نے عاشر کا ہاتھ دباتے ہوئے بڑی اضطراری انداز  سے کہا۔۔۔←  مزید پڑھیے

شاہ دولے کے چوہے۔۔شاہین کمال

میرا نام رخشندہ بٹ ہے۔ اسی سال میں نے گورنمنٹ ڈگری کالج سے بی اے کیا ہے۔ خاندان میرا کچھ خاص بڑا نہیں، بےبے، ابا ،دو بھائی اور دو بہنیں۔ میرا یعنی رخشندہ کا نمبر دوسرا ہے، پہلے بھائی آفتاب،←  مزید پڑھیے

​سنسکرت کی “شِشو کتھائیں” (بچوں کی کہانیاں)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بادل کی آنکھوں میں آنسو بادل کی آنکھوں میں جلتے گنتی کے کچھ آنسو ہی تھے ڈھلک گئے تو اس کو راحت کا کچھ کچھ احساس ہوا، پر نیچے دھرتی پر تو جیسے آگ لگ گئی ایک جھڑی سے دھوپ←  مزید پڑھیے

خالد سعید کا جنت سے میرے نام ایک خط۔۔سیّد علی نقوی

حاجی صاحب آداب! تم سے آخری ملاقات 23 اپریل کو ہوئی تھی اسکے بعد نقاہت بڑھتی گئی اور کب میں تھکن سے نڈھال ہو گیا معلوم ہی نہیں ہوا، آوازیں آتی رہیں کبھی علی اطہر کی تو کبھی تاری (طارق←  مزید پڑھیے

مکتوبی ادب اور ایپس ٹولری ناول ”پاپی“۔۔ نعیم اشرف

کون جانتا تھا کہ ای میل کے توسط سے مکتوبی ادب‘ کا جو سلسلہ، دو سال قبل ”درویشوں کا ڈیرہ“ سے شروع ہوا تھا۔ایک دن سات کتابوں کی شکل میں انگریزی و اردو ادب کے اُفق پر ایک درخشاں قوسِ←  مزید پڑھیے

کُونج کنواری۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

میں ہوتا اس دور میں تو سلوا ـ ن کو اتنا کہہ ہی دیتا چودہ برس کی کونج کنواری ٹھنڈی آگ کو اس گھر میں مت لاؤ، راجہ جس میں بارہ تیرہ برس کا ایک کھلندڑا بالک بھی رہتا ہے←  مزید پڑھیے

چیخ۔۔سلیم مرزا

چیخ۔۔سلیم مرزا/میری موٹر سا ئیکل  کے ساتھ اتنی بُری ہوچکی ہے کہ اب ہم دونوں ایک جیسے لگنے لگے ہیں ۔جیسے میرے گوڈوں سے اٹھتے وقت کڑاکا نکلتا ہے ویسے ہی اس کو گیئر لگائیں تو کڑاکے نکلتے ہیں ۔←  مزید پڑھیے

گیارہ سروں والا اک راونؔ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

دس سر والے راونؔ کے کندھوں پر میں نے اپنا سر بھی ٹانک دیا ہے اب دیکھیں، گیارہ سر والے نئے نویلے شکتی مان راون کو ہرانے کون آئے گا؟ رامؔ بھلا کیسے کاٹے گا راون کے دس کے دس←  مزید پڑھیے

سو لفظ: انصاف/ذیشان محمود

آپ باہر عدالت کے خلاف کیا کہتے پھرتے ہیں؟ جناب صرف تاریخ پر  تاریخ ملتی ہے۔ اب ایک لفظ بھی کہا تو توہین عدالت شمار ہوگا۔ لیکن جناب انصاف۔۔۔ تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم انصاف نہیں کرتے؟ جناب←  مزید پڑھیے

طوفان آسا عشق۔۔سیّد محمد زاہد

سلیم ہوٹل کی لابی میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا۔ دو گھنٹے گزر چکے تھے۔ ایک پل کے لیے بھی اس کی نگاہیں مرکزی دروازے سے نہیں ہٹی تھیں۔ سگریٹ پر سگریٹ پھونکے جا رہا تھا۔ جوں جوں وقت←  مزید پڑھیے

میرے یوسف کنعاں۔۔شاہین کمال

امی کے گھر سے یہ دستور رہا ہے کہ جس دن جس بچے کی سالگرہ ہوتی، اس دن اس بچے کا پسندیدہ کھانا پکتا اور امی اس کا صدقہ نکالا کرتی تھیں۔ اپنے گھر میں جاری اس رسم میں، میں←  مزید پڑھیے

ڈاکٹر مشکور حسین یاد کی سلام نگاری فکر و فن کے آئینے میں۔۔۔ سید شاہ زمان شمسی

قیام پاکستان کے بعد اردو کے سلام نگاروں نے سادہ زبان کے استعمال کے باوجود بڑے معنیٰ خیز اور قابلِ قدر سلاموں کا ذخیرہ مہیا کیا ہے۔ یاد صاحب کے سلاموں کا مطالعہ کرتے وقت یہ محسوس ہوا کہ انھوں←  مزید پڑھیے

سب سے آخری مسکراہٹ۔۔ناصر خان ناصر

تپتی دوپہر کی کڑی دھوپ میں پسینے سے شرابور ایک بڑھیا پچھلی سیڑھیوں کے پاس بیچارگی کی تصویر بنی ہوئی کھڑی تھی اور ملتمس نگاہوں سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی۔ کئی  بار اس نے اپنی کھوئی  ہوئی  طاقت جمع←  مزید پڑھیے

مرے تھے جن کے لیے(2،آخری قسط)۔۔شاہین کمال

ایک دن بلقیس کچے گوشت کی بریانی اور میری پسندیدہ پڈنگ بنا کر لائی۔ میں نے اس کے ہاتھوں کے ذائقے کی تعریف کی تو خوب ہنسی اور کہنے لگی سب قادر سے سیکھا ہے کہ ان کی خواہش شیف←  مزید پڑھیے

مَرے تھے جن کے لیے(1)۔۔شاہین کمال

سترہویں فلور پر میرے سامنے والا خالی فلیٹ، کل شام آباد ہو گیا۔ بچوں کی چہکار سے بچوں والا گھر معلوم پڑتا ہے۔ کانوں میں اڑتی اڑتی آوازوں نے جہاں رس گھولا، وہی جی بھی شاد ہوا کہ گفتگو میں←  مزید پڑھیے

عظیم ہمالیہ کے حضور -جاوید خان/تبصرہ : نقی اشرف

کرونا کی وبا سے قبل وطن یاترا کو گیا تو اپنے ہاں کے دو لکھاریوں قمر رحیم اور جاوید خان سے پہلی مرتبہ ملاقات کا موقع ملا۔ دونوں احباب کی تحریریں پڑھتا رہتا تھا اور سوشل میڈیا کی وجہ سے←  مزید پڑھیے

ماسی(خاکہ)۔۔ جاوید خان

ماسی کابڑابیٹاایک حادثے میں جیل چلاگیاتھا۔ وہ ایک بڑی سفید دانوں والی تسبیح پر ختم شریف پڑھا کرتی تھی۔یہ ختم شریف ایک لاکھ کلمہ پاک تھا۔ جسے انھوں نے پورا کرنا تھا۔ماسی کو یقین تھا کہ اس ختم شریف کی برکت سے اِن کابیٹا مشکل سے نکل آئے گا←  مزید پڑھیے